تہران:ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ سمندری راستوں کو بند کرنے کی کوشش خود امریکہ کے لیے معاشی ڈراؤنا خواب ثابت ہوگی۔
سپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو ابھی سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا "ٹرمپ صاحب! فی الحال تیل کی جو قیمتیں آپ دیکھ رہے ہیں ان سے جی بھر کر لطف اٹھا لیں، کیونکہ ہماری ناکہ بندی کے بعد جب عالمی مارکیٹ ہلے گی، تو آپ کو آج کا ریٹ 4 سے 5 ڈالر فی گیلن بھی سستا معلوم ہوگا۔
یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اسلام آباد مذاکرات میں جوہری اتفاق نہ ہونے پر ایران کی عسکری و معاشی طاقت کو مفلوج کرنے کی دھمکی دی تھی۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور امریکی ناکہ بندی کے خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو "ٹول ٹیکس" دینے والے جہازوں کو روک دیں گے، جس کے جواب میں ایرانی حکام کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے قواعد و ضوابط طے کرنا ایران کا خود مختار حق ہے۔ایرانی سپیکر کے اس تند و تیز جواب کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے "تیل کے ہتھیار" کی دھمکی دے کر ٹرمپ انتظامیہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑے گی۔