دنیا ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو آگ اور خون میں دھکیل سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناو¿، دھمکیوں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، تجارت، خوراک، توانائی، مہاجرین اور عالمی امن تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا طاقت کا استعمال واقعی مسائل کا حل ہے یا پھر مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دنیا کو ایک نئی تباہی سے بچا سکتے ہیں؟تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں جیتنے والے بھی آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی آتے ہیں۔ ویتنام سے لے کر افغانستان اور عراق تک، بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں برسوں کی خونریزی کے بعد بالآخر سیاسی حل ہی تلاش کیا گیا۔ اگر انجام مذاکرات ہی ہونا ہے تو پھر آغاز بھی مذاکرات سے کیوں نہ کیا جائے؟۔
ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی کردار کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ خطے میں اپنے مفادات، اتحادیوں کے تحفظ اور سکیورٹی کو ترجیح دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے اپنے اپنے مو¿قف ہیں، لیکن جب مو¿قف ہتھیاروں کی زبان میں بیان ہونے لگیں تو نقصان صرف دونوں فریقوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہوتا ہے۔ آج دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ، سوڈان اور دیگر تنازعات کی وجہ سے شدید انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر ایک اور بڑی جنگ چھڑ گئی تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی معیشت مزید دباو¿ کا شکار ہو گی، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا، مہنگائی بڑھے گی اور ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، اس کے معاشی اثرات سب سے زیادہ برداشت کریں گے۔
ایسے نازک وقت میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر فوجی کارروائیوں کو روکنے کا اعلان کریں۔ جنگ بندی کسی کی کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی کی علامت ہوتی ہے۔ جب گولیاں چل رہی ہوں تو اعتماد پیدا نہیں ہوتا، لیکن جب خاموشی قائم ہوتی ہے تو مذاکرات کے دروازے کھلتے ہیں۔دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ دونوں ممالک کسی غیر جانبدار ملک یا عالمی فورم کی ثالثی قبول کریں۔ دنیا میں ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو متوازن سفارتی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھی محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں۔ تیسری ضرورت اعتماد سازی کے اقدامات ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے، انسانی بنیادوں پر تعاون، طبی امداد، سفارتی رابطوں کی بحالی اور براہِ راست مذاکرات جیسے اقدامات ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں۔ اعتماد ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کا آغاز ایک مثبت قدم سے ضرور ہو سکتا ہے۔چوتھی تجویز یہ ہے کہ دونوں ممالک میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ جنگی ماحول میں غلط معلومات اور نفرت انگیز بیانیہ فیصلوں کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ میڈیا اگر ذمہ داری سے کام لے تو عوامی رائے کو امن کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔پانچویں اور شاید سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ انسانی جان کو ہر سیاسی مفاد پر ترجیح دی جائے۔ ہر حملے کے بعد صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ خاندان بکھرتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، مائیں اپنے بیٹوں کو کھو دیتی ہیں اور آنے والی نسلیں نفرت کی وارث بن جاتی ہیں۔ طاقت کے مظاہرے وقتی فائدہ دے سکتے ہیں لیکن انسانی نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان سمیت اسلامی دنیا کو بھی اس موقع پر جذباتی نعروں کے بجائے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حامی رہی ہے۔ اگر مسلم ممالک متحد ہو کر مذاکرات کی حمایت کریں تو وہ کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کو دوہرے معیار ترک کرنا ہوں گے۔ اگر بین الاقوامی قوانین کسی ایک ملک پر لاگو ہوتے ہیں تو وہ سب پر یکساں لاگو ہونے چاہئیں۔ انصاف کا معیار یکساں ہوگا تو اعتماد بھی بڑھے گا، اور اعتماد بڑھے گا تو مذاکرات کامیاب ہوں گے۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اکیسویں صدی کی اصل طاقت میزائل نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت، علم اور بین الاقوامی تعاون ہے۔ جو قومیں جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں، اگر وہی وسائل تعلیم، صحت، تحقیق اور غربت کے خاتمے پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ محفوظ اور خوشحال بن سکتی ہے۔
آج ایران اور امریکہ دونوں کے پاس ایک تاریخی موقع ہے۔ وہ چاہیں تو آنے والی نسلوں کے لیے ایک اور جنگ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، اور چاہیں تو مذاکرات، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ایک نئی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ طاقت سے دشمن کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، قائل نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار امن صرف انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے ہی حاصل ہوتا ہے۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوقوں کی آواز خاموش ہو، سفارت کار متحرک ہوں، مذاکرات کا دروازہ کھلے اور پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ جنگ کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں رہی۔ اگر انسانیت کو محفوظ مستقبل دینا ہے تو میزائلوں سے زیادہ اعتماد، دھمکیوں سے زیادہ مکالمہ اور نفرت سے زیادہ امن میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ یہی راستہ دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج پوری انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔