Wed, September 16, 2026

نئی جنگ اور نئے مذاکرات کا انتظار کیجئے

نئی جنگ اور نئے مذاکرات کا انتظار کیجئے

امریکہ، ایران مذاکرات ناکام ہوئے، کسی نتیجے، کسی معاہدے پر نہ پہنچا جا سکا لیکن پاکستان کی اس حوالے سے کوششوں کو دنیا سراہ رہی ہے۔ پاکستان نصف صدی میں تین مرتبہ دنیا کی توجہ بنا ہے۔ دسمبر 1971ءمیں پاکستان دولخت ہوا تو دنیا اِدھر متوجہ ہوئی کہ یہ کون سا ملک ہے جو وجود میں آنے کے بعد اتنا جلد دولخت ہوا ہے اور کیوں ہوا ہے۔ دوسرا موقع وہ تھا جب پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ ترک کرتے ہوئے چھیڑ چھاڑ جاری رکھنے کی پالیسی اپنا لی۔ اب پاکستان کو اسرائیل امریکہ کے ایک بڑے حملے اور اس کی ایران کے خلاف چالیس روزہ جنگ میں عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی میزبانی حاصل ہوئی۔ بلاشبہ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ خطرات اور خدشات کے گھنے بادلوں میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر صرف اس لیے بٹھایا جا سکا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات تھے۔ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کیا اور پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل کی میزبانی کا اہل ہے۔ مجھے ذاتی طور پر مذاکرات شروع ہونے سے قبل اندازہ تھا کہ مذاکرات ناکام رہیں گے لیکن اس خیال سے خاموشی اختیار کی کہ اگر شکل اچھی نہ ہو تو بات ہی اچھی کرنی چاہیے یوں بھی امن سے محبت کا تقاضا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی نہ بھی نظر آتی ہو تو اس کے لیے دعائیں جاری رکھنی چاہئیں اور انتظار کرنا چاہیے، پس انتظار کیا۔ یہ انتظار اس وقت ختم ہوا جب امریکی نائب صدر نے مذاکرات کے خاتمے اور کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا اعلان اپنی چند منٹ کی پریس کانفرنس میں کیا اور امریکہ واپسی کی راہ لی۔ میری دانست میں امریکہ نے یہ مذاکرات بدنیتی سے شروع کیے تھے۔ آغاز مذاکرات سے قبل ہی منفی بیان بازی شروع کر دی گئی، ایران کو دھمکایا گیا، اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے لبنان پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کر دیا، اس میں تین سو سے زائد افراد شہید ہو گئے۔ زخمیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اعلان کر دیا کہ مذاکرات میں لبنان کا معاملہ زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، اس پر ایران نے احتجاج کیا جبکہ وزیراعظم پاکستان نے تصدیق کی کہ امریکہ سے بات کرنے اور اس کی رضامندی سے یہ نکتہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا تھا۔ ہفتے کے روز جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جاری تھا تو امریکہ نے اپنا ایک بحری بیڑا آبنائے ہرمز کی طرف داخل کر دیا، اس کے جہاز کو وارننگ جاری کی گئی جس پر اس نے اپنا رخ موڑ لیا۔ مذاکرات ختم نہ ہوئے تھے، ابھی کسی کنارے نہ پہنچے تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بیان سامنے آ گیا جس میں کہا گیا کہ تم مذاکرات مذاکرات کھیلتے رہو، میں ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہوں۔ دوران مذاکرات ہی ہفتے کی رات امریکی صدر کا بیان ٹی وی میڈیا پر جاری ہوا کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہو گئے ہیں اور وہاں موجود اٹھائیس ایرانی کشتیاں اس وقت سمندر کی تہہ میں پہنچا دی گئی ہیں۔ مذاکراتی دور کے درمیان اس قسم کی خبریں دنیا تک پہنچانے کا اہتمام نظر آیا اس کی کیا ضرورت تھی، یہ امریکی ٹیم کی واپسی کے بعد اب دنیا کو سمجھ آ جانی چاہیے۔
مذاکرات ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ دروازہ بند ہوا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اب جنگ دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔ مذاکرات کا ایک نیا دور پاکستان میں یا روس میں ہو سکتا ہے لیکن اس سے قبل جنگ کا میدان گرم ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ جنگ اسرائیل اور امریکہ دونوں کی خواہش پر شروع ہوئی تھی۔ دونوں کی خواہش پر مزید آگے بڑھے گی۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ ایسا چاہتی تھی نہ آئندہ چاہے گی لیکن دو سالا بہنوئی، نیتن یاہو اور ٹرمپ یہی چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل میں انتخابات سر پر ہیں۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ دونوں میدان سے آو¿ٹ نظر آتے ہیں۔ نیتن یاہو کے خلاف گزشتہ روز سے بند کرپشن مقدمات کی سماعت شروع ہو چکی ہے جبکہ ٹرمپ کے سر پر مواخذے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ انتخابات جاری برس نومبر میں ہونا ہیں۔ پس دونوں کی خواہش ہے کہ جنگ کا ایک راو¿نڈ اور ہو جائے اور دنیا کی توجہ ان کے جرائم کی بجائے جنگ کی طرف مبذول رہے۔ ایران نے کبھی جنگ کی خواہش نہیں کی لیکن حملے کے بعد اس کا مو¿ثر ترین جواب دینے کی تیاری مکمل رکھی۔ اس تیاری کا ایک نیا روپ دوسرا راو¿نڈ شروع ہونے کے بعد دنیا دیکھے گی۔ امریکی مذاکراتی ٹیم میں غیرسنجیدہ افراد کی نامزدگی سے اندازہ ہو چلا تھا کہ امریکہ ان مذاکرات کو کسی خوشگوار انجام تک نہیں لے جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی ٹیم سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے قیام میں ایک روز کا اضافہ کر دیں۔ وہ نہ مانے امریکی ٹیم کے پاس ہفتہ اور اتوار کا مکمل دن موجود تھا لیکن واضح ہو رہا تھا وہ بہت عجلت میں ہیں۔ انہوں نے ہفتہ کے روز شروع ہونے والے مذاکرات رات بھر جاری رکھے لیکن اتوار کی علی الصبح قریباً چھ بجے مذاکرات ختم اور اپنی روانگی کا اعلان کر دیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ امریکی نائب صدر ہر کچھ دیر بعد واشنگٹن سے ہدایت حاصل کرتے تھے اور دوسرے فریق کے مو¿قف سے مطلع کرتے تھے پھر جانے اچانک کیا ہدایت ملی کہ انہوں نے ساتھ میں موجود وقت کو بھی استعمال کرنا مناسب نہ سمجھا اور رختِ سفر باندھ لیا۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر امریکی ٹیم میں پراپرٹی ڈیلروں کی بجائے سفارتکاروں کو شامل کیا جاتا تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا، میں اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ امریکہ اپنی مذاکراتی ٹیم پر ہر نکتہ واضح کر کے اسے مذاکراتی میز پر بٹھاتا ہے۔ یہاں چوٹی کے امریکی سفارتکار بھی موجود ہوتے تو نتیجہ صفر ہی برآمد ہونا تھا۔ اس لیے کہ امریکہ صرف چند روز کیلئے جنگ سے ریلیف چاہتا تھا۔ یہی خواہش اسرائیل کی تھی۔ دونوں کم از کم مزید کچھ ماہ کے لیے جنگ کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ دونوں کا مقصد جنگ ختم کرنا نہیں بلکہ جنگ کو ایک نئی شکل دینا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم دو ایک اسلامی ملک اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ دوسری کوشش یہ ہے کہ نیٹو کو توڑنے یا اس سے نکل جانے کی دھمکی دے کر نیٹو ممالک کو آبنائے ہرمز کھولنے، اس کا کنٹرول اپنے قبضے میں کرنے کے لیے اس جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔ایران اور اس کے اتحادی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ٹرمپ مواخذے کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ اگر وہ اس سے بچ گیا تو اس عرصہ میں اسرائیل ایک نئی تباہی سے دوچار ہو گا جس کے بعد روس کے دارالحکومت میں شروع ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جن کے بعد امریکہ اور اسرائیل ان سے سرمُو انحراف نہ کر سکیں گے پس مذاکرات کے نئے دور کا انتظار کیجئے۔

ٹیگز: