لاہور:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 27 اپریل کو لاہور میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑا مارچ منعقد کیا جائے گا۔
کراچی میں شاہراہِ قائدین پر "اسرائیل مردہ باد ملین مارچ" سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع فلسطینیوں کے لیے امید کی کرن ہے، اور ہم ان کے ساتھ ہیں، چاہے اس راہ میں ہمیں کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
مولانا کا کہنا تھا کہ فلسطینی بچوں اور خواتین کی شہادتیں بھی اگر حکمرانوں کو بیدار نہ کر سکیں تو یہ مارچ ان پر کیا اثر ڈالے گا؟ انہوں نے حکمران طبقے کو بے حس قرار دیا اور امتِ مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حقوق اور مظلوموں کی حمایت کے لیے میدان میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوئی ریاست نہیں بلکہ غاصب قوت ہے جو فلسطینی سرزمین پر قابض ہے۔ مولانا نے امریکا اور یورپی ممالک کو فلسطینیوں کے خلاف ظلم و بربریت کا شریکِ جرم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے سفارتی یا تجارتی تعلقات قائم کرنے کی باتیں خواب و خیال ہیں، ایسی کوئی کوشش عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "اب فیصلے ایوانوں میں نہیں، میدانوں میں ہوں گے۔"
جلسے کے دوران عوام نے "قاتل قاتل نیتن یاہو قاتل" اور "نیتن یاہو کو پھانسی دو" جیسے نعرے لگا کر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا۔
مولانا نے واضح کیا کہ فلسطین کی حمایت میں جو بھی آواز اٹھے گی، جے یو آئی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔