پاکستان اور بھارت کے صرف عوام ہی نہیں لکھاری اور دانشور بھی یہی چاہتے تھے دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ سے ہر ممکن حد تک گریز کیا جانا چاہیے ، پاکستان کے تو سیاسی و اصلی حکمران بھی یہی چاہتے تھے ، بلکہ موجودہ سیاسی حکمرانوں کی زیادہ بڑی خواہش تھی جنگ نہ ہو کیونکہ اس سے درندر مودی کے ساتھ اْن کے دیرینہ ذاتی تعلقات پر شاید زد پڑتی ، شْکرہے قدرت نے اْنہیں ایسی کسی آزمائش سے دو چار نہیں کیا جہاں اْنہیں یہ سوچنا پڑ جاتا ’’ ہْن کی کرئیے ؟‘‘ مودی نال اپنے تعلقات کیویں بچائیے ؟‘‘ جہاں تک دونوں ملکوں کے امن پسند لکھاریوں کا تعلق ہے ان میں بے شمار آپس میں رابطے میں تھے اور یہی چاہتے تھے جنگ سے گریز کیا جانا چاہیے ، کچھ بھارتی دانشوروں کو درندر مودی کے جنگی جنون پر تشویش تھی ، ادھر ہمارے شاعر ادیب اور دانشور بھی امن کی فاختاؤں کو چہچہاتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے ، ہمارے رحمان فارس انکم ٹیکس کے بڑے افسر ہیں لیکن اس سے بڑی شناخت اْن کی ایک بڑے شاعر کی ہے ، اْنہوں نے اپنے انداز میں بڑی محبت سے انڈیا کو ایک خوبصورت غزل کی صورت میں سمجھانے کی کوشش کی ہے وہ جنگ سے بچے ، بجائے اس کے وہ پاکستان کا کوئی’’جنگی ترانہ‘‘ لکھتے وہ چونکہ امن پسند اور محبتی انسان ہیں اْنہوں نے ایک غزل لکھی ، پتہ نہیں کیوں میں اس’’خوش فہمی‘‘ میں مبتلا ہوں اْن کی یہ انتہائی خوبصورت اور دلوں پر اثر کرنے والی یہ غزل درندر مودی جی نے بھی لازمی پڑھی ہوگی اور اْسی کے بعد امریکہ سے گزارش کی ہوگی وہ جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کرے ، پہلے ذرا آپ رحمان فارس کی یہ غزل پڑھیے۔۔
بہت سے کام رہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
کروڑوں لوگ بھوکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
کھلونوں والی عمروں میں انہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟
بڑے معصوم بچے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
پڑوسی یار جانے دو ، ہنسو اور مسکرانے دو
مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارا ممکن ہے ؟
کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟
پرندے دانہ چْگتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
چلو مل کر لڑیں ہم تم جہالت اور غْربت سے
بہت سپنے اْدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
سنبھالیں اْن کو مل جْل کر سکھائیں فن محبت کا
بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
ادھر لاھور اْدھر دلی، کہاں جائیں گے ہم فارس
یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اب جبکہ جنگ بندی ہو چکی ہے اور یہ دشمن ملک بھارت کی’’ نس بندی‘‘ کے بعد ہوئی ہے تو ہماری گزارش بھارت اور جنگی جنون میں مبتلا بھارتیوں سے بس اتنی ہے اپنی فطرت کے مطابق پنگے بازی سے آئندہ گریز کریں ، ابھی تو پاکستان کی ہلکی سی طاقت اْنہوں نے دیکھی ہے اور گھبرا گئے ہیں ، مزید کسی غلط فہمی میں اب اْنہیں نہیں رہنا چاہیے اور مسلسل الزام تراشیوں کے بجائے سیدھی طرح مذاکرات کے میز پر آنا چاہئے ، اپنے جنگی جنون پر ہمیشہ کے لیے قابو پا کر امن کی ایسی نئی راہیں قائم کرنی چاہئیں جس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہو ، بھارت نے کافی عرصے سے پاکستان کی طاقت نے نہیں دیکھی تھی ، نہ ہی کافی عرصے سے پاکستان کو کھلے عام اپنی طاقت دکھانے کا موقع ملا تھا ، پاکستان کے حوالے سے بھارت کی بے شمار غلط فہمیاں اب مستقل طور پر دْورہو جانی چاہئیں ، ابھی تو پاکستان نے چند ’’پٹاکے‘‘ چلائے اور انڈیا کا مْوتر نکل گیا ، اصل طاقت دکھانے کا پاکستان کو ابھی موقع ہی نہیں ملا ، بھارت شاید غلط فہمی میں مبتلا تھا حال ہی میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج خصوصاً پاک فضائیہ نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اْس سے یہ ثابت ہو گیا انفرادی سطح کی کچھ حماقتیں یا کمزوریاں پورے ادارے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتیں ، پاکستانیوں کو اپنی افواج پر فخر کرنے کا ایک اور موقع ملا ہے ، ممکن ہے’’انتشار پسند ٹولوں‘‘ کو دل ہی دل میں یہ بات ناگوار گزرے ، مگر بھارت کی طرح اْن کی طبیعت بھی صاف ضرور ہوگئی ہوگی ، اب اْنہیں بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ لوگوں کی آئین شکنیوں کو سامنے رکھ کے پورے ادارے پر وہ اگر چڑھائی کریں گے تو اْنہیں بھی اْسی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا جس طرح بھارت کو دیا گیا ہے ، دوسری طرف اب اْن زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے جو پچھلے ستر برسوں سے مسلسل اس ملک پر لگتے رہے ہیں ، اس مقصد کے لیے سوائے اس کے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں آئین کو اْس کی اصل حالت میں بحال فرما کر یہ فیصلہ کر لیا جائے اس میں آئندہ کسی قسم کی چھیڑ خانیاں نہیں کی جائیں گی کہ اس طرح ہم کسی طویل جنگ کے نتیجے میں بھی بھارت کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں ، اور دیگر بیشمار معاملات میں بھی اْس سے بہت آگے نکل سکتے ہیں۔