انسان نے جب سے کائنات پر غور کرنا شروع کیا ہے، ایک سوال ہمیشہ اس کے سامنے رہا ہے کہ اس عظیم الشان نظامِ ہستی کی بنیاد کیا ہے؟ کیا اس کائنات پر محض طاقت کی حکمرانی ہے؟ کیا زندگی اندھے قوانین کا مجموعہ ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی ایسی ہستی موجود ہے جس کی قدرت کے ساتھ رحمت بھی شامل ہے؟ قرآنِ مجید ان سوالات کا جواب اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعے دیتا ہے۔ عام طور پر ہم ننانوے اسمائے حسنیٰ کا ذکر کرتے ہیں، لیکن رسول اللہﷺ کی ایک جامع دعا اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسما صرف وہ نہیں جو انسانوں کو معلوم ہیں۔ آپﷺ نے دعا فرمائی: میں تیرے ہر اس نام سے، جو تو نے اپنے لیے رکھا، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا تُو نے اپنے بندوں کو الہام کیا، یا تو نے اپنے پاس غیب کے خزانے میں اسے مخصوص کر لیا، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تُو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے فکر و غم کا علاج بنا دے۔ (مفہوم)۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض اسما اپنی کتاب میں بیان فرمائے، بعض اپنے برگزیدہ بندوں کو سکھائے، اور بعض کو اپنے علمِ غیب میں مخصوص رکھا۔ اس لیے ننانوے اسمائے حسنی دراصل وہ اسمائے مبارکہ ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کا ایک دروازہ انسانوں پر کھولا ہے، ورنہ اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے اسما انسانی عقل کے احاطے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ انہی اسمائے حسنیٰ میں ایک ایسا اسم ہے جو میرے نزدیک پوری انسانی زندگی کی بنیاد ہے، اور وہ ہے الرحِیم۔ اگر الرحمن وجود عطا کرنے والی رحمت ہے تو الرحِیم اس وجود کی مسلسل پرورش، رہنمائی، حفاظت اور تکمیل کا نام ہے۔ رحیم صرف رحم کرنے والا نہیں بلکہ وہ رب ہے جو بندے کی ضرورت کو بندے سے پہلے جانتا ہے، اس کے سوال سے پہلے جواب پیدا کر دیتا ہے، اور اس کی دعا سے پہلے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔ صفتِ رحیم کو سمجھنے کے لیے انسان کو اپنی زندگی کے آغاز کی طرف لوٹنا چاہیے۔ جب انسان اپنی ماں کے رحم میں ایک نادیدہ وجود تھا، اسے نہ اپنی جنس کا شعور تھا، نہ خوراک کا علم، نہ یہ خبر تھی کہ دل کیسے دھڑکے گا، خون کیسے گردش کرے گا، دماغ کیسے بنے گا اور جسم کے دوسرے اعضا کس ترتیب سے تشکیل پائیں گے۔ وہ مانگ بھی نہیں سکتا تھا، سوچ بھی نہیں سکتا تھا، دعا بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اس کی ہر ضرورت پوری ہو رہی تھی۔ وہ رزق بھی پا رہا تھا، حفاظت بھی، نشوونما بھی اور زندگی بھی۔ یہ سب کس نے کیا؟ یہی اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیم کا پہلا تعارف ہے۔ اسی لیے قرآن ہمیں بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا صرف ہماری درخواستوں کی محتاج نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’ اور وہ اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا‘۔ (سورة الطلاق: 3) یہ آیت صرف مال و دولت کے بارے میں نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کے بارے میں ہے۔ رزق صرف روٹی نہیں، ایمان بھی رزق ہے، علم بھی رزق ہے، اولاد بھی رزق ہے، صحت بھی رزق ہے، اچھا دوست بھی رزق ہے، اور دل کا سکون بھی رزق ہے۔ انسان صرف وہی مانگ سکتا ہے جس کا اسے شعور ہو، لیکن اللہ تعالیٰ وہ بھی عطا فرماتا ہے جو ابھی انسان کے ذہن کے کسی گوشے میں پیدا نہیں ہوا ہوتا۔ بعض اوقات ہم ایک چیز کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور رحیمیت سے ہمیں اس سے بہتر چیز عطا کر دیتا ہے۔ اور بعض اوقات ہم کسی چیز کو اپنے لیے خیر سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ اس میں ہمارے لیے نقصان ہے۔ یہی رحیمیت ہے کہ بندہ اپنی محدود نگاہ سے دیکھتا ہے، جبکہ رب ازل سے ابد تک دیکھ رہا ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ’تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے‘۔ (سورة النحل: 53) اس آیت میں ہر نعمت کا لفظ انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہماری زندگی کی عظیم ترین نعمتیں وہ ہیں جن کے لیے ہم نے کبھی دعا بھی نہیں کی۔ ہمارا وجود، عقل، زبان، سماعت، بینائی، والدین، وطن، اساتذہ، اچھے لوگ، ایمان کی دولت اور بے شمار ایسی آسانیاں جن کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا یہ سب اللہ کی عطا ہیں، ہماری طلب نہیں۔ میرے نزدیک صفتِ الرحِیم کا سب سے نمایاں وصف یہی ہے کہ وہ بن مانگے عطا کرتا ہے۔ وہ بندے کی ضرورت کو اس کے سوال سے پہلے جانتا ہے اور اس کے لیے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ممن کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب صرف اس کی دعائیں نہیں سنتا، بلکہ اس کی خاموشیوں کو بھی جانتا ہے۔