Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش میں قومی ریفرنڈم: 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا

بنگلہ دیش میں قومی ریفرنڈم: 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ ریفرنڈم بنگلہ دیش کے آئین میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز کے بارے میں تھا، جس کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت، اور سماجی انصاف کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

اس ریفرنڈم میں عوام سے جولائی نیشنل چارٹر کی تجویز پر رائے لی گئی تھی، جس میں پارلیمنٹ کو دو ایوانوں میں تقسیم کرنے، نئے آئینی ادارے بنانے اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل تھی۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم کی مدت اور صدر کے اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں تاکہ اقتدار کا ارتکاز روکا جا سکے۔

یہ اصلاحات جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہیں، جس کے ذریعے ملک میں سیاسی استحکام اور طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ریفرنڈم کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوام نے ان اصلاحات کی حمایت کی ہے، جس سے ملک کے آئینی اور سیاسی مستقبل کی سمت طے ہوگی۔

ٹیگز: