Wed, September 16, 2026

     قیامِ پاکستان۔۔۔ ولولوں، جذبوں اور قربانیوں کی داستان۔۔۔!

     قیامِ پاکستان۔۔۔ ولولوں، جذبوں اور قربانیوں کی داستان۔۔۔!



    اگست کا مہینہ آئے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اُن بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں، ہم ہزاروں افراد کے تہہ تیغ ہونے کو بھول جائیں، ہم لاکھوں افراد کے اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے اور بے سرو سامانی کے عالم میں مہاجر بننے کو بھول جائیں، ہم بیاس اور ستلج دریاﺅں کے کناروں پر بہنے والے خونِ ناحق کی ندیوں کو بھول جائیں، ہم بیل گاڑیوں اور چھکڑوں میں سوار اورپیدل چلنے والے لُٹے پُٹے قافلوں کو بھول جائیں ہم ریل گاڑیوں کے ڈبوں کے اندر اور چھتوں اور دروازوں کے ساتھ لٹکے ہوئے کٹے پھٹے اور زخموں سے چُور بے حال مسافروں کو بھول جائیں، ہم تقریباً آٹھ عشرے قبل کے اِن دل دوز مناظر کو کیسے بھول جائیں جن کی جھلکیاں کبھی کبھار ہمیں اخبارات کے صفحات اور ٹی وی کی سکرینوں پر نظر آجاتی ہیں۔یقینا ہم ان مناظر کو نہیں بھول سکتے کہ ان کا تعلق اُس بے مثال جدوجہد سے ہے جو برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں نے اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لئے ایک الگ خطِ ارض حاصل کرنے کے لیے کی ۔ یہ جدوجہد بلا شبہ عدیم المثال تھی۔ اس میں بڑے، بوڑھے، بچے، جوان اور مرد وزن سبھی شامل تھے۔ یہ اسی عدیم المثال جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مملکت دُنیا کے نقشے پر اُبھری۔۔۔ 14گست 1947 کو برصغیر جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے لیے الگ آزاد مملکت کا قیام ایک ایسا واقعہ تھا جس کی مثال قوموں کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ یقینا یہ منشاءالہٰی تھا ، یہ امر ربی تھا، یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا اور اُس کے پیارے حبیب ﷺ کی نظرِ کرم تھی کہ برصغیر جنوبی ایشیاءمیں جہاں مسلمان کم و بیش ایک ہزار سال تک حکمران رہے تھے اور جہاں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن اعلیٰ اخلاقی اقدار، مذہبی آزادی، وسعت نظری اور عدل و انصاف کی شاندار روایات قائم کی تھیں اور تعمیرو ترقی اور خوشحالی کے انمٹ نقوش چھوڑے تھے وہاں اُن کا اقتدار ختم ہوا تو انہیں انتہائی بے چارگی، بے بسی اور بے کسی کے ساتھ غلامی کے شب و روز اس انداز سے بسر کرنے پڑے کہ اُن کے لیے اپنے قومی وجود کے تحفظ اور ملی تشخص کو برقرار رکھنا ہی مشکل نہیں ہو گیا تھا بلکہ اُن کا دین ، اُن کا مذہب اور اُن کی تہذیب و ثقافت بھی ستم کا نشانہ بننے لگے تھے۔ اور اُن کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا کہ وہ برصغیر جنوبی ایشیاءکے جن خطوں میں اکثریت میں تھے ان خطوں کو ملا کر اپنے لیے ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کریں۔
    یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا کہ اُس نے برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کو انتہائی زوال اور انحطاط کے دور میں علامہ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ جےسے صاحبِ بصیرت اور صاحبِ درد رہنما عطا کیے جو قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو کنارے پر لانے کے لیے ناخُدا بن کر سامنے آئے ۔ اقبال جو کہ مفکر تھے ، جو اےک شاعر تھے جو دیدہِ بینا کے مالک تھے اور اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا پیغام مسلسل دے رہے تھے اور برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کے قومی وجود کے تحفظ کے بارے میں سخت فکر مند رہتے تھے انہوں نے دسمبر 1930 میں اپنے خطبہ الہ آباد میں برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کے جُداگانہ قومی وجود کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کے لیے الگ ملک کا مطالبہ پیش کر دیا۔ علامہ اقبال ؒ کے خطبہ الہ آباد کو سامنے آئے دس سال ہی گزرے تھے کہ 23 مارچ 1940 کو برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں نے اپنے میرِ کارواں محمد علی جناحؒ کی قیادت میں منٹو پارک لاہور (موجودہ اقبال پارک) میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور کر کے ایک الگ آزاد مملکت کے حصول کو باضابطہ طور پر اپنا قومی نصب العین قرار دے دیا ۔ یہ میرِ کارواں کی پکار تھی ، یہ منزل کے تعین کا یقین تھا، یہ منزلِ مقصود کو پانے تڑپ تھی، یہ ایثار ، قربانی اور عزمِ راسخ کا اظہار تھا، یہ عزم و یقین اور قوتِ ایمانی کا اعجاز تھا کہ انگریز حکمرانوں کی شاطرانہ اور منافقانہ چالیں اور ہندو اکثریت کی مخالفانہ سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں اور برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کے لیے آزادی کا سورج 14 اگست 1947 کو ایک نئی آزاد مملکت کے قیام کی صورت میں طلوع ہوا۔ 
    برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کے الگ ملک حاصل کرنے کے مطالبے ےعنی قےامِ پاکستان کے محرکات کے بارے مےں جتنا بھی غور کیا جائے ، جتنی بھی چھان پھٹک کی جائے ، جس حوالے اور جس پہلو سے جانچا جائے،سیاسی محرکات کو سامنے رکھا جائے، معاشی اور اقتصادی اسباب کو بنیاد بنایا جائے، مسلمانوں اور ہندوﺅں کے درمیان فکری اور تہذیبی تصادم کو اہمیت دی جائے، مسلمانوں کی مذہبی رواداری اور وسعت نظری پےشِ نظر رکھی جائے اور ہندوﺅں کی تنگ نظری پر نگاہ ڈالی جائے ، مسلمانوں اور ہندوﺅں کی باہمی آوےزشوں کا جائزہ لےا جائے، مسلمانوں کے اےک ہزار سالہ طوےل دورِ حکمرانی کے اہم واقعات اور فتوحات پر نظرےں دوڑائی جائےں اور اُن کی حکومت کے ختم ہونے کے اسباب کا جائزہ لےا جائے غرضیکہ کوئی بھی رُخ ہو ، کوئی بھی پہلو ہو اور کوئی بھی گوشہ ہو یہ حقیقت واضح طور رپر سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی الگ قومےت، اُن کا الگ تمدن اور اُن کا جُداگانہ ملی او ر مذہبی تشخص جسے عرفِ عام مےں دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے وہ بنےاد ہے جس کے تحت انہوں نے ایک الگ مملکت کے حصول کو اپنی منزل قرار دیا۔ یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں تھا کہ3 
جون 1947 کو تقسیمِ ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا تو وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بےٹن نے صرف اتنا ہی کہا کہ ہندوستان میں انتقالِ اقتدار 15 اگست تک کر دیا جائے گا۔ اُس وقت 14 اگست کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ 14اور 15 اگست 1947 کی درمےانی رات لےلة القدر ہو گی جو برصغیر جنوبی ایشیاءکے مسلمانوں کی آرزﺅں اور تمناﺅں کی تکمیل کی مبارک ساعت بنے گی ۔یقینا یہ منشائے ربانی تھا کہ یہ خطہِ ارض جو اُس کے نام پر حاصل کیا جا رہا تھا اُس کا قیام لیلة القدر کی مبارک ساعتوں میں عمل میں آیا۔ 

ٹیگز: