ایک زمانہ تھا جب لاہور کے زمان پارک کے دروازوں کے سامنے نعرے، کیمرے اور وہ ہجوم جسے معلوم نہ تھا کہ آیا وہ کسی سیاست کی بغاوت کا حصہ ہے یا کسی خودفریبی کے میلے میں شریک۔، عدالتوں کے دروازے بھی اسی شور میں گم تھے،حکومت وہ کر رہے تھے جو گورننس اور مسائل کی نوعیت سے واقف نہ تھے۔ ریاست کی رٹ ایسے تحلیل ہو رہی تھی جیسے سورج غروب ہوتے وقت دھند میں کھو جائے۔انہی دنوں ایک شخصیت کے سر پر منصب کی دستار رکھی گئی۔ لوگ حیران ہوئے کہ ریٹائرمنٹ کے دہانے پر کھڑا یہ شخص، قدرت کے فیصلے سے فیلڈ مارشل کے لقب تک کیسے جا پہنچا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ اس تقرر کے پیچھے شاید تقدیر کا ایک تدبّری راز چھپا تھا کہ کوئی تو ہو جو اس بدنظمی کے سمندر میں نظم کی لہر پیدا کرے۔
یہ وہ دن تھے جب کاروباری طبقہ بیرونِ ملک جا رہا تھا، روپے کی قدر ہر صبح ایک نئے زوال کا اعلان کرتی اور قانون کی حکمرانی محض الفاظ کا کھیل بن چکی تھی۔ پولیس کی گاڑیوں پر حملے، عدالتوں کے باہر جلوس اور فیصلوں پر ہجوم کا دباؤ۔ ریاست ایک تماشا بن چکی تھی۔ ایسے میں اگر کسی نے اس انتشار کو روکا، تو یہ حقیقت ہے کہ اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ہی ملتا ہے۔ان کی آمد نے سب سے پہلے قانون کا خوف بحال کیا۔ پنجاب میں برسوں سے جمی غنڈہ گردی، جس کی جڑیں تھانے، دفتر اور سیاست تک پھیلی ہوئی تھیں، اس پر ضرب لگی۔
یہ نظم و ضبط کا دور ہے۔فوج میں ایک لیفٹیننٹ سے جنرل بننے تک جس نظم کا سبق پڑھایا جاتا ہے، اس کا عکس اب حکومتی نظم میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ فیلڈ مارشل نے اپنے ادارہ جاتی تجربے کو سول نظام میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات شاید وہی سمجھ سکتا ہے جو جانتا ہو کہ ڈسپلن اور وژن ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ سیاست کہاں کھڑی ہے؟
ستائیسویں آئینی ترمیم پر جاری شور میں اصل ہدف صدر کے استثنیٰ کا معاملہ بنا ہوا ہے۔ ہر طبقہ بول رہا ہے کہ استثنیٰ کیوں؟ یہ قوم زخم کھائے ہوئے ہے ۔ اسے وہ زمانے یاد ہیں جب صدرِ مملکت کے عہدے پر بیٹھے افراد نے آئین کو اپنی سہولت کے مطابق موڑا۔ آصف زرداری کے ماضی نے سیاست کی وہ مایوسی پیدا کی جس نے عوام کو عمران خان جیسے نعرے بازوں کی طرف دھکیلا۔سندھ میں آج بھی مسائل ہیں، لوگوں کو شکایت ہے کہ پچانوے فیصد فنڈز کھا لئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کا ذمہ دار وہاں کی حکمران جماعت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ایسے میں اسی جماعت کے رہنما کو چاہے بطور صدر استثنیٰ ملے، سوال اٹھیں گے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اگر اپنا استثنیٰ خود واپس نہ لیتے تو تاریخ انہیںکیسے یاد رکھتی؟ انہوں نے استثنیٰ قبول نہ کرکے اچھا کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ آئین کا تقدس تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب اس کے سب فریق قانون کے سامنے برابر کھڑے ہوں۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں فیلڈ مارشل کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
ملک کو بقا کے اس موڑ پر ایک ایسے ہاتھ کی ضرورت تھی جو کم از کم امن، قانون اور ادارے کی ساکھ کو بحال کر سکے۔ سیاست دانوں کے جھگڑوں نے اداروں کو کمزور کیا، جبکہ موجودہ نظم نے انہیں متوازن بنایا۔دیکھیے،سعودی عرب، چین اور روس کے ماڈل پر اکثر اعتراض ہوتا ہے کہ وہاں جمہوریت نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں میں عام آدمی کو جو کچھ میسر ہے روٹی، صحت، تعلیم اور امن ، وہ ہمارے ہاں خواب ہے۔ چین کا مزدور اگر اپنے حصے کا سکون پا سکتا ہے تو اس کے پیچھے قانون کی غیر متزلزل گرفت ہے۔ روس میں نظم ہے، سزا ہے، اور ریاست کا احترام ہے۔ سعودی عرب میں بادشاہت ہے مگر شہری کو انصاف اور تحفظ حاصل ہے۔
پاکستان میں الٹی تصویر ہے۔ہم نے ہر ایم پی اے اور ایم این اے کو بادشاہ بنا رکھا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ان کے ووٹوں کا محتاج، وہ اپنے ووٹروں کے مقدمات ختم کراتے، تبادلوں کے عوض سفارشیں بیچتے ہیں۔ تھانوں اور دفاتر کا کاروبار چلتا ہے۔ نچلی سطح کے نمائندے صوبے کے مالک بن گئے، مگر عوام محروم ہی رہے۔سندھ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ نوّے فیصد عوامی فنڈز خوردبرد ہو جاتے ہیں۔ کراچی جیسے شہر کی سڑکیں ٹوٹی ہیں، گلیاں گندی، جرائم عروج پر۔ بلوچستان میں محرومی دہائیوں سے ایک صدی کی صورت اختیار کر چکی۔ خیبرپختونخوا میں نظم ٹوٹا، ادارے غیر فعال ہوئے اور سیاسی انتقام نے پولیس تک کو تقسیم کر دیا۔ اس منظرنامے میں اگر پنجاب میں کچھ بہتری دکھائی دیتی ہے تو یہ کسی سیاسی جماعت کا کمال نہیں، ’’انتظامی وژن‘‘ کا نتیجہ ہے۔ پولیس میں سفارشی کلچر کم ہوا ہے، افسران نے اپنی رائے سے فیصلے کرنا شروع کیے۔ ترقیاتی منصوبے اگرچہ زیادہ نمایاں نہیں، مگر امن و امان کی فضا نے کاروبار کو سہارا دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت میں استحکام آ گیا ہے ، کم از کم فیصلہ سازوں کے درمیان لڑائی ختم ہوئی۔کچھ لوگ فیلڈ مارشل کے کردار پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ یہ غیر سیاسی مداخلت ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بحران کے وقت قیادت کی تعریف بدل جاتی ہے۔ جو بحران کے دور میں نظم لائے، وہ لیڈر کہلاتا ہے، خواہ اس کے پاس وردی ہو یا دستار۔
ہماری قوم بری نہیں، مگر اسے سمت دینے والا اچھا رہنما نہیں ملا ہے۔ سیاست دانوں نے عوام کو تقسیم کیا، اداروں نے خود کو محدود کیا اور میڈیا نے نعرے بیچ کر بصیرت کھو دی۔ ایسے میں اگر کسی ایک شخص نے انتشار کم کیا اور ریاست کو دوبارہ مرکزیت دی تو اسے اعتراف کی صورت میں یاد رکھنا انصاف ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ویژن یہ ہے کہ ملک میں ریاست کی رٹ بحال ہو، غنڈہ گردی ختم ہو اور قانون سب پر یکساں نافذ ہو۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ قومیں ڈنڈے سے نہیں، نظام سے بنتی ہیں مگر جب نظام ہی بگڑ جائے تو پہلا قدم ہمیشہ ڈنڈا ہی ہوتا ہے۔آج اگر کاروباری طبقہ واپس آ رہا ہے، عدالتیں خاموش دباؤ سے آزاد ہو رہی ہیں اور سرکاری دفتر میں حکم کے بجائے خدمت کا رجحان جنم لے رہا ہے تو یہ اسی نظم کی برکت ہے۔
ستائسویں ترمیم اس سمت میں پہلا قدم ہے تو ہمیں اس کی روح کو سمجھنا ہوگا۔ استثنیٰ کی مخالفت اپنی جگہ درست، مگر استحکام کے لمحے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔قصہ بس اتنا ہے کہ جس قوم نے قانون سے بھاگنے والوں کو رہنما بنایا، اسے کبھی وہ منزل نہیں مل سکتی جہاں نظم اور سکون ساتھ چلیں۔