Wed, September 16, 2026

عوام کے اصل دشمن

عوام کے اصل دشمن

کچھ دن پہلے ہمارے کزن خاطب اللہ کی گاؤں میں شادی تھی جس میں دوراورقریب کے اکثررشتہ دار شریک رہے۔ گاؤں اوردیہات کے اندرچونکہ شادی ہال والاکام نہیں اس لئے ولیمہ والے کھانے کے معاملات وانتظامات مقامی دیگ پکائی کاریگروں کے ذریعے چلایاجاتاہے۔ہمارے آبائی گاؤں جوزوملحقہ چھوٹے موٹے علاقوں میں شادی بیاہ اورختم خیرات کے موقع پردیگ پکائی کاکام حبیب اللہ سرانجام دیتے ہیں اوراس کی پکائی دیگ خوشی کی ہویاغمی کی چاول کارنگ پیلاہی ہوتاہے۔ اس بارہم نے باتوں باتوں میں حبیب اللہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ کیامذاق آپ نے بنایاہواہے کہ شادی ہویاماتم چاول آپ کے پیلے ہی ہوتے ہیں کم ازکم شادی یاماتم دونوں میں ایک کارنگ تو تبدیل کردیں۔خیرچاول رنگ کے پیلے ہوتے ہیں لیکن ذائقہ دار۔کزن کاولیمہ توحبیب اللہ کی دیگوں پرگزرگیاپرولیمے کے اگلے دن بھی مہمان زیادہ تھے جن کے لئے ایک دیگ کاانتظام ضروری تھا۔حبیب اللہ کے نہ آنے پرکزن بہرام خان اوربھائی مومن خان دونوں نے آگے بڑھ کریہ کہتے ہوئے کہ ہم حبیب اللہ سے کوئی کم ہیں سینہ چوڑاکرتے ہوئے دیگ پکانے والاکام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔وہ دیگ جس میں پندرہ کلوچاول مشکل سے پکتے ہیں ان دونوں جوانوں نے اس میں پورے پچیس کلوچاول ڈال دیئے اورصرف چاول نہیں ڈالے ساتھ دیگ والابڑاچمچہ بھی ڈال دیاجس سے وہ چاول کوپھرآخرتک حلوہ سمجھ کر ہلاتے رہے۔ اس چمچے نے چاول کاجوحال کیاوہ بیان کرنے سے باہرہے۔اس دن ہمیں پتہ لگاکہ یہ چمچے کس طرح کام خراب کرکے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اس وقت ملک کے اندرجہاں جوبھی خرابی ہوگی آپ دیکھیں اس کے پیچھے کسی چمچے یاچمچوں کا ہی ہاتھ ہوگا۔لوگ حکمرانوں اورسیاستدانوں کو برا بھلا کہہ کرگالیاں دیتے ہیں لیکن ہرغلط اوربراکام یہ چمچے ہی کرتے 
ہیں۔اب بجلی بلوں میں دوسویونٹ والا ظلم دیکھ لیں۔ کیایہ سلیب اورپالیسی وزیراعظم شہبازشریف نے بنائی ہوگی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ حکمران کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔ان کے ذہن، دل ودماغ کے اندر اس طرح کے بے ہودہ آئیڈیاز اورخیالات نہیں آ سکتے۔یہ کام کسی خاندانی چمچہ گیرکاہی ہوسکتاہے جوعوام کولوٹنے اوران کی زندگی عذاب بنانے کے لئے اس قدرگہرائی میں جاسکتاہے۔اس طرح کے بعض آئیڈیاز، منصوبے اور پالیسیاں دیکھ کرسرگھوم جاتاہے کہ ایسے ننگے تخلیق کاربے زبانوں کے اس دیس میں کہاں سے آ جاتے ہیں۔؟ یہ کونسا طریقہ، کیسا قانون اور کہاں کاانصاف ہے کہ بجلی کا وہ بل جو دوسو یونٹ پر دوتین ہزار روپے ہو گا دوسو ایک یونٹ پر وہ آٹومیٹک پانچ چھ ہزار روپے میں چلا جائے گا۔ ایک یونٹ پر بجلی صارفین کو فوراًسولی پرچڑھانایہ غریب عوام کے لئے ریلیف ہے یالوٹنے کا عجیب طریقہ۔ جولوگ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں اورجن کی زندگی مشکل سے گزر رہی ہوان لوگوں کے لئے کوئی حکمران اورسیاستدان ایسے عجیب وغریب سلیب متعارف اورایجادنہیں کرا سکتا۔ ایسے طریقے وہی لوگ ایجاد کرتے ہیں جنہیں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداربننے کاشوق اورہردیگ کاچمچہ بننے کی عادت ہو۔ آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں یہ وہی لوگ ہوں گے جوساٹھ سترسال سے اپنی ایسی ہی پالیسیوں، آئیڈیاز، منصوبوں، سلیب اورطریقوں سے عوام کی گردن کبھی ایک طرف اورکبھی دوسری طرف مروڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ ایسے عجیب عجیب طریقے نکالتے اورپالیسیاں بناتے ہیں کہ ان سے شیطان بھی پناہ مانگتاہوگا۔ایک یونٹ پراتنی سخت سزاکہ غریب بجلی کے بل دیکھ کرپاگل ہورہے ہیں ۔ایسے نمونوں اور چمچوں نے خیبرپختونخواسے بھی انصاف کاجنازہ نکال دیاہے۔یہ انصاف والوں کے صوبے میں سرکاری ملازمین کے ساتھ جوکھیل کھیل رہے ہیں اس کھیل کودیکھ کریہاں انصاف بھی منہ چھپاتاپھررہاہے۔وفاق نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے ڈی آراے میں تیس فیصداضافہ کیا۔ادھران چمچوں نے ملازمین کے ساتھ پہلاہاتھ تویہ کیاکہ وہ اضافہ یہاں پندرہ فیصدکرکے ساتھ اپنی وہ اصلیت بھی ظاہرکردی کہ پندرہ فیصداضافہ بھی دوہزارسترہ کی بیسک پے پرہوگا۔اب سوچنے کی بات ہے ملازمین دوہزار پچیس  میں جی رہے ہیں۔ان سے ہرماہ ٹیکس بھی یہ دوہزارپچیس کے حساب سے لیا جا رہا ہے۔ ماچس کی ڈبی سے لیکرآٹا،چینی،دال اورگھی تک ہر چیز ان سرکاری ملازمین کودوہزارپچیس کے ریٹ پرمل رہی ہے۔جب سب کچھ دوہزار پچیس کے حساب کتاب پرچل رہاہے تو پھر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ دوہزارسترہ اوربائیس کے بیسک پے پر کیوں اور کیسے۔؟اپنی تنخواہوں اورمراعات کی بات ہوتویہ ظالم پھردن اوررات نہیں دیکھتے لیکن جب عوام کے ریلیف یاسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی کوئی بات آتی ہے تو پھر ان کی خشک کھوپڑیوں سے ایسے ایسے سلیب، منصوبے، پالیسیاں اور طریقے نمودار ہوتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ نئے نئے سلیب،پالیسیوں اورطریقوں پر کاغذکالے کرنے والے ان چمچوں اورنمونوں نے نہ صرف خیبرپختونخوابلکہ اس پورے ملک کابیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔یہ پہلے بھی عوام کے دشمن تھے اوریہ آج بھی عام لوگوں کے دشمن ہیں۔ایسے ظالموں کے ہوتے ہوئے اس ملک میں عوام کی تقدیرنہیں بدل سکتی۔اپنے پاؤگوشت کے لئے انہوں نے کل بھی عوام کی پوری بھینس ذبح کی اوریہ آج بھی عوام کے حصے کانوالہ ہڑپ کرنے کے لئے ہر جگہ تیار بیٹھے ہیں۔ عجیب وغریب پالیسیاں، منصوبے  اور طریقے ایجادکرتے ہیں لیکن لوگ برا بھلا پھر حکمرانوں اور سیاستدانوں کو کہتے ہیں، ان لوگوں کو اللہ کا اور قبر حشر کا ذرہ بھی کوئی خوف نہیں۔ اس لئے تو یہ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں، مٹھی بھر ان لوگوں نے اپنی اوچھی حرکتوں اور شیطانی ذہن سے نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ چوبیس کروڑعوام کاجیناحرام کر رکھا ہے۔ ایسے ظالموں سے اللہ ہی اس ملک وقوم کی حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

ٹیگز: