آزاد کشمیر میں احتجاجی سیاست اور عوامی مفاد اس وقت آمنے سامنے ہیں۔ آزاد کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، قومی اہمیت اور محب وطن عوام کی وجہ سے پاکستان کا ایک اہم خطہ ہے۔ یہاں امن و استحکام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے ملک کے مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھی کسی سیاسی یا سماجی تحریک کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ کاروبار متاثر ہوتے ہیں، تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں، سیاحت کو نقصان پہنچتا ہے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔احتجاج ہر جمہوری معاشرے میں ایک تسلیم شدہ حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اگر احتجاج پرامن حدود سے نکل کر تصادم، سڑکوں کی بندش، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا عوام کی زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بن جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ عام لوگوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان اسی عوام کو ہوتا ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سازشیں اس وقت کھل کر سامنے آچکی ہیں۔ یہ گروہ فسادات کو ہوا دے رہا ہے۔ کشمیریوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یقینی طور ر اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو انتشار میں تبدیل کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ جب سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھتی رہے تو سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہوتا ہے، ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہوتے ہیں اور نوجوانوں میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ نتائج ہیں جن سے ہر ذمہ دار شہری کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو مختلف اوقات میں بیرونی پروپیگنڈے کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سازشوں اور پراپیگنڈے کو سمجھا جائے۔ اس گروہ کی منفی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کواپنے بیانیے میں احتیاط سے کام لینا ہوگی مگر فی الوقت ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔ دشمن عناصر کو پاکستان یا آزاد کشمیر کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بیرونی طاقتوں کے آلہ کار ہونے کا کسی نہ کسی طرح اعتراف بھی کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر جلاو¿ گھیراو¿ ، فسادات، ہڑتالوں کو ہوا دینے کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ ٹولہ گمراہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ ان حالات میں ریاست نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام نے بھی ریاست کے کردار پر لبیک کہا ہے اور جلاو¿ گھیراو¿ کی سیاست مسترد کر دی ہے۔ ہڑتالیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ عوام کو سمجھ آچکی ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے۔ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ مسائل کا دیرپا حل مکالمے، برداشت اور آئینی طریقہ کارکے مطابق آگے بڑھنا چاہیے مگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ وہ کشمیریوں کے جذبات سے کھیل رہی ہے۔ ان کی سرگرمیوں کا مقصد ہسپتالوں، سکولوں، کاروباری مراکز اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا ہے مگر حقیقت میں انہیں مسلسل ناکامی مل رہی ہے۔ قانون کی بالادستی کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد یا تنظیم قانون کی خلاف ورزی کرے، تشدد پر اتر آئے یا عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے تو متعلقہ
اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر کے نوجوان اس خطے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں نفرت، تصادم اور تقسیم کی سیاست سے دور رکھتے ہوئے تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ریاست پاکستان نے ہمیشہ اسی وژن پر کام کیا ہے۔ نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں گے تو ہی ترقی کا راستہ کھلے گا۔ ان تمام حالات میں سوشل میڈیا پر نفرت آمیزی کو ہوا دینے کی بھی ساز ش ہو رہی ہے۔ ایک مخصوص سیاسی ٹولہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کی طرف داری کرتا ہے مگر ناکامی ہی ان کا مقدر ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر اطلاع پر یقین کرنے کے بجائے معتبر ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ کچھ ہفتے قبل کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما اور ترجمان شوکت نواز میر کو ضلع باغ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تحصیل دھیر کوٹ کی حدود سے گاو¿ں سنگڑ میں چھپا بیٹھا تھا۔ حکومت نے اس سے قبل کالعدم جے اے اے سی کے چار رہنماو¿ں، جن میں شوکت نواز میر بھی شامل تھے، کی گرفتاری میں مدد پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔حکومت نے پانچ جون کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔اس فیصلے کے باوجود تنظیم کے حامیوں نے احتجاج، دھرنوں اور شٹر ڈاو¿ن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے باعث حکام اور مقامی رہائشیوں کے مطابق خطے کے بیشتر علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔عوامی ایکشن کمیٹی سے جھڑپ میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔ جب بھی مذاکرات ہوئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے عین اسی دوران قانون ہاتھ میں لیا اور حالات خراب کرنے کی سازش کی۔ ان حالات میں کشمیری عوام کا کردار پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام کسی بہکاوے میں مت آئیں اور احتجاج اور فتنے فساد کی سیاست کو مسترد کر دیں جیسے وہ حالیہ کچھ عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔