Wed, September 16, 2026

اقتدار پاکستان میں، جائیدادیں لندن میں۔۔ یہ کھیل کب تک؟

اقتدار پاکستان میں، جائیدادیں لندن میں۔۔ یہ کھیل کب تک؟

پاکستان میں یہ بحث کوئی نئی نہیں کہ طاقتور طبقے چاہے وہ سیاسی ہوں، کاروباری، مذہبی یا سول و ملٹری بیوروکریسی، ملک میں اقتدار اور اثر و رسوخ سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مگر اپنی دولت اور مستقبل کے لیے بیرونِ ملک کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ موضوع ایک بار پھر اس وقت گرم ہوا جب خواجہ آصف نے بیان دیا کہ بیوروکریسی کے کئی اعلیٰ افسران نے بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ اس ایک جملے نے عوامی حلقوں میں ایک پرانا زخم تازہ کر دیا ہے۔ کیا ہمارے فیصلہ سازوں کا دل، دماغ اور سرمایہ سب پاکستان میں ہے یا صرف ان کا دفتر؟ برطانیہ، امریکہ، سوئٹزرلینڈ کے بعد کے بعد شہ دماغوں نے آسٹریلیا کے جزیروں اور پرتگال کو بھی اپنی دولت سے فتح کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرا سوچئے ایک عام پاکستانی ساری زندگی ٹیکس، مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور مہنگے علاج سے لڑتا رہتا ہے، مگر اس کے ملک کے بڑے بڑے رہنما اور افسران اپنی جائیدادیں لندن، دبئی، نیویارک، ٹورنٹو یا پرتگال میں رکھتے ہیں۔ ان کے بچے وہاں پڑھتے ہیں، بینک اکاؤنٹس وہاں ہوتے ہیں اور اکثر شہریت بھی۔ پھر وہی لوگ وطن واپس آ کر اقتدار میں بیٹھ جاتے ہیں اور عوام کو حب الوطنی کے لیکچر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کا اپنا سرمایہ اور مستقبل پاکستان کے بجائے کسی دوسرے ملک میں محفوظ ہے تو کیا آپ واقعی اس ملک کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی لیں گے؟
دنیا کے کئی ممالک میں اس مسئلے کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں۔ وہاں او آئی سی ’’اوورسیز آف انڈیا‘‘ کا سٹیٹس دیا جاتا ہے جو تجارت اور رہائش تو دیتا ہے مگر سیاسی عہدہ یا حساس سرکاری نوکری دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح امریکہ، کینیڈا یا آسٹریلیا میں عوامی نمائندوں کے لیے سخت ڈیکلریشن لازمی ہوتا ہے۔ اگر اثاثے چھپائے جائیں تو فوری قانونی کارروائی اور نااہلی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی آئین اور قوانین موجود ہیں، مگر یہاں مسئلہ ان قوانین کا اطلاق ہے۔ طاقتور کے لیے اکثر قانون نرم ہو جاتا ہے، اور کمزور کے لیے آہنی ہاتھ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاناما پیپرز جیسے بڑے انکشافات دیکھے، بڑے بڑے سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات (450 سے زائد افراد) کے نام آئے، مگر کیس صرف نواز شریف کے خلاف چلایا گیا۔ انہیں وقتی سزا یا نااہلی ملی، مگر زیادہ تر معاملات وقت کے ساتھ ختم ہو گئے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ کیسز شروع ہی سیاسی ضرورت کے تحت کیے گئے تھے یا ختم کرنا بھی سیاسی مجبوری تھی؟
پاکستان کے کاروباری طبقے میں ملک ریاض حسین کی مثال نمایاں ہے۔ ایک ایسا شخص جس پر سیکڑوں اربوں روپے ریاست کو ادا کرنے کا معاملہ چل رہا تھا، وہ بآسانی ملک سے باہر گیا، دبئی میں نیا منصوبہ شروع کر دیا اور تصویریں جاری کر کے گویا یہ پیغام دیا کہ طاقت اور پیسہ ہر قانون کو شکست دے سکتا ہے۔ یہ بات نہ صرف عام شہری کے لیے ناقابلِ قبول ہے بلکہ ریاست کے وقار کے لیے بھی خطرناک پیغام ہے۔ یہ صرف ایک مثال نہیں، بلکہ درجنوں کاروباری نام ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان سے دولت کمائی، یہاں سے منافع نکالا، مگر سرمایہ کاری اور جائیدادیں کسی دوسرے ملک میں بنائیں۔ ان کے لیے پاکستان منافع کمانے کی جگہ ہے، مگر سرمایہ محفوظ رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔
بیوروکریسی چاہے سول ہو یا فوجی، اس کے پاس ریاستی مشینری اور پالیسی پر سب سے زیادہ اختیار اور اثر ہوتا ہے۔ اگر ان پالیسی سازوں کی اپنی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس بیرونِ ملک ہوں تو کیا وہ فیصلے کرتے وقت ملک کے مفاد کو ترجیح دیں گے یا اپنے محفوظ اثاثوں والے کے ملک کے مفاد کو؟ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں فوجی یا حساس سول عہدے رکھنے والوں کے لیے سخت شرط ہے کہ وہ غیر ملکی شہریت یا اثاثے نہیں رکھ سکتے۔ پاکستان میں بھی یہ اصول ہونا چاہیے کہ کوئی سرکاری ملازم، سیاستدان یا فوجی وسول بیوروکریٹ دوہری شہریت نہ رکھ سکے اور نہ ہی بیرونِ ملک اثاثے۔ اگر کسی کے پاس ہیں تو وہ مکمل طور پر ڈکلیئرڈ ہوں، ماخذ شفاف ہو اور عوامی ریکارڈ پر موجود ہوں۔ بعد از ریٹائر منٹ بھی دریافت ہونے والے غیر معمولی ا ثاثوں کی چھان بین ہونی چاہیے۔
ہمارے مذہبی طبقے میں بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو اندرون و بیرونِ ملک چندہ اکٹھا کرتے ہیں، وہاں پُر تعیش جائیدادیں خریدتے ہیں اور پھر وطن واپس آ کر عوام کو قربانی اور کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ تو خیر اپنی طرزِ زندگی سے ہی ظاہر کر دیتی ہے کہ ان کا اصل اعتماد کہاں ہے۔ پاکستان میں یا لندن کے کسی فلیٹ میں۔ اکثر بیرونِ ملک جائیدادیں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ رقم پہلے ہنڈی یا دیگر ذرائع سے باہر بھیجی جاتی ہے، پھر وہاں پراپرٹی یا کاروبار میں لگا دی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں قومی دولت نہ صرف ملک سے باہر جاتی ہے بلکہ معیشت پر دگنا بوجھ پڑتا ہے۔ ایک تو سرمایہ نکل جاتا ہے، دوسرا ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ اس سارے عمل کا خمیازہ عوام کو بھاری ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔
اگر پالیسی ساز اور فیصلہ کرنے والے واقعی عوام اور ریاست کے ساتھ مخلص ہیں، تو سب سے پہلے انہیں خود قربانی دینا ہو گی۔ صاف اور سخت قانون بنائیں جس کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا یا پالیسی ساز دوہری شہریت نہ رکھ سکے، بیرونِ ملک اثاثے صرف اسی صورت میں رکھے جا سکیں جب وہ مکمل طور پر ڈکلیئرڈ اور قانونی ہوں، احتساب کا عمل ہر حکومت میں جاری رہے چاہے اس کی زد میں اپنے لوگ آئیں یا مخالفین، اور منی لانڈرنگ اور غیر قانونی رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی پر فوری اور سخت کارروائی ہو۔
عوام اس وقت ریاست پر اعتماد کریں گے جب انہیں یقین ہو گا کہ ان کا رہنما اور پالیسی ساز خود بھی انہی حالات کا سامنا کر رہا ہے جو عام آدمی کو پیش آتے ہیں۔ اگر اشرافیہ اپنے بچوں کو باہر پڑھائے، اپنی صحت کے لیے لندن جائے، اپنی جائیدادیں دبئی اور نیویارک میں رکھے، تو وہ کبھی بھی اس ملک کے مسائل کو حل کرنے کی شدت اور سنجیدگی محسوس نہیں کرے گی جو ایک عام آدمی محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مضبوط، خود مختار اور خود دار ریاست بننا چاہتے ہیں، یا ہم نے اسے ایک ایسی جگہ بنا دیا ہے جہاں طاقتور آ کر منافع کمائیں اور پھر اپنا سب کچھ کسی اور ملک میں محفوظ کر لیں؟ اگر ہم واقعی قومی مفاد میں فیصلہ کریں تو یہ مسئلہ چند مہینوں میں حل ہو سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور احتساب کا عمل کسی کی ذات یا جماعت کے لیے مخصوص نہ ہو۔

ٹیگز: