Wed, September 16, 2026

یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔۔ قربانیوں کی لازوال داستان

یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔۔ قربانیوں کی لازوال داستان

سری نگر:ہر سال 13 جولائی کو کشمیری عوام یومِ شہداء کشمیر عقیدت و احترام سے مناتے ہیں، تاکہ 1931 کے اس المناک واقعے کو یاد رکھا جا سکے جب سری نگر جیل کے باہر اذان کی تکمیل کے لیے کھڑے 22 نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ دن کشمیریوں کی قربانی اور حریت کی نشانی ہے، جس نے ظلم کے خلاف ان کی جدو جہد کو ایک نیا جوش دیا۔

وہ وقت تھا جب ڈوگرہ راج نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے۔ جمعہ کے خطبے پر پابندی، قرآن کی بے حرمتی، زمینوں پر قبضہ، اور نوجوانوں کے خلاف غداری کے جھوٹے مقدمات عام تھے۔ 22 نوجوانوں کی شہادت محض اذان کی تکمیل کی کوشش نہیں، بلکہ ایک آزاد قوم کی جانفشانی کی علامت ہے۔
آج بھی وہی جبر اور ظلم بھارتی ریاست کی جارحانہ پالیسیوں کی صورت میں جاری ہے۔ 5 اگست 2019 کو جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو یکطرفہ طور پر ختم کیا، تو اس نے نہ صرف کشمیریوں کی سیاسی شناخت کو مٹانے کی سازش کی، بلکہ ان کے بنیادی حقوق کو بھی بری طرح پامال کیا۔ کشمیریوں سے ووٹ کا حق چھینا گیا، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اور ہر قسم کی آواز کو زبردستی دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی حریت کی جدوجہد کو ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جا سکے۔

بھارت نے مقبوضہ وادی میں کالے قوانین جیسے AFSPA اور PSA کے ذریعے امن پسند عوام کو عسکری قید میں ڈال رکھا ہے۔ ہزاروں کشمیری قید، شہید اور لاپتہ ہیں، مگر کشمیریوں کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ یومِ شہداء کشمیر صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ آج بھی آزادی کی جدوجہد کی زندہ علامت ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام نے قربانیوں کا جو سفر شروع کیا ہے، وہ ختم ہونے والا نہیں۔ تاریخ کے صفحات میں کشمیری شہداء کے نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے جو ظلم کے آگے کبھی نہیں جھکے

ٹیگز: