Wed, September 16, 2026

ایک گھناﺅنا پروپیگنڈا

ایک گھناﺅنا پروپیگنڈا

دو انڈین اخبارات نے ایک خبر شائع کی کہ نور خان ایئر بیس امریکہ کے کنٹرول میں چلی گئی ہے یا دے دی گئی ۔ یہ اخبارات اکنامک ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا تھے اور اس خبر کا سورس ایک پاکستانی سیاست دان اور ایک پاکستانی صحافی تھے ۔ اس خبر میں کتنی صداقت ہے اور نور خان ایئر بیس کی اہمیت پر بات ہو گی۔ آپ کو یاد ہے کہ جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تھا تو جن مقامات کو اس نے ہٹ کرنے کے دعوے کئے تھے ان میں ایک نور خان ایئر بیس بھی تھی۔ عام آدمی کے لئے نور خان ایئر بیس کا نام شاید کچھ اجنبی ہو تو عرض ہے کہ یہ چکلالہ ایئر بیس کا ہی دوسرا نام ہے اور یہ وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے لئے استعمال ہوتی ہے پھر اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ جی ایچ کیو سے نزدیک ہے اور اس سے بھی زیادہ اہمیت یہ ہے کہ اس سے کچھ فاصلے پر نیوکلیئر پروگرام کو کنٹرول کرنے والی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا دفتر ہے تو اب پتا چلا کہ انڈیا بار بار کیوںاس کا نام لے کر اچھل رہا تھا ۔ ہندوستان کا دعویٰ تھا کہ اس نے نور خان ایئر بیس کے رن وے کو تباہ کر دیا جس سے پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کو بھی نقصان پہنچا ۔عقل کے اندھوں سے بندہ پوچھے کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام کیا نور خان ایئر بیس کے کسی کیفے ٹیریا میں ہے کہ تم نے میزائل سے حملہ کیا اور اسے نقصان پہنچ گیا ۔ وہاں تمہارے بڑے بھی نہیں پہنچ سکتے ۔ اب بات یہ ہے کہ یہ ایئر بیس پاکستان کے عین قلب میں واقع ہے کوئی بارڈر ایریا نہیں ہے کہ امریکہ کو آس پاس کے ممالک پر نظر رکھنے کے لئے اس کی ضرورت پڑے اور اگر پڑے بھی تو پاکستان اتنی حساس جگہ کیوں دے گا تو یہ سب بالکل جھوٹ لیکن یہ جھوٹ کیوں پھیلایا گیا اور کس نے پھیلایا ۔ تو اس جھوٹی من گھڑت خبر کو پھیلانے میں بھگوڑے شہباز گل اور ایک پاکستان صحافی کا ہاتھ ہے ۔
لیکن ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ عبرت ناک شکست سے دو چار ہارے ہوئے دشمن کے جھوٹے بیانیہ کو تقویت دینے کے لئے اس طرح کا ملک دشمن پروپیگنڈا کیوں کیا گیا اور پھر بات صرف اسی خبر تک محدود نہیں ہے بلکہ جب سے پاک بھارت کشیدگی شروع ہوئی ہے تو اسی طرح کی ملک دشمن خبروں کا ایک تسلسل ہے کہ جو جاری ہے تو عرض ہے کہ ایک بیانیہ بنایا گیا کہ خان کو رہا کرو ورنہ سیاسی استحکام نہیں آئے گا لیکن سیاسی استحکام آ گیا۔ پھر کہا کہ خان کو رہا کرو ورنہ اکانومی بہتر نہیں ہو گی اور ملک ڈیفالٹ کر جائے گا اس حوالے سے تو باقاعدہ ایک مہم تھی جو چلائی گئی بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ عمران خان کو دوبارہ لاﺅ ورنہ سری لنکا کی طرح ملک کادیوالیہ نکل جائے گا لیکن پھر ایسابھی نہیں ہوا ۔ پھر پاک بھارت کشیدگی میں کہا کہ خان کو رہا کرو ورنہ پورے ملک میں کوئی ایک بندہ بھی اس قابل نہیں ہے کہ مودی کو جواب دے سکے ۔ یہاںتک کہا گیا کہ ہندوستان حملہ کرے گا اور پاکستان صرف بیان بازی کرے گا اور اس حملے کا کوئی جواب نہیں دے گا لیکن پھر ایسا جواب دیا کہ ہندوستان کی نسلیں یاد رکھیں گی اور جو اس طرح کا گھناﺅنا پروپیگنڈا کر رہے تھے ان کو بھی جواب مل گیا۔ اس کے بعد بھی یہ لوگ باز نہیں آئے اور پوری دنیا حتیٰ کہ ہندوستان نے بھی اپنی شکست کو مان لیا لیکن یہ لوگ سوشل میڈیا پر اس عظیم الشان فتح میں کیڑے نکالتے رہے لیکن جب یہ سب جھوٹ ثابت ہو گیا تو اب یہ منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں لیکن یہ اور اس طرح کے جتنے بھی جھوٹ ہیں ان کی معیاد تو محض چند گھنٹوں کی ہے بلکہ اس سے بھی کم کہ جیسے ہی کسی با اعتماد ذرائع سے تصدیق ہو گی تو اس سارے جھوٹ کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ جائے گا لیکن کینہ اورحسد اس قدر ہے کہ وہ چین سے بیٹھنے نہیں دیتا لیکن اس میں کسی اور کا تو نقصان نہیں ہو رہا بلکہ ان عناصر کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آ رہا ہے ۔
دوستوں کی محفل میں اسی حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی کہ خدائے بزرگ و برتر نے کتنی شاندار فتح عطا کی ہے تو سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے تو ہم نے صرف ایک سوال کیا کہ کیا دوران کشیدگی یا انڈین اٹیک کے بعد بھی کسی کو یقین تھا کہ قدرت اس طرح کی فتح پاکستان کو دے گی تو سب نے ایک ہی جواب دیا کہ محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہم سب پاکستان کی فتح کے متعلق پر امید تھے لیکن اس قدر شاندار فتح کہ جس میں انڈیا کو کلین بولڈ کر دیا گیا اور پوری دنیا اور خود ہندوستان کو اپنی شکست کا اعتراف کرنا پڑا یہ نہیں سوچا تھا تو اس پر ہم نے کہا کہ پھر مان لیں کہ پاکستان اور پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت پر خدائے بزرگ و برتر کا خاص کرم ہے اور جس دن سے یہ فتح ملی ہے تو دوست تودوست ہوتے ہی ہیں جو مشکل وقت میں کام آئیں لیکن اب تو جو دشمن ہیں وہ بھی پاکستان کے سامنے بچھ بچھ جا رہے ہیں اور یقین کریں کہ یہ خدائے پاک کا پاکستان پر اپنا خاص فضل اور کرم ہے ۔ چین سے جو بہترین جدید آلات جنگ مل رہے ہیں جن میں جنگی طیارے اور ڈیفنس میزائل سسٹم اور اب امریکہ جو کبھی پاکستان کو ایسی پیشکش نہ کرتا لیکن اب وہ بھی ریڈار سسٹم دے رہا ہے ۔ آخر میں بس اتنی گذارش ہے کہ آزادی رائے اپنی جگہ پر لیکن ملک دشمن پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ٹیگز: