Wed, September 16, 2026

اردو اور مدارس

اردو اور مدارس


کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ اب تو اکثر ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایسی بات کہہ دیتا ہے جو اسے مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کئی لوگوں کے نظریات سے متصادم ہوتی ہے، اس لیے وہ اسے منطق کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے نظریاتی اختلاف کی بنا پر مسترد کر دیتے ہیں۔
حال ہی میں اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی ایسی ہی ایک بات کہہ دی جس پر کچھ ادبی حلقوں اور معتبر شخصیات کی جانب سے سخت رد عمل دیکھنے کو ملا ہے اور وہ بات تھی کہ اردو کا مستقبل دینی مدارس سے وابستہ ہے۔ اس بات کو کچھ ادبی شخصیات نے یکسر مسترد کر دیا تو کچھ نے اس پر خاموشی کی چادر اوڑھ رکھی ہے، جبکہ کچھ مجاہد ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس بات کا دفاع کرتے ہوئے مضبوط دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ آج کی اس تحریر سے کسی کی مخالفت یا حمایت مقصود نہیں بلکہ اس بات کو صرف منطق کی کسوٹی پر پرکھنا ہے کیونکہ ہمارے لیے شعر و سخن اور زبان و ادب سے وابستہ تمام شخصیات محترم ہیں اور ہر کسی کی رائے احترام کے قابل ہے۔
اب یہی دیکھ لیجیے کہ کہنے کو تو ہماری قومی زبان اردو ہے لیکن قوم کا کتنے فی صد حصہ اچھی اردو بولتا یا سمجھتا ہے۔ بات اوپر سے شروع کی جائے تو پارلیمنٹ ہمارے ملکی نظام کا سب سے بڑا ادارہ ہے جہاں ملک بھر سے عوام کے نمائندے جمع ہوتے اور قانون سازی کرتے ہیں۔ آپ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کی کارروائی دیکھ لیجیے۔ ہمارے معزز پارلیمنٹیرین اردو میں تقاریر تو کرتے ہیں لیکن شاید ہی کوئی ایک آدھ قومی رہنما ایسی اردو بولتا ہو جسے معیاری اردو کہا جا سکے ورنہ بیشتر کے اردو میں یا تو انگریزی کی آمیزش ہوتی ہے یا پھر ان کی اپنی مقامی زبانیں جھلک دکھا رہی ہوتی ہیں جبکہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے زیادہ تر قوانین اور حکمنامے انگریزی زبان میں تیار کیے جاتے ہیں۔
عدلیہ اس ملک کے نظام کا دوسرا بڑا ستون ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے ہماری دفتری خط کتابت کی زبان اردو ہونی چاہیے لیکن خود ہماری عدالتیں اور سرکاری دفاتر اس کے استعمال کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ زیادہ تر فیصلے انگریزی میں تحریر ہوتے ہیں اور خط کتابت بھی اسی زبان میں ہوتی ہے۔ 
صرف تھانوں میں شکایات کا اندراج اردو میں ہوتا ہے لیکن وہ زبان ایسی گنجلک ہوتی ہے کہ پولیس والوں یا عدالتی اہلکاروں کے سوا کوئی مائی کا لال اس کا ترجمہ نہیں کر سکتا۔
زبان کی بقا اور ارتقا کا سب سے بڑا ذمہ دار ہمارا شعروادب سے وابستہ طبقہ ہے۔ اس طبقے کی حالت یہ ہے کہ وہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک چھوٹے سے طبقے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ زبان کو اس کی اصل حالت میں برقرار رہنا چاہیے اور وہ اس پر عربی اور فارسی کے اثرورسوخ کا حامی بھی ہے جبکہ دوسرا طبقہ جو نسبتاً کہیں زیادہ بڑا ہے، اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ زبان کے ارتقا کے لیے اس میں تبدیلیاں بہت ضروری ہیں اور ان تبدیلیوں کی نام پر اردو میں نہ جانے کیسی کیسی ملاوٹوں کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ اب اس طبقے کے ہاتھوں زبان اپنی بنیاد یا اصلی حالت پر تو قائم نہیں رہ سکتی بلکہ کچھ عرصے بعد نئی شکل ہی اختیار کر لے گی۔
اردو کا ایک بڑا علم بردار ہمارا ذرائع ابلاغ کا شعبہ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ اس شعبے کو سند سمجھتے تھے اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور فیچرز کے ذریعے زبان سیکھتے تھے۔ صرف ایک سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا جس پر تلفظ اور لہجے کی صحت کا خاص اہتما کیا جاتا تھا۔ خبریں پڑھنے والوں کی شین قاف مثالی ہوا کرتی تھی لیکن اب اخبارات میں زبان کی ایڈیٹنگ کا وہ معیار ہے نہ چینلز پر اس سطح کے نیوز کاسٹر اور ہوسٹ۔ آج کے اینکر تو ایران کو دھڑلے سے "اے ران" کہتے ہیں لیکن کوئی ان کا تلفظ درست نہیں کراتا۔ آپریشن بنیان مرصوص کو مسلسل بنیان المرصوص کہا جاتا ہے لیکن کوئی نہیں روکتا۔ عفریت کو کوئی عَفری ات کہتا ہے تو کوئی عَفرِیت لیکن کوئی بتانے والا نہیں کہ ع کے نیچے زیر ہے۔ اسرائیل کو ازرائیل کہنے پر بھی کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے حالانکہ اردو میں اسرائیل اور عزرائیل بالکل مختلف معنی کے حامل الفاظ ہیں۔ اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی قرآن کھول کر دیکھا ہے نہ اسلامی تاریخ پڑھی ہے نہ کبھی فارسی شعر و ادب کا مطالعہ کیا ہے۔ 
پہلی جماعت سے بارہویں تک اردو ہمارے تعلیمی نصابوں کا نہ صرف ایک لازمی مضمون ہے بلکہ بیشتر دیگر مضامین کی تعلیم کا ذریعہ بھی یہی ہے لیکن ایک تو سکولوں کے طلبا صرف زبان کی تعلیم حاصل نہیں کرتے بلکہ ایک وقت میں بہت سے مضامین پڑھ رہے ہوتے ہیں، اس لیے زبان پر وہ گرفت قائم نہیں کر سکتے جو انھیں اچھا زبان داں بنا سکے۔ دوسرا یہ کہ بیشتر طلبا اپنے گھروں میں اپنی آبائی زبان ہی بولتے ہیں جس کے باعث، ان کی اردو بولنے کی زیادہ مشق بھی نہیں ہوتی۔
ملک کے چاروں صوبوں سمیت تمام علاقوں کی آبادی کا بڑا حصہ اردو زبان جانتا ہے لیکن اس وقت شاید اردو بولنے والے وہ لوگ جنھیں ہم اہل زبان کہتے ہیں، ان کی اکثریت بھی ایسی اچھی اور معیاری اردو نہیں بول سکتی جیسی کہ ان سے توقع کی جاتی ہے جبکہ غیر اہل زبان کی اکثریت تو اردو بھی اپنی مقامی زبانوں میں بولتی ہے۔ اکثر اوقات عام بول چال میں لوگوں کا تلفظ اور جملوں کی ساخت ہی درست نہیں ہوتی۔ 
ایسے میں دو ہی طبقے رہ جاتے ہیں جن کے ہاتھوں اردو کا مستقبل محفوظ رہ سکتا ہے۔ ان میں سے ایک ہماری جامعات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب مطالعہ اساتذہ کرام ہیں اور دوسرے مدارس کے طلبا ہیں۔ جامعات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں صرف ایک زبان نہیں پڑھائی جاتی بلکہ سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور سوشل سائنسز سمیت بہت سے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ سو جامعات میں اردو کے اساتذہ صرف اپنے محدود دائرہ اثر کی تربیت کر سکتے ہیں، پوری جامعہ کی نہیں۔
یوں آخر میں ایک ہی طبقہ بچتا ہے جو بہ صد اہتمام اردو پر بھر پور توجہ دیتا اور محنت کرتا ہے اور وہ ہیں مدارس کے طلبا۔ مدارس کے طلبا اردو کے اس لیے اچھے محافظ ثابت ہو سکتے ہیں کہ ایک تو ان میں سے بیشتر کی تربیت منبر و محراب کے لیے کی جاتی ہے۔ انھیں عوام الناس تک دین کے پیغام کی ترسیل کے لیے اردو میں مہارت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اردو کی بنیاد عربی اور فارسی زبانیں ہیں اور دینی تعلیمات کا بیشتر ذخیرہ انھیں دونوں زبانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ مدارس کے بچوں کو عربی اور فارسی کی گردانیں اور مصادر پڑھائے جاتے ہیں جبکہ کسی جامعہ سے اردو میں فارغ التحصیل ہونے والے بیشتر طلبا کا مطالعہ صرف اردو شعر و ادب تک محدود ہوتا ہے۔ سو اردو کا درد رکھنے والی کسی شخصیت نے اگر اس کا مستقبل مدارس کے طلبا سے جوڑ دیا ہے تو اس میں برا ماننے کی کوئی بات نہیں بلکہ اردو کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے مزید طریقوں پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: