Wed, September 16, 2026

غریب کہاں جائے؟

غریب کہاں جائے؟

غریب کہاں جائے ؟ یہ وہ تین الفاظ ہیں جو ہم جیسے مڈل کلاس طبقے کے لبوں سے ہر اس لمحے ادا ہوتے ہیں جب ہمارا استحصال ہوتا ہے۔ جب ہمیں پتا لگتا ہے کہ سرکاری سکول میں پڑھنے والے اور او لیول کرنے والے کی اپروچ میں فرق ہوتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹیز کی فیس بھرنے کے بعد بھی کئی طرح کے اخراجات ہوتے ہیں جن کا مڈل کلاس باپ کو علم نہیں ہوتا۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انٹرویو کے لیے موٹر سائیکل پر جانے والے اور گاڑی میں پہنچنے والے کی باڈی لینگویج ہی نہیں لباس ، بال اور چہرے کی حالت بھی طبقاتی فرق واضح کر دیتی ہے۔ جب ہمیں پتا لگتا ہے کہ سی ایس ایس کے لیے جس انگریزی کو بہتر کرنے کے لیے ہم راتوں کی نیند حرام کرتے ہیں وہ ہمارے جیسے کسی دوسرے طالب علم کی "فیملی مینرز" کا حصہ ہوتی ہے۔ جب ہمیں پتا لگتا ہے کہ ہمارے پاس سفارش کے لیے کوئی انکل، چاچو یا ماموں ایسے نہیں جو ہم سے پہلے کسی اعلی عہدے تک پہنچے ہوں جبکہ ہمارے جیسے کسی دوسرے امیدوار کا آدھا خاندان پہلے سے ہی ایسے "انکلز"پر مشتمل ہے۔ جب ہمیں پتا لگتا ہے کہ جن اسکالر شپس کے لیے ہمیں کئی کئی دن سر کھپاتا پڑتا ہے وہ کسی دوسرے طالب علم کی معمول کی "جنرل نالج" کا حصہ ہیں۔ جب ہمیں پتا لگتا ہے کہ بہترین آئیدیاز کے باوجود ہم اپنے جیسے کسی طالب علم کی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ ڈگری مکمل ہونے کے بعد فلاں بزنس شروع کروں گا۔ ایسے ہر لمحے میں ہم جیسوں کے پاس تین الفاظ ہوتے ہیں۔ "غریب کہاں جائے ؟" ان تین الفاظ میں بیک وقت شکوہ بھی ہے اور حسرت بھی۔ 
 ہم جیسے مڈل کلاس طبقے کے نوجوان ڈگری لینے کے بعد سی ایس ایس کے امتحان کا سوچتے ہیں تو پتا لگتا ہے کہ ایلیٹ کلاس کے طالب علم باقاعدہ 
مقابلے کے امتحان کی کلاسز لینے کے بعد اس امتحان میں اترتے ہیں جبکہ ہمیں "پیپر پیٹرن"کا ہی ڈگری کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جہاں ٹرینرز باقاعدہ انہی امتحانات کی تیاری کرواتے ہیں لیکن ان اداروں کی فیسیں ہزاروں سے ہوتی ہوئی لاکھوں میں پہنچ چکی ہیں۔ مڈل کلاس طالب علم کی اتنی حیثیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ ایسے اداروں میں مقابلے کے امتحان کی تیاری کر سکے۔ وہ بس یہی سوچ سکتا ہے کہ "غریب کہاں جائے ؟"
اگلے روز یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پیر ضیا الحق نقشبندی نے لاہور میں ادارہ بنا رکھا ہے جہاں غریب اور یتیم طالب علموں کو مفت مقابلے کے امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے۔یہاں ان طالب علموں کی رہائش اور میس کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ پیر ضیا الحق نقشبندی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس ادارے میں غریب ، یتیم و مسکین بچوں کو ملک کے سب سے بڑے انتظامی عہدوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں ان کی اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے اور سی ایس ایس کی تیاری بھی کروائی جاتی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے پاس ہاسٹل میں رہنے اور دو وقت کا کھانا کھانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔ انہیں یہ ساری سہولیات فی سبیل اللہ مہیا کی جاتی ہیں کہ ان کا مستقبل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر بچے فیس نہیں دیتے لیکن انہیں بھکاری بھی نہیں بنایا جاتا۔ جو پانچ سو دے سکتا ہے اس سے پانچ سو لے لیے جاتے ہیں ،کوئی دو ہزار دے سکتا ہے تو وہ دو ہزار دے دیتا ہے تاکہ اس کی خودداری متاثر نہ ہو ، جو بچے بالکل فیس نہیں دے سکتے وہ بھی اطمینان سے پڑھتے ہیں۔ ان سے صرف یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ افسر بننے کے بعد اپنے جیسے کسی طالب علم کو سپورٹ کر دیں اور ایمانداری سے ملک و قوم کی خدمت کریں۔ کلاس روم میں سب طالب علموں سے یکساں برتاو¿ ہوتا ہے۔ پیر ضیا الحق نقشبندی غریب اور محروم طبقے کے بچوں کو مجرم کی بجائے آفیسر بنانے کے مشن پر گامزن ہیں جس کے لیے مخیر حضرات بھی ان سے تعاون کرتے ہیں۔چودھری اورنگزیب ہاو¿سنگ سوسائٹی کے مالک ہیں انہوں نے اپنی سوسائٹی میں اسادارے کے لیے وسیع جگہ عطیہ کر دی ہے تاکہ کرایہ کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے۔ 
 ایسا ہی ایک شاندار کام المصطفیٰ ٹرسٹ ہسپتال میں ہو رہا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کے سابق سیکرٹری نواز کھرل اس کے میڈیا ہیڈ ہیں جو "المصطفیٰ ٹرسٹ " کے کارناموں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ "المصطفیٰ ٹرسٹ" کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد نے 2006 میں انگلینڈ میں "المصطفیٰ" کی بنیاد رکھی اور اب آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے تمام اضلاع کے علاو¿ہ 24 ممالک میں یہ فلاحی سفر پھیل چکا ہے۔ یہ غریبوں کے لیے آنکھوں کا مفت علاج بھی کرتے ہیں اور اب تک پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، گیمبیا، سری لنکا، یمن، شام، انڈونیشیا، ملاوی، نائیجیریا، افغانستان، عراق اور برما سمیت مختلف غریب خطوں اور ملکوں میں“ فری آئی کیمپ“ لگا چکے ہیں جہاں دو لاکھ پچاس ہزار آنکھوں کے مفت آپریشن کر چکے ہیں۔ان مریضوں کو مفت عینکیں ، لینز ، ادویات اور کھانا بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ 
14 نومبر 2020 کو یہ ہسپتال قائم ہوا تھا اور چار سال میں پندرہ ہزار سفید موتیا کے مفت آپریشن ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور میں 560 فری آئی کیمپ بھی لگائے جا چکے ہیں۔ہسپتال کے ساتھ سارا سال چلنے والا فی سبیل اللہ لنگر خانہ بھی موجود ہے۔ المصطفیٰ ٹرسٹ لنگر ، ٹیوب ویل ، حفاظ کے وظائف ، راشن پیکیج کی تقسیم ، غریب بچیوں کی شادیوں کا اہتمام ، معذوروں کے لیے سمال بزنس سیٹ اپ کا بندوبست اور خواتین کے لیے ووکیشنل ٹریننگ کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں فلاحی کام بھی کر رہا ہے۔ 

ٹیگز: