Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی: دہلی کے تحفظات اور ڈھاکہ کا ’بیلنسنگ ایکٹ‘

بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی: دہلی کے تحفظات اور ڈھاکہ کا ’بیلنسنگ ایکٹ‘

ڈھاکہ: شیخ حسینہ کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش ایک ایسی نئی سیاسی حقیقت میں داخل ہو گیا ہے جہاں اسے اپنے دو روایتی حریفوں، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنا ہے۔ طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کی واپسی نے جنوبی ایشیا میں سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے بی این پی کی فتح کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے طارق رحمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ مودی کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ    انڈیا خطے میں تنہائی سے بچنے کے لیے بی این پی کے ساتھ ’تعمیری شراکت داری‘ چاہتا ہے۔
    دہلی اب صرف ایک سیاسی جماعت (عوامی لیگ) پر انحصار کرنے کے بجائے بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کو تسلیم کر رہا ہے۔بنگلہ دیش اب ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں اسے اپنی تاریخ اور معیشت کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔     شیخ حسینہ کے جانے کے بعد ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان دہائیوں کی سرد مہری ختم ہو رہی ہے۔ بی این پی کی تاریخ پاکستان کے ساتھ خوشگوار رہی ہے، جو دہلی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ جغرافیائی طور پر انڈیا کے تینوں طرف سے گھرا ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش انڈیا کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ تجارت، بجلی کی فراہمی اور مشترکہ دریاؤں کا انتظام ایسے مسائل ہیں جو صرف دہلی کے تعاون سے حل ہو سکتے ہیں۔
 شیخ حسینہ کی انڈیا میں موجودگی بی این پی حکومت اور مودی انتظامیہ کے درمیان تناؤ کی سب سے بڑی وجہ بنی رہے گی۔ ڈھاکہ ان کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ بی این پی کے دور میں اس کی شمال مشرقی ریاستوں (Seven Sisters) میں علیحدگی پسند تحریکیں دوبارہ سر اٹھا سکتی ہیں۔ طارق رحمان کو ان خدشات کو دور کرنا ہوگا۔
 بی این پی کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ پاکستان سے دوستی نبھاتے ہوئے انڈیا کے ساتھ اپنے اربوں ڈالرز کے تجارتی تعلقات کو کیسے محفوظ رکھتی ہے۔بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات کا اگلا مرحلہ "جذباتی سیاست کے بجائے مفاداتی سفارت کاری" پر مبنی ہوگا۔ طارق رحمان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ذمہ دار عالمی لیڈر ہیں جو دہلی اور اسلام آباد دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھ سکتے ہیں۔

ٹیگز: