Wed, September 16, 2026

معرکہ حق کے بعد

معرکہ حق کے بعد

معرکہ حق کے ایک سالہ التوائے زمانی کے بعد ریاستِ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی جانب سے صادر ہونے والے بیانات نے نہ صرف خطہ جنوبی ایشیا کے تزویراتی و جغرافیائی سیاسی تناظر کو ایک نو آئینی تعبیر عطا کی ہے بلکہ قوتِ بازدار، نفسیاتی غلبہ، ہمہ جہتی عسکری امتزاج اور عصری جنگی نظریات کے متعدد ابواب کو بھی ازسرِ نو علمی و فکری مناقشے کا محور بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی حالیہ گفتگوات محض روایتی عسکری خطابت یا جذباتی اظہارِ قوت نہیں بلکہ ایک منظم قومی بیانیے کی ایسی فکری تشکیل محسوس ہوتی ہیں جس کے ذریعے ریاستِ پاکستان اپنے دفاعی عزم، تزویراتی ثقاہت اور نفسیاتی تفوق کو داخلی و بین الاقوامی دونوں سطحوں پر مستحکم اور ناقابلِ تردید بنانا چاہتی ہے۔
اس مجموعہ بیانات کا سب سے قابلِ التفات پہلو یہ ہے کہ پاکستانی عسکری قیادت نے پہلی مرتبہ نسبتاً غیر مبہم انداز میں کثیرالجہتی جنگی حکمتِ عملی کو اپنی دفاعی فکر کے مرکزی ستون کے طور پر پیش کیا ہے۔ جدید عسکریات میں یہ تصور اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ جنگ اب محض سرحدی محاذ آرائی، توپ خانے اور میزائل ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ فضائی غلبہ، بحری تسلط، سائبر خلا ، اطلاعاتی یلغار، برقیاتی محاذ آرائی، مصنوعی ذہانت، ادراکی اثراندازی اور سفارتی دباو¿ سب ایک مربوط جنگی ساخت میں مدغم ہو چکے ہیں۔ چنانچہ جب ڈی جی آئی ایس پی آر یہ کہتے ہیں کہ “جو کچھ بھارت نے دیکھا وہ ہماری مجموعی قوت کا صرف دس سے پندرہ فیصد تھا ” تو اس اظہار کا مقصود صرف عسکری اعتماد کی نمائندگی نہیں بلکہ ایک نہایت دقیق اور حساب شدہ تزویراتی ابلاغ ہے جس کے ذریعے مخالف فریق کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس اب بھی ایسی مخفی صلاحیتیں اور غیر اعلانیہ عسکری امکانات موجود ہیں جن کا اظہار ابھی باقی ہے۔
جنوبی ایشیا کی عسکری و سیاسی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ اس خطے میں جنگیں صرف عسکری قوت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ نفسیاتی غلبے، ذرائع ابلاغ کے بیانیاتی حربوں اور عالمی سفارتی مداخلت کے ذریعے بھی لڑی جاتی رہی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ حالیہ پاکستانی بیانات میں “غرور کو خاکستر کرنے”، “جنگ کی جہت تبدیل کر دینے” اور “بازدارانہ توازن کو ناقابلِ تسخیر بنانے” جیسی تعبیرات نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ درحقیقت پاکستان یہ تاثر قائم کرنا چاہتا ہے کہ اس نے نہ صرف اپنی روایتی دفاعی استعداد کو برقرار رکھا بلکہ بھارت کے اس مفروضے کو بھی متزلزل کر دیا کہ محدود عسکری کارروائیوں کے ذریعے پاکستان پر یکطرفہ دباو¿ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر واقعی پاکستان نے فضائی، برقیاتی اور سائبر محاذوں پر بھارت کو نمایاں نقصان سے دوچار کیا، جیسا کہ پاک فضائیہ کے افسران دعویٰ کر رہے ہیں، تو یہ امر جنوبی ایشیا میں قوت کے توازن کے لیے ایک فیصلہ کن علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاک فضائیہ کی جانب سے چار داسالٹ رافیل سمیت متعدد بھارتی جنگی طیاروں کو تباہ کرنے کے دعوے نے بھی عسکری و تزویراتی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے۔ اگرچہ جنگی حالات میں متحارب فریقین کے دعوو¿ں کی آزادانہ توثیق ہمیشہ دشوار رہتی ہے، تاہم اس نوع کے بیانات بذاتِ خود نفسیاتی جنگ کے ایک منظم باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جدید دنیا میں عسکری تصادم کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ ادراکی تشکیل اور تاثر سازی اکثر میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی مادی کامیابی جتنی ہی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل اس بیانیے کو تقویت دے رہا ہے کہ اس نے نہ صرف دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ اسے تزویراتی سبکی اور نفسیاتی اضطراب سے بھی دوچار کیا۔
ایک نہایت اہم نکتہ وہ بھی ہے جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو جوہری ریاستوں کے درمیان مکمل جنگ کو “پاگل پن” سے تعبیر کیا۔ یہ جملہ دراصل پاکستان کے اس دیرینہ تزویراتی مو¿قف کی توسیع ہے جس کے مطابق جنوبی ایشیا میں ہمہ گیر جنگ کسی بھی فریق کے حق میں سودمند ثابت نہیں ہوسکتی۔ جوہری بازدار قوت کی موجودگی میں دونوں ممالک ایک ایسے نازک توازن میں مقید ہیں جہاں محدود نوعیت کی جھڑپیں تو ممکن ہیں مگر مکمل جنگ پورے خطے کو تباہی، معاشی انہدام اور انسانی المیے کے ایک ہولناک دائرے میں دھکیل سکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان ایک جانب عسکری آمادگی اور دفاعی تیاری کا اظہار کرتا ہے تو دوسری جانب جنگ کے ناقابلِ تصور نتائج کی جانب بھی توجہ مبذول کراتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں امریکی کردار کا حوالہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِ داخلہ کی جانب سے یہ کہنا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو “بڑے نقصان” سے بچایا، دراصل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بحران اب محض علاقائی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ عالمی طاقتیں بھی ان کے ممکنہ پھیلاو¿ اور شدت کے اثرات سے شدید تشویش رکھتی ہیں۔ امریکہ، چین، روس اور خلیجی ریاستیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مکمل عسکری تصادم میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، بحری گزرگاہوں اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستانی عسکری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کو پاکستان کی سلامتی کے ساتھ منسلک قرار دینا بھی ایک اہم سفارتی و نظریاتی اشارہ ہے۔ سعودی عریبیہ اور پاکستان کے تعلقات محض مذہبی قربت یا معاشی اشتراک تک محدود نہیں بلکہ دفاعی اشتراک، جغرافیائی مفادات اور نظریاتی ہم آہنگی پر بھی استوار ہیں۔ حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستانی سلامتی سے وابستہ قرار دینا دراصل ایک ایسے دیرینہ تزویراتی ربط کی توثیق ہے جو عشروں پر محیط دفاعی تعاون اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔
اسی طرح افغانستان سے متعلق بیانات بھی گہرے تذویراتی مضمرات کے حامل ہیں۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ مو¿قف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب داخلی سلامتی کو محض مقامی شورش یا دہشت گردی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی سلامتی چیلنج کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ دہشت گردی کو اسلام سے لاتعلق قرار دینا بھی اسی ریاستی بیانیے کا حصہ ہے جس کے ذریعے مذہبی انتہاپسندی اور مسلح تشدد کے مابین ایک واضح حدِ فاصل قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان تمام بیانات کے درمیان ایک اور اہم پہلو داخلی اعتماد اور قومی وحدت کا اظہار ہے۔ ”فوج اور عوام کے درمیان کوئی فاصلہ پیدا نہیں کر سکتا “ جیسے بیانات دراصل قومی یکجہتی کے اس بیانیے کو مستحکم کرنے کی کوشش ہیں جو جدید اطلاعاتی جنگ، سماجی ذرائع ابلاغ کے پراپیگنڈے اور نفسیاتی اثراندازی کے عہد میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
معرکہ حق کے ایک سال بعد پاکستان جس انداز میں اپنی عسکری صلاحیت، دفاعی خود اعتمادی، سفارتی مرکزیت اور نفسیاتی فوقیت کو پیش کر رہا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا کی سیاست مزید پیچیدہ، حساس اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اب جنگ صرف بارود، توپ اور میزائل کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ بیانیے، علم، اطلاعات، مصنوعی ذہانت، ادراکی تسلط اور ریاستی اعصاب کی جنگ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں طاقت کا حقیقی مفہوم صرف اسلحہ نہیں بلکہ وہ صلاحیت ہے جو دشمن کو جنگ کے آغاز سے قبل ہی اضطراب، خوف اور حساب کتاب پر مجبور کر دے۔

ٹیگز: