Wed, September 16, 2026

قسم ہے صبح کے وقت یلغار کرنے والوں کی…

قسم ہے صبح کے وقت یلغار کرنے والوں کی…

خوش شکل، خوش اطوار و خوش گفتار امتیاز شیخ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ طبیعات میں بی ایس آنرز کی ڈگری لے رکھی ہے۔ بطورِ سیکنڈری سکول ٹیچر میرے رفیقِ کار رہے ہیں۔ نوجوان ہیں، حافظِ قرآن ہیں۔ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں تو دل موہ لیتے ہیں۔ میرے کالموں کے مستقل قاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے میسج چلتے رہتے ہیں۔ فیس بُک پر ان کا تازہ میسج دیکھا تو دِل باغ باغ ہو گیا۔ یہ قرآنِ پاک کی ۱۰۰ ویں سورۃ العٰدیٰت کی تیسری آیت کا ترجمہ ہے۔ "(قسم ہے)صبح کے وقت یلغار کرنے والوں (گھوڑوں ) کی ۔" میں نے اپنے آج کے کالم کا عنوان بھی یہ میسج (آیت ِ مبارکہ کا ترجمہ) رکھا ہے کہ اس کا تعلق میرے کالم کے موضوع ہفتہ ۱۰ اپریل کو بھارت کے خلاف پاکستانی مسلح افواج کے آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کے تحت کیے جانے والے جنگی اقدامات اور جنگی کارروائیوں سے جڑتا ہے۔ 
۱۲ ذی قعدہ ۱۴۴۶ھ ہفتہ ۱۰ مئی ۲۰۲۵ء کا دنِ ، صبح صادق(فجر) کا وقت، فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی اقتدا میں ربِ کریم کے حضور ایک طویل دعا کے بعد دشمن کے خلاف مسلح افواج کے آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کا آغاز ہوا، جب آواز سے پانچ گُنارفتار کے حامل فتح سیریز کے میزائل اپنے اہداف کے نشانے لینے کے لیے داغے جانے لگے، جب ہمارے جے ایف ۱۷ تھنڈر طیارے دشمن کے فوجی ٹھکانوں ، ہوائی اڈوں، ائیر بیسز کو نیست و نابود کرنے کے لیے فضائوں میں بلند ہوئے، جب ہماری دور مار توپوں نے دشمن کی فوجی چوکیوں، اسلحے کے ڈپوئوں پر گولے برسانا شروع کیے ۔ یہ اللہ کی طرف سے نصرت تھی، اس کا کرم تھا۔ اس کے پیارے حبیبؐ کی نظرِ کرم تھی، یہ بھارت کے خلاف شروع کیے جانے والے جنگی آپریشن کو " بُنیان مرَصُوص" کا الہامی نام دینے کی برکت تھی، یہ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی کی گھڑی تھی، یہ ہمارے عساکر ، ہمارے فوجی نوجوانوں اور ہمارے شاہینوں کی شجاعت ، دلیری، بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور جذبہ ِ شہادت کا اعجاز تھا یا ہمارے ازلی اور ابدی دشمن بھارت اور اُس کے تنگ نظر، متعصب اور کٹر ہندو وزیرِ اعظم نریندر مودی کے غرور اور تکبر کے خاک میں ملنے کا لمحہ تھا کہ صبح نمازِ فجر کے وقت سے اگلے پانچ گھنٹوں کے دوران بھارت کے چھبیس مقامات آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کا نشانہ بن چکے تھے۔ بھارتی سرحدو ں کے اندر، بھارتی فوجی اڈوں، ائیر بیسز اور ائیر ڈیفنس سسٹم ، اسلحے کے ڈپوئوں، سپلائی مرکز ، میزائل کے ٹھکانوں ، فوجی مراکز ، فوجی چوکیوں اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر وہ کچھ ہوا ، وہ تباہی اور بربادی پھیلی، وہ ڈر، خوف اور سراسیمگی حاوی ہوئی کہ بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کو ہی سانپ نہ سونگھ گیا بلکہ دنیا بھی حیران رہ گئی کہ آخر یہ کیا ہوا ہے اور ہو رہا ہے کہ پاکستان کا چلایا ہوا ہر ہتھیار، داغا ہوا ہر میزائل، فضا میں بلند کیا ہوا ہر ڈرون، توپ کا ہر گولہ، جنگی جہازوں سے لیا ہوا ہر نشانہ ٹھیک ٹھیک اپنے اہداف کو تباہی و بربادی سے دوچار کر رہا ہے۔ یہ کمال کی بات نہیں تھی کہ جہاں بھارت کے ۲۶ سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں بھارت کا ایس ۴۰۰ ائیر ڈیفنس سسٹم تباہ کر دیاگیا، اس کے ساتھ ملٹری سیٹلائٹ کو جام اور ۷۰ فیصد بجلی گرِڈز ناکارہ بنا دئیے گئے۔ بھارتی حکمران جنتا پارٹی کی آفیشل ویب سائٹ سمیت بھارت کی درجنوں ویب سائٹس ، ہزاروں سرکاری کیمرے اور ڈیٹا ہیک کر لیے گئے۔
آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کے تحت ۱۰ مئی کو پانچ گھنٹوں کے اندر بھارت میں جو تباہی اور بربادی پھیلی، جو خوف و ہراس پیدا ہوا اور بھارت کا غرور اور تکبر جس طرح خاک میں ملا، اس کی اوپر بیان کردہ تفصیل فرضی ، خیالی اور مبالغہ آرائی پر مبنی نہیں بلکہ جادو وُہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق بھارتی فوجی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے اپنی پریس بریفنگ میں اسے تسلیم کیا ہے۔ بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی (ANI) کی ویب سائٹ پر اس بریفنگ کی تفصیل موجود ہے۔ بھارتی فوجی ترجمان کہتی ہیں کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو کوئی ایک بج کر چالیس منٹ پر پاکستان نے ہماری مغربی سرحدوں پر حملہ کیا۔ اس نے اس میں ڈرونز، طویل مسافت تک مار کرنے والے میزائل اور جنگی طیارے استعمال کرتے ہوئے ہمارے ۲۶ سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس سے ہمارے اثاثوں ، فوجی ساز و سامان اور مراکز اور افرادی قوت کو نقصان پہنچا۔ انڈین ائیر فورس کے اودھم پور، بھوج، پٹھان کوٹ اور بھٹنڈہ کے ہوائی اڈے (ائیر بیسز) بطورِ خاص نشانہ بنے۔ بھارتی خبر رساں ایجنسی کی طرف سے بھارتی فوجی ترجمان کے بیان کا یہ حوالہ جہاں بھارت کی ہزیمت اور پسپائی کی داستان بیان کرنا نظر آتا ہے وہاں پاکستان کی طرف سے اور اس کے ساتھ بعض عالمی خبر رساں اداروں کی طرف سے پاکستان کے آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کے تحت کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کرنے اور دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے نا قابلِ تر دید اور ٹھوس دستاویزی ثبوت اور حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ بھارت کا سیز فائر پر آمادہ ہونا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آپریشن " بُنیان مرَصُوص" کے تحت پاکستان کے جوابی اقدامات نے اس کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے تو وہ جو اتنی اونچی ہوائوں میں اُڑ رہا تھا وہ زمین پر آ گیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سیز فائر کی پیشکش اُسے غنیمت نظر آنے لگی۔ 
پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں اللہ کریم کے کرم کے ساتھ صبر، استقامت، ثابت قدمی، جرأت، دلیری، بہادری، شجاعت، عزم و ہمت اور اپنی سپاہ کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارت کی بنا پر جو کامیابیاں سمیٹی ہیں بلا شبہ وہ سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہیں۔ میں یہاں میڈیا کے محاذپر ہمارے با خبر، مستند اور معتبر صحافیوں نے جس شاندار اور باوقار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا مختصر ذکر کرنا چاہوں گا۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی میڈیا خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو ، الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا وہ افواہ سازی، جھوٹ بولنے، افترا پردازی کرنے اور منفی پروپیگنڈہ کرنے میں اپنی ثانی نہیں رکھتا۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اس نے اپنے اس وتیرے کو جاری ہی نہ رکھا بلکہ ایسے ایسے جھوٹ بولے کہ جن کا کوئی سرپَیر ہی نہیں بنتا۔ میرا ٹی وی پروگرام اور ٹاک شوز دیکھنے کا دائرہ انتہائی محدود ہے۔ سید طلعت حسین میرے پسندیدہ صحافی ہیں جن کا "Straight Talk with Hussain"  کے نام سے وی لاگ پروگرام باقاعدگی سے دیکھ لیتا ہوں۔ جاوید چوہدری کا  Irfan Niazi کے لیبل والا پروگرام بھی دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سچی بات ہے اپنے اپنے پروگراموں میں سید طلعت حسین اور محترم جاوید چوہدری نے بھارتی جھوٹ اور منفی پروپیگنڈہ کے پردے جس طرح چاک کیے اُس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں جیو نیوز اردو کے شاہزیب خانزادہ، محترم شہزاد اقبال اور جناب حامد میر صاحبان کا بھی بطورِ خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ بھارتی جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے کے جواب میں یہ لوگ اور ان کے کچھ دوسرے ساتھی خم ٹھونک کر میدان میں موجود رہے ہیں۔ شاہزیب خانزادہ بالخصوص شہزاد اقبال تو بعض اوقات اس طرح جذبات میں آ جاتے تھے جیسے وہ جھوٹ بولنے والے بھارتی میڈیا پرسنز کو کچے ہی چبا جائیں گے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ میں ذاتی طور پر ایک آدھ نیوز چینل (زیادہ تر جیو) کو ہی دیکھتا ہوں۔اس کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کچھ میڈیا پرسنلز کے نام لیے ہیں ورنہ مجھے یقین ہے کہ باقی نیوز چینلزپر بھی اینکر پرسنز اور سینئر تجزیہ کار اور صحافی بھارتی جھوٹ کے پردے چاک کرتے رہے ہوں گے جو یقینا ہماری قومی زندگی کا ایک خوش کُن پہلو سمجھا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: