آج کا پاکستان ایک بدلا ہوا پاکستان ہے اور یہ تبدیلی ایک جنگ جیسی بھیانک چیز کے نتیجے میں آئی ہے۔یہ تبدیلی مصنوعی ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پیش بندی ،منصوبہ بندی یا کوئی نعرے بازی کی گئی ہے۔ہاں اس جنگ کا جواب دینے کے لیے ہماری دفاعی قوت کی تیاری اور مسلح افواج کا عزم ایک طویل داستان اور ہر دم تیارضرور رہتا ہے۔ موازنہ دس مئی سے پہلے اور دس مئی کے بعد کے پاکستان میں کیا جاسکتا ہے۔آج کا پاکستا ن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط،کہیں زیادہ بہتراور کہیں زیادہ قابل اعتماد ہے۔ہم دنیا کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قابل قبول ہیں۔قابل عزت اور قابل بھروسہ ہیں کہ دنیا اپنے مفادات کو طویل مدت تک ہمارے ساتھ وابستہ کرنے میں فائدہ سمجھتی ہے۔اس خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طورپر ہماری شہرت ہے۔ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھنے کا ہمارا پرچار رنگ لایا ہے۔آج کا پاکستا ن اس لیے بھی بدلا ہوا ہے کہ ہم نے اپنی دانش مندی سے چین ،روس اور امریکا یعنی تینوں بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں ایک بیلنس بنالیا ہے۔ہم نے اپنے ہمیشہ کے دوست چین کے ساتھ بہترین اور مضبوط تعلق رکھنے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس میں بھی قابل عزت انٹری ڈال رکھی ہے۔ہماری سفارتکاری بھی مکمل بدلی ہوئی ہے ۔جتنی کامیاب سفارتکاری ہماری آج ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی اور اس کا سہرا ہمیں اسحاق ڈار صاحب کے سر باندھنا ضروری ہے جنہوں نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ہندوستانی جنگی جنون کے سامنے پاکستان کا سچا اور کھرا مؤقف پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے میں سو ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ۔انہی رابطوں کا اثر تھا کہ دنیا نے پہلی بار ہندوستان کے جھوٹ پر پاکستان کے سچ کا ساتھ دیا۔
جب دس مئی کے بعد پاکستان تبدیل ہوا ہے تو پھر اس میں بہت کچھ بدل جانا بھی سمجھ سے بالا نہیں ہونا چاہئے۔ سب سے بڑی تبدیلی میرے خیال میں یہ آئی ہے کہ پاکستان میں سیاست اور سیاسی رجحانات کے ساتھ ساتھ سیاسی ترجیحات بھی مکمل تبدیل ہوئی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی اور مار دھاڑ سیاست کی جگہ مکمل ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی کی باہر دستیاب اور سسٹم کے اندر موجود قیادت کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ سیاست اور اپوزیشن کرنی ہے تو سسٹم کے اندر رہ کرنی ہو گی۔
سیاسی عمل کا حصہ رہتے ہوئے دستیاب فورمز پر احتجاج کرنا ہوگا کیونکہ سڑکوں پر احتجاج کے لیے لوگوں کو اکسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے لیے چاہے کسی احتجاج کی کال دی جائے یا عمرا ن خان صاحب کے بیٹے سلمان اور قاسم آجائیں۔ (ویسے عمران خان کے بیٹے احتجاج کے لیے آتے مجھے دکھائی نہیں دیتے)۔
وزیراعظم جناب شہباز شریف صاحب پہلے بھی حکومت کے لیے سیاسی مینجمنٹ پر یقین نہیں رکھتے ۔وہ کام پر یقین رکھتے ہیں۔ مسائل ابھی بہت ہیں لیکن وزیراعظم ان مسائل کے حل کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔کچھ چیزیں اتنی بری ہیں یہاں کہ حکومتوں کے قابوسے باہر چلی جاتی ہیں ان کا سدباب بہت ضروری ہے۔ان میں ایک شوگر انڈسٹری بھی ہے۔ شہبازشریف صاحب اگر اپنے دور حکومت میں اس مافیا کے آگے کوئی بند باندھ جائیں تو اس ملک پر احسان ہو گا۔ ایک پالیسی بنا لیں کہ چاہے چینی کم پیدا ہو یا وافر اس کی ایکسپورٹ پر مکمل پابندی ہی رہے گی ۔یہ انڈسٹری جو بھی کرے پالیسی نہیں بدلے گی ۔اگر وافر چینی بناکر زر مبادلہ کے لالچ میں ایکسپورٹ کی اجازت کا معاملہ ہوتو قیمت نہ بڑھنے کی کسی یقین دہانی پر کوئی یقین نہ کیا جائے ۔سال مکمل ہونے پرجب نومبر میں شوگر ملیں چلیں تو پھر گزشتہ سال کی بچی ہوئی چینی کا حساب کتاب لگاکر نئی چینی مارکیٹ میں آجانے کے بعد اس کو ایکسپورٹ کیا جائے ۔اگر ہر سال شوگر انڈسٹری کے دباؤ یا وافر چینی یا کسانوں کی ادائیگیوں والے ہتھکنڈوں میں آکر حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت ہی دینی ہے اور پھر ان لوگوں نے اگر اپنے وعدے سے مکر کر ساری بدنامی سرکار کے لیے جمع کرنے سے باز ہی نہیں آنا تو بہتر ہے کہ حکومت اس شعبے کو بھی دنیا میں موجود ماڈل کی طرز پر چلانا شروع کردے اور اس شعبے کو مکمل ڈی ریگولیٹ کردے۔کسان اور شوگر ملز کو آپس میں کاروبار کرنے دے۔صرف کسانوں کو ادائیگیوں کا خیال رکھے باقی گنے کی امداری قیمت اور چینی کی قیمت مقرر کرنے سے باہر نکل آئے۔کین کمشنر سے لے کر نیچے تک جو سرکاری عملہ کرپشن اور رشوت خوری کی لت میں مبتلا ہے اس سے بھی چھٹکارا ملے گااور اگر کسی بحران کا خدشہ ہو تو چپ کرکے چینی امپورٹ کرکے مارکیٹ میں لے آئے ویسے بھی تو ہر سال یہی مشق کرنی پڑتی ہے اور بدنامی الگ ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی باہر بھیجنے کے لیے کتنے جتن کیے یہ سب ہمارے سامنے ہے۔وزیراعظم کس طرح ایک ایک چیز پر یقین دہانی لیتے رہے۔کتنی میٹنگز ہوئیں پھر جاکر ایکسپورٹ کی اجازت اس واضح نوٹ کے ساتھ ملی کہ ملک میں چینی کی قیمت نہیں بڑھے گی لیکن پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔آگے بڑھ کر چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت لینے والے آج چھپے بیٹھے ہیں اور تنقید حکومت برداشت کررہی ہے۔
چینی کی قیمت بڑھنے پر حکومت نے فوری رد عمل کے طوپر شکر کی امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس عمل میں کچھ دن لگیں گے اور پھر چینی کی قیمتوں میں استحکام آنا شروع ہوجائے گا۔پاکستا ن میں جب بہت کچھ بدل گیا ہے تو اس طرح کے گورننس کے معاملا ت میں بھی بدلاؤ آنا لازمی ہے۔وزیراعظم شہبازشریف چینی کے معاملے پر انتظامی مشینری کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ کی اجازت لینے کے لیے قیمتیں نہ بڑھنے کی گارنٹی دینے والوں پر بھی غصہ ہیں۔ قیمتیں کیوں بڑھ گئیں؟ چینی ضرورت سے زیادہ تھی تو کم کیسے ہو گئی؟ جواب کوئی پہلے سے مختلف نہیں ہوں گے کیونکہ چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے وفاق کے ساتھ صوبوں کا کردار بہت اہم ہے ۔اور صوبائی حکومتیں یہ کردار اداکرنے کا تکلف کم ہی کرتی ہیں ۔چینی کے معاملے میں وفاقی سرکارکا کردار صرف ایکسپورٹ یا امپورٹ کی اجازت یا قیمت مقررکرنے تک رہ گیا ہے باقی کسان کے لیے سپورٹ پرائس صوبائی حکومتیں اپنے اپنے حساب سے مقرر کرتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کو روکنا ،سٹے بازوں کی بازی پلٹنا۔ سپلائی چین کو متواتر چلانا یہ سب کام صوبوں کے ذمہ ہیں۔ کام کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے لیکن ناکامی کی صورت میں بدنامی ساری وفاق جھیلتا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف شوگر کے معاملے پر بھی کوئی ایسی پکی پالیسی بنالیں گے جس سے مستقبل میں اس سیکٹر سے بری خبریں آنا بند ہو جائیں اور یہ کام شہبازشریف ہی کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دورمیں پنجاب میں چینی کے بحران پر قابوپاکر دکھایا تھا۔ انہوں نے چینی شوگر ملز کے گوداموں سے اٹھواکر بازاروں میں ٹرک کھڑے کردیے تھے اور عوام کو چالیس روپے کلو چینی یقینی بنادی تھی ۔وہ شہبازہیں انہیں ایسی پروازسے کون روک سکتا ہے۔