امریکی صدرٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدروینسی، وزیرخارجہ کو روبیو اور وہائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف سوزی نے 9اور 10مئی کی درمیانی شب وزیراعظم شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیراعظم اور دیگر عہدیداروں نے مسلسل رابطوں کے بعد دونوں ملکوں میں سیز فائر کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ عمومی تاثر ہے پاکستان کی فوج اور فضائیہ نے بھارت کا بھرکس نکال دیا تھا نریندر مودی کی دہائی پر ٹرمپ نے یہ کوشش کی لیکن غورطلب ہے کہ صرف ایک دن پہلے تک پاکستان اور بھارت کو ہلکے پھلکے انداز میں جنگ سے گریز کے مشورے دیئے، بھارت کے فخر رافیل طیاروں کی تباہی پر بھی دونوں ممالک اپنے معاملات خودحل کریں کا بھاشن دینے والے ٹرمپ کو 9مئی کوہی خطے کی سلامتی کا درد کیوں اٹھا، اس پر پاکستان میں مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی، پورا یقین ہے آج میری بات کو دور کی کوڑی سمجھا جائے گا لیکن آنے والا کل اس کی توثیق کرے گا۔ غورطلب ہے بھارت کے ایئر بیس، طیارے، کنٹرول لائن پر چیک پوسٹیں ، میزائل سسٹم تباہ ہوئے، مگر امریکی پریشان نہیں ہوئے بلکہ یہ ان کے مفاد میں یوں ہے کہ اس طرح بھارت کا فرانس اور روس کی بجائے امریکہ پر انحصاربڑھے گا جو امریکی معیشت کیلئے آکسیجن ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے شیرجوانوں نے بھارت کے حملہ آور ڈرونز کی جو تباہی پھیری ہے امریکی اس سے پریشان ہوئے یہ ڈرونز اسرائیل نے فراہم کئے تھے ان سے صحیح کام لینے کیلئے اسرائیلی ماہرین بھی آئے تھے جن کی غزہ اور شام میں تباہ کاریوں نے پورے مشرقی وسطی میں دہشت پھیلا رکھی تھی، پاکستانی فوج کے ہاتھوں بڑی تعداد میں گرائے جانے سے عرب دنیا میں طاری ہیبت اور اسرائیلی عسکری برتری کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ مزید دس بارہ بھی گرادیئے جاتے تو اسرائیل کی ہوا بالکل ہی اکھڑ جاتی۔ امریکیوں کے یوں سرگرم ہونے کے حوالے سے سی این این نے جس خفیہ رپورٹ کا ذکر کیا ہے انتہائی قرین قیاس یہ رپورٹ یوں ہوسکتی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر اسرائیلی ڈرونز کے حملوں کو پاکستان اس جنگ میں اسرائیل کی باقاعدہ شرکت کو بنیاد بنا سکتا ہے ایسا ہوا تو اس کے شاہین اور غوری تل ابیب کا مزاج پوچھنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ جوں ہی یہ رپورٹ پہلے عالمی خفیہ ایجنسی نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کودی اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے فوراً صدر ٹرمپ کو ممکنہ سنگینی سے آگاہ کیا جس پر امریکیوں کی دوڑیں لگ گئیں۔اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکیوں کے لیے صورتحال کس قدر سنگین تھی کہ پاکستان کو سیز فائر پر آمادہ کرنے کیلئے پاکستان کی ’’نازک رگ‘‘ مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش بھی کردی بے شک اس طرح امریکہ نے بھارت کو فراہم کردیں مزید ڈرونزاور میزائل ضائع ہونے سے اور اسرائیل کونشانہ بننے سے ضرور بچا لیا لیکن پاکستانی شیرجوانوں نے جتنی تعداد میں اسرائیلی ڈرونز کا کباڑہ کیا ہے اس سے عربوں پر ان ڈرونز کی ہیبت میں کمی آنا فطری امر ہے اس سے یقیناً فلسطینیوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔
بہرحال اب سیز فائر ہوگیا ہے لیکن بلاخوف تردید اس حوالے سے مودی اینڈکمپنی نیک نیت بالکل نہیں ہیں۔ سیز فائر کے بعد مذاکرات پر آمادگی ہزار فیصد دھوکا اور پاکستان کی جانب سے مزید ٹھکائی سے بچنے کا حربہ ہے اب ہوگا یہ کہ اول تو مخلف حیلوں بہانوں سے چاہے گا کہ مذاکرات کی میزسجنے میں زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو اور اگر اسے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی پڑ گیا تو وہ مذاکرات کر بے ثمر کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کرے گا۔
یہ تجویز سے زیادہ خواہش ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے بھارتی اعلان کے جواب میں پاکستان کی جانب سے شملہ معاہدہ ختم کرنے کا جواعلان کیا گیا ہے اسے عملی شکل دیتے ہوئے کنٹرول لائن کو دوبارہ سیز فائر لائن کی حیثیت دے دی جائے ویسے بھی سیز فائر ہی ہوا ہے ۔
1971ء کی جنگ کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے مابین شملہ معاہدہ ہوا تب ہی آزادجموں وکشمیر مظفر آباد سے شائع ہونے والے میرواعظ محمداحمد کے ہفت روزہ تحریک کا ایڈیٹر تھا اس میں’’شملہ معاہدہ، توقعات اور ثمرات‘‘ کے عنوان سے لکھا تھا کہ ’’اندرا گاندھی نے مسئلہ کشمیر کو مستقل طورپر سرد خانے میں ڈالنے مقصد میں بڑی چالاکی سے کامیابی حاصل کرلی ہے‘‘ تب پاکستان کی وزارت امور کشمیر کی جانب سے ہفت روزہ تحریک اور مجھ پر شدید ردعمل کا جوطوفان آیا تھا میرواعظ محمداحمد، آزاد جموں وکشمیر کے سیکرٹری اطلاعات جی ایم پنڈت، ڈائریکٹر تعلقات عامہ احمد شمیم نے مؤثر دفاع کیا تھا، شملہ معاہدہ ختم ہونے سے مسئلہ کشمیر ’’دوطرفہ مذاکرات، کے چنگل سے نکل کر دوبارہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے کی راہ ہموارہوسکتی ہے کیونکہ اس طرح سلامتی کونسل کے ارکان اس بنیاد پرجان نہیں چھڑوا سکیں گے کہ تم دونوں نے مسئلہ کشمیر دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنے کا خود معاہدہ کررکھا ہے ہم کیا کرسکتے ہیں ۔یاد رہے شملہ معاہدہ کو عالمی ضمانت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی سندھ طاس معاہدہ کی طرح اس میں کوئی شق ہے کہ صرف دونوں فریقین کی رضامندی سے ہمارے ختم یا اس میں ردوبدل کیاجاسکتا ہے۔ اس معاہدہ کے حوالے سے 90ہزار پاکستانیوں کی بھارت سے واپسی اور کھیم کرن کا زیر قبضہ علاقہ واپس لینے کو’’مجبوری‘‘ قرار دیا گیا تھا جبکہ اس دلیل سے اس لیے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کے لئے 90ہزار جنگی قیدیوں کو قتل کرنا ممکن ہی نہیں تھا، جنیوا کنونشن کے تحت ان قیدیوں کو فرض کریں، روزانہ کھانا کھلانے پر پندرہ بیس روپے بھی خرچ ہوتے تو بھارت کی معیشت پر کتنا بوجھ تھا اس لئے ان کی پاکستان واپسی بھارت کے فائدے میں تھی دوسرے وہ جنگ میں قبضہ کئے جانے والا علاقہ جو غیر متنازعہ تھا اپنے قبضہ میں اس لیے نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ اس طرح جموں و کشمیر کے متنازع علاقہ پر قبضہ کا کیس کمزور ہو جاتا بھارت دوسروں کے علاقوں پر قابض کی حیثیت میں چلا جاتا۔ بہرحال اگر ممکن ہے تو شملہ معاہدہ سے جان چھڑوا کر مسئلہ کشمیر کو دوبارہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری بنایا جاسکتا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکی صدر ٹرمپ نے اس کی متنازع حیثیت کو اجاگر کردیا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کی جرأت وبہادری، پیشہ ورانہ اعلیٰ ترین مہارت اور مؤثر ترین حکمت عملی کی بدولت بھارت پر فتح مبین رب کریم کا فضل عظیم ہے لیکن ہردم چوکس رہناہوگا کہ بدترین مکاردشمن اسے ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کرسکے گا۔