ایران اسرائیل جنگ میں بالآخر سیز فائر ہو گیا بہت اچھا ہوا۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی کیونکہ جنگ تو خود ایک بڑا مسئلہ ہے اب اس جنگ کا بغور مطالعہ کریں مسئلہ تلاش کرنے کی کوشش کریں تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اگر ایران کا ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کرنا غلط ہے تو جو ممالک اسے ایٹمی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں کیا وہ خود ایٹمی طاقت نہیں؟ درحقیقت اس جنگ کا مقصد کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کو یہ طاقت حاصل کرنے سے روکنا تھا اگر ایران ایک غیر اسلامی ریاست ہوتا تو اسرائیل کو کبھی اس کے ایٹمی طاقت ہونے سے کوئی تکلیف نہ ہوتی فری میسنز اور خفیہ طاقتیں آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے سے نیو ورلڈ آرڈر اور اس کے نفاذ کی تیاری کر رہے ہیں ان کے نیو ورلڈ آرڈر میں کسی بھی مسلمان ملک کے پاس ایٹم بم ہونے کا تصور نہیں ہے جب تک مسلمان ممالک ایٹمی اسلحے سے لیس ہوں گے تب تک صیہونیوں کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے اسرائیل عراق کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر چکا ہے اسی طرح انہوں نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کی بھی تیاری کی تھی لیکن یہ پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اب یہ گزشتہ بیس سال سے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں کبھی اس پر معاشی پابندیاں لگا کر کبھی اس پر کوئی نہ کوئی الزام لگا کر ان کی ہر ممکنہ کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طرح ان کو جوہری طاقت حاصل کرنے سے روکا جائے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے یہ ہمیشہ ناکام رہیں گے۔ ایران ایٹمی طاقت بنے گا اور اس کے بعد ترکی اور پھر ان شاء اللہ آذربائیجان بھی ایٹمی طاقت ہوں گے۔
اسرائیل نے اب تک صرف کمزور ممالک پر حملے کیے تھے جن کی معیشت کمزور تھی جن کے پاس جدید اسلحہ نہیں تھا جب اس نے ان ممالک میں خون کی کامیاب ہولی کھیلی تو سمجھ بیٹھا کہ یہ ایران کو بھی شکست دے سکتا ہے لیکن اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور اسے بھاری مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ بہت جلد بڑے ممالک اس جنگ کو روکنے کے لیے آ جائیں گے لیکن یہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب اسرائیل کی شکست یقینی ہو چکی ہوگی بدبختی کا عالم ملاحظہ فرمائیے کہ اگر ایران میں تباہی ہوتی رہتی ایران کی عمارتیں لوگ ٹیکنالوجی کا خاتمہ ہوتا رہتا تو کسی ملک نے اس جنگ کو روکنے کی کوشش نہیں کرنا تھی یہ بالکل وہی مشق دہرائی گئی جو دس مئی کو ہوا تھا جب ہندوستان نے پہلگام واقعہ کا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملہ کرنا چاہا تو بڑے ممالک کہہ رہے تھے کہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن جیسے ہی پاکستان ایئر فورس نے ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی ان کی ایک ہی وقت میں چھبیس مختلف سائٹس کو تباہ و برباد کر دیا تو فوراً عالمی طاقتیں میدان میں آگئیں کیونکہ وہ کسی صورت ہندوستان کو تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے خدانخواستہ اگر صورتحال اس کے برعکس ہوتی پاکستان کے بجائے ہندوستانی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو کسی نے اس جنگ کو رکوانے کے لیے نہیں آنا تھا ۔
بالکل اسی طرح اگر ایران میں تباہی ہوتی رہتی اس کا منہ توڑ بلکہ اس سے بھی سخت جواب نہ دیا جاتا تو کبھی اس جنگ کو ختم کرانے کی کوشش نہ کی جاتی اس عمل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں اپنا کوئی مقام بنانا ہے تو آپ کو ہر طرح کی جارحیت کا اس سے سو گنا بڑا جواب دینا ہوگا ۔
اس جنگ میں اسرائیل کو جو شکست ہوئی ہے میرا خیال ہے آئندہ کئی سال تک کسی مسلم ملک پر حملہ آور نہیں ہوگا جتنی بربادی اسرائیل کی ہو گئی ہے اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا میرے خیال میں وہ معاشی اور جنگی لحاظ سے دس سے پندرہ سال پیچھے چلا گیا ہے جو اس نے خود ساختہ اپنا خوف دنیا کے دلوں میں بٹھایا ہوا تھا وہ خاک میں مل گیا اس نے اپنے دفاعی نظام کے بارے میں ساری دنیا میں یہ تاثر دیا ہوا تھا کہ اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا اسرائیل سے زیادہ محفوظ ملک دنیا میں کوئی نہیں ہے ایرانی میزائلوں نے ان کے دفاعی نظام کی پہلی دوسری تیسری حتیٰ کہ ساری لائنیں چیر کر رکھ دیں اب یہ بالکل ایکسپوز ہو گیا ہے اب یہ کسی بھی ملک سے ٹیکنالوجی کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرے گا تو لوگ اس پر ہنسیں گے کیونکہ جس طرح ایران نے ان کے کئی شہروں کو برباد کیا ہے دنیا سے اس کی ٹیکنالوجی کا رعب دبدبہ ختم ہو گیا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی شکست ہے مستقبل قریب میں یمن شام فلسطین بھی اسے جوتے مارنے کے لیے تیار ہوں گے ۔
خیر جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اب اگر بات جنگ بندی پر آ گئی ہے تو ایران کو حوصلہ دکھانا ہوگا اس جنگ بندی معاہدے میں کبھی جوہری توانائی سے دستبرداری کی شرط نہ مانے اس وقت اسرائیل خوفزدہ ہے ان سے ایرانی نقصان اور شہداء کے قصاص اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر لینے کی شرط رکھیں اگر وہ شرطیں مانتا ہے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ سے میزائلوں کی بارش کر دیں ان کی تمام سرکاری غیر سرکاری ہائی رائز عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دے۔
اس جنگ بندی کو ہرگز مستقل نہ سمجھا جائے اسرائیلی خمیر میں یہ شامل ہے کہ وہ پھر سے بڑی جنگ کی تیاری کرے گا اس بار جو غلطیاں سامنے آئی ہیں انہیں دور کیا جائے گا اسلحہ اکٹھا کریں گے آئرن ڈوم کے میزائلوں کی بڑے پیمانے پر تیاری کریں گے جس دن یہ ایک لمبی جنگ کے لیے خود کو تیار کر لیں گے دوبارہ سے حملہ آور ہو جائیں گے ایران کے پاس بھی یہی وقت ہے کل سے ہی اپنے جوہری تجربوں کی تیاری شروع کر دے اور جتنی جلدی ممکن ہو ایٹمی دھماکے کر کے خود کو ایٹمی پاور ممالک کی فہرست میں شامل کرا لے میزائلوں کی تیاری ہزاروں کی بجائے اب لاکھوں کی تعداد میں کرے اور ہر دم خود کو ان کے حملے کے لیے تیار رکھے بہرحال اس جنگ میں ایران کو فتح مبارک ہو اب ایک فاتح قوم کی طرح اپنے ملک سے غداروں کا خاتمہ بھی کریں اور دوست دشمن کی پہچان بھی۔