Wed, September 16, 2026

آپریشن غضب للحق، پڑوس میں جنگ اور عید الفطر

آپریشن غضب للحق، پڑوس میں جنگ اور عید الفطر

جنگ اور امن دو ایسے اوقات ہوتے ہیں جن میں قومیں مختلف انداز سے سوچتی ہیں ۔ غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت ابھی جاری تھی کہ امریکی یوتھیے مسٹر ٹرمپ نے ایران پر چڑھائی کردی۔ امریکہ جیسی سُپر پاور کا نصف صدی سے پابندیاں تلے دبے ایران پر بدترین جارحیت کردینا جنوبی ایشیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ دشمنوں کا کام ہی منفی پروپیگنڈا کرنا ہوتا ہے لیکن وہ جنہیں پاکستان سری لنکا بنتادکھائی دے رہا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ہی اپنی بینائی سے محروم ہونا شروع ہو گئے ۔ ٹرمپ سے رہائی کی امید رکھنے والے عجیب کشمکش کا شکار ہیں کہ ایک طرف تو ٹرمپ انہیں منہ نہیں لگا رہا اور دوسری طرف وہ پاکستانی فیلڈمارشل کی تعریفوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔جنا ب عاصم منیر پاکستانیوں کے فیلڈ مارشل بھی ہیں اور آرمی چیف بھی لیکن یوتھیوں کیلئے وہ ایک رستا ہوا زخم تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ناسور بنتا جا رہا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی بارے منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف اب ریاست کو آہنی ہاتھ استعمال کر لینا چاہیے کہ ایسے موقع پر کسی سیاسی ہیجڑے کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر آن کھڑی ہے اور خوارج کے سیاسی ساتھی اپنا سیاسی مرشد چھڑا نا چاہتے ہیں ۔ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ بھی پاک آرمی سے تعلقات کے حوالے سے کوئی قابل فخر نہیں ۔ یہ تو مشترکہ خطرے نے دو بدترین دشمنوں کو اکھٹا کردیا ہے ورنہ یہ ایک دوسرے سے ’’ چارٹر آف ڈیماکریسی ‘‘ لکھ کر بھی بھاگ جاتے ہیں ۔ 
منگل کی دوپہر وفاقی وزیر ِ مواصلات و صدر استحکام ِ پاکستان پارٹی عبد العلیم خان کے حکم پر پنجاب کے صوبائی صدر رانا نزیر احمد خاں اور صوبائی جنرل سیکرٹری ایم پی اے شعیب صدیقی کی قیادت میں افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن غضب للحق کی کامیابیوں پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا ۔ پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے رمضان کے بابرکت مہینے اور گرمی کے باوجود اس ریلی میں بھرپور شرکت کی ۔ عبد العلیم خان واحد وفاقی وزیر ہیں جن کے سوشل میڈیا سے بھی دہشتگردوں کے حملوں کی مذمتی اور 
افواج پاکستان کی کامیابیوں پر روزانہ کی بنیاد پر پوسٹیں اپ لوڈ ہوتی رہتی ہیں ۔ عبد العلیم خان کے ساتھ ایک طویل رفاقت میں جو بات تواتر اور تسلسل سے مجھے اُن میں نظر آئی وہ پاکستان سے اُن کی لازوال محبت اور پاکستانیوں سے دوستی کا عظیم رشتہ ہے۔ افغانی دہشتگردوں نے جہاں بڑے بڑے سیاسی سورمائوں کے پتے پانی کیے ہوئے تھے ۔ وہیں ایک ایسا شخص جس کو اللہ نے ہر دنیاوی آسائش سے نواز رکھا ہے پاکستان کی محبت میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ اگلی صفوں میں کھڑا پاکستان کے دشمنوں کو للکار رہا ہے اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو جتنی تکلیف وفاقی وزیر عبد العلیم خان سے ہے یقینا کسی دوسرے شخص سے ہر گز نہیں کیونکہ اس کا ردعمل مجھے اپنی فیس بک اور ان بکس میں دیکھنے کو ملتا رہتا ہے لیکن علیم خان اپنی دوستی اوردشمنی میں کبھی درمیان میں کھڑ ا نہیں ہوتا اور ایسا اُس نے باتوں سے نہیں اپنے عمل سے ثابت کیا ہے۔ 
رمضان کا مقد س مہینہ اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے ۔ یقینا اس کے بعد عید کی خوشی کا موقع بھی آنا ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو عید پر اپنی خوشیوں میں انہیں بھی شامل کرتے ہیں جن کا کوئی پُرساں حال نہیں ہوتا ۔ عبد العلیم خان فائونڈیشن حسب ِ روایت اس رمضان میں بھی خدمت کے اُس سفر پر روانہ رہی ہے جس کے بار ے میں خود عبد العلیم خان کا کہنا ہے کہ ’’ فائونڈیشن کا کام میرا اللہ سے کاروبار ہے اور اس کے نفع کی امید بھی مجھے اپنے رب سے ہے۔ ‘‘30ہزار سے زائد ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا تاکہ رمضان کی برکتوں سے وہ بھی فیض یاب ہو سکیں ۔ہزاروں لوگوں میں عبد العلیم خان فائونڈیشن نے عیدی کے چیک تقسیم کیے گئے ۔ ڈائلیسیز سینٹر میں عبد العلیم خان کے صاحبزادے عبد الرحمان اور بیٹی زینب نے مریضوں میں عیدی کے چیک تقسیم کیے۔ اس بار بھی عبد العلیم خان فائونڈیشن نے مختلف جرائم میں اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جرمانہ کی سزا کاٹنے والوں کا جرمانہ ادا کرکے پنجاب بھرکی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کرایا ۔ یقینا یہ لوگ صر ف پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں پھنسے ہوتے ہیں کیونکہ اُن کی سزا تو مکمل ہو چکی ہوتی ہے اور سالوں سے جیلوں میں بند یہ لوگ اپنے پیاروں میںجا کر عید منا لیتے ہیں ۔ اسلام ویسے بھی قیدیوں کورہا کرانے کا حکم دیتا ہے اور ایسا ہمیں سرور کونین محمد ؐ کی سنت سے بدر کے موقع پر بھی شہادتیں ملتی ہیں ۔سروسز ہسپتال لاہور میں عبد العلیم خان فائونڈیشن اب تک ٰ68465 ٗ میوہسپتال لاہور میں 39346` اور چلڈرن ہسپتال لاہور میں 51889مریضوں کے ڈائلیسز کر ا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ مریضوں کو کھانا اور مالی امداد بھی کی جاتی ہے۔یہ سب کچھ سرکار ِدو عالمؐ کے صدقے میں جاری و ساری ہے کہ یہ خدمت بھی ہے اور خدمت کی ترغیب بھی ۔
 نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ٹریننگ کالج میں وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان کو موٹروے پولیس ٹریننگ کالج میں 12ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پر وقار تقریب میں مہمان ِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا ۔ وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور سینئر حکام نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا ٗجہاں عبدالعلیم خان نے پریڈ کا معائنہ کیااور چاک و چوبند دستوں نے انہیں سلامی دی ۔وفاقی وزیر نے شہداء کی یادگار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔عبد العلیم خان اس سے پہلے مختلف حادثات و واقعات میں شہید ہونے والوں کے گھروں میں تعزیت کیلئے بھی جاتے رہے ہیں ۔ سکھ برادری کے مقدس مقامات کو مدنظر رکھتے ہوئے گرونانک ایکسپریس وے کا آغاز کیا جا رہا ہے جس سے سکھوں کے مقدس مقامات کوجوڑ دیا جائے گا ۔ عبد العلیم خان کی وزارت کے دوران این ایچ اے کو گزشتہ دو برسوں میں نمایاں مالی استحکام حاصل ہوااورایک سال میں ریونیو میں 63فیصد اضافہ، 66ارب سے 109ارب تک پہنچ گیا ہے۔پاکستان میں موٹر ویز اور ہائی ویز کا پھیلاتا ہوا جال یقینا پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ موٹروے ایم 20جہاں مانسہرہ سے مظفر آباد اور وہاں سے سے میر پور تک ایک سی پیک پلس سڑک بن رہی ہے وہیں عبد العلیم خان کی دن رات کی محنت کے نتیجہ میں سیالکوٹ سے کھاریاں اور وہاں سے پنڈی موٹر وے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے جو اس سال اختیام پذیر ہو جائے گا اور اس کے نتیجہ میں لاہور اسلام آباد کا فاصلہ جو اس وقت 380 کلومیٹر ہے 280 کلومیٹر رہ جائے گا ۔ خدمت نیت سے ہوتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عبد العلیم خان لا تعداد سیاسی اور سماجی محاذوں پر بیک وقت بہترین نتائج دے رہے ہیں۔کیونکہ وہ ایسا کرنے کی نیت رکھتے ہیں اوراعمال کا دارو مدار یقینا نیتوں پر ہی ہوتا ہے ۔

ٹیگز: