Wed, September 16, 2026

دہشتگردوں سے ہر جنگ لڑیں گے

دہشتگردوں سے ہر جنگ لڑیں گے

4اپریل 1979ء کو میٹرک کے امتحان کاجنرل سائنس کاآخری پرچہ تھا ۔ اندرون لاہو ر کے لوہاری دروازے سے نکالا تو سامنے نیو انارکلی کے موڑ پر اخبارات کے کھوکھے پر لوگوں کے رش نے توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ۔ اخبار فروش چیخ چیخ کر ضمیہ بیچ رہا تھا :’’ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی ‘‘۔میرے پائوں تلے سے زمین نکل گئی ۔ٹوٹے دل کے ساتھ سینٹر میں پہنچا ٗ امتحان دیا اور یہی سوچتا رہا کہ آج پھر 77ء جیسی ہنگامہ آرائی دیکھنا پڑے گی اورپھر کچھ بھی نہیں ہوا ۔ 27دسمبر 1979ء کو روسی فوجیں افغانستان پہنچ گئیں یا بلا لی گئیں اور پھر ایک ایسی جنگ شروع ہوئی جس نے ہمیں افغان مہاجرین دیئے اور افغان مہاجرین نے اس خطے کو ہر وہ شے دی جو اُن کے آباو اجد بھی دینے میں ناکام رہے تھے ۔ 80 ء کی دہائی میں پاکستان منیشات ٗ ناجائز اسلحہ ٗ نوسربازی ٗ قبضہ مافیاء اور چھوٹے جرائم کی دلدل میں اترتا چلا گیا ۔ اندرون ِ؎ لاہورسے لے کر کراچی اور حیات آباد سے لے کر کوئٹہ تک افغانوں کی جائے پناہ بن گیا۔دیکھتے دیکھتے چھوٹے کاروبار سے بڑی وارداتوں تک سب کچھ افغانیوں کے ہاتھ میں چلا گیا ۔ 27دسمبر 2007ء نے ایک بار پھر پاکستان کو بنیاد سے ہلا کر رکھ دیا جب پاکستان کی سیاسی بصیرت محترمہ بے نظیربھٹو اپنے تاریخی خطاب کے بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کردی گئیں۔محترمہ سارا پاکستان بچانا چاہتی تھیں لیکن سارا پاکستان مل کر محترمہ کو نہ بچا سکا ۔ محترمہ کے ساتھ میرے کالج کے زمانے کادوست ظہیر خان بھی شہید ہو گیاجس کا زخم میں ہر سال اپنی شادی کی سالگرہ پر ہرا کرلیتا ہوں ۔ضرب ِ عضب شروع ہو ا تو اللہ نے دوسری بیٹی دی تو اُس کانام عضب جمشید رکھاتاکہ میرے بعد بھی میری بیٹی دنیا کو بتاتی رہے کہ افواج پاکستان نے دہشتگردوں کو اس خطے سے نکال باہر کرنے کیلئے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔جن لوگوں کے ذہن میں یہ ہے کہ میں آج نیازی کی مخالفت کسی بغض کی وجہ سے کر رہا ہوں اُن کم فہم لوگو ں کیلئے گیارہ سال پہلے رکھا ہوا میری بیٹی کانام ہی کافی ہے ۔ گناہ و ثواب کی اس دنیا میں ہر گناہ کیا ہو گا لیکن دہشتگردوں کی حمایت کاگناہ کرنے سے اللہ نے ہمیشہ محفوظ رکھا ۔ تحریک انصاف میں رہتے ہوئے یہ موقف رکھنا عجیب و غریب تھا لیکن میں جانتا تھا کہ قاتلوں سے دوستی کا انجام صرف مقتول فراہم کرتا ہے ۔ عمران نیازی کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں دراصل پاکستان میں طالبان کا سیاسی چہرہ تھا ۔ یار لوگوں کا خیال ہے کہ دہشگردوں کی واپسی کا عمل2021ء میں نہیں 2020 ء میں شروع ہوا ۔ میں اس بیانیے پر ہنس ہی سکتا ہوں کیوں کہ میرے نزدیک تو دہشتگردوں کی حکومت عمران نیازی کے خلف اٹھانے کے بعد ہی شروع ہو چکی تھی ۔ دہشتگردوں کی فکر جیت چکی تھی باقی سب کام تو کلرکوں نے کرنا تھا ۔ نیشنل کاونٹر ٹیرازم اتھارٹی کی روپوٹس اپنی جگہ درست ہیں کہ ’’ مذاکراتی عمل‘‘ کے ذریعے کئی کئی درجن دہشتگرد خاندان پاکستان لائے گئے۔جن کی منظوری عمران نیازی اور اُس کے صوبائی چیف ایگزیکٹو نے دی جو صرف اور صرف نیازی حکومت کا فیصلہ تھا ۔ دہشتگردوں کی واپسی اور آباد کاری کی تجویز بھی ’’ ری کنسلی ایشن پالیسی ‘‘کے نام سے پی ٹی آئی حکومت کاسیاسی فیصلہ تھاجسے اُس وقت کے وفاقی وزیر دفاع ٗ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے پی کے ٗکے زیر غور رہا ۔ جسے فوج نے ’’پالیسی فریم ورک ‘‘ بنانے کی صورت میں مدد کرنے کی حامی بھری یعنی یہ فیصلہ بھی سیاسی تھا عسکری نہیں ۔یہ عمران نیازی ہی تھا جس نے اپنے دور ِ حکومت میں ’’سابقہ قبائلی اضلاع ‘‘میں کالعدم تنظیموں کے درجنوں اراکین کے خاندانوں کو واپس پاکستان لایا۔ان کی ’’اسکریننگ ‘‘اور’’ دوبارہ آباد کاری ‘‘کے انتظامات صوبائی محکمہ داخلہ نے کیے ، 2021 ء میں 180 سے زائد ایسے خاندان واپس لائے گئے جن میں سے زیادہ تر دوبارہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے ۔ اب یہ سب کچھ ہوا میں تو نہیں ہوا ریکارڈ پر موجود ہے جسے دیکھا جا سکتا ہے ۔کور کمیٹی اجلاسوں اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگز کے مطابق ایسے عناصر کو بغیر مکمل نگرانی یا قومی اتفاقِ رائے کے واپس لانا خطرناک تھا مگر عمران نیازی کی پلاننگ سے تو اُس کے اپنے قریبی دوست بھی لاعلم تھے ۔ مقامی قیادتوں نے اپنی رشتے داریوں اور تاریخی روابط کے پس منظر میں دیکھا اور یوں عمران نیازی اپنے غیر اعلانیہ لشکر کو مستقبل میں دہشتگردی کے حوالے سے استعمال کرنے کیلئے اکٹھا کرتا رہا ۔ موجودہ دہشت گردی کی لہر کسی غار سے برآمد نہیں ہوئی بلکہ سے پے درپے غلط پالیسوں کا تسلسل ہے کیونکہ سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق 2022–2024 کے دوران دہشت گردی کے 60% واقعات میں وہی عناصر ملوث تھے جو افغانستان سے ’’واپس لائے گئے‘‘یا  انہیں ’’چھوٹ ‘‘دی گئی اور وہ آج تک  انہیں ’’پالیسیوں ‘‘ سے مستفید ہو رہے ہیں ۔آج پی ٹی آئی قیادت کا یہ ’’ دعوی‘‘ کہ ہمارے نمائندوں نے اُس وقت مخالفت کی تھی سوائے جھوٹ کے پلندے کے کچھ نہیں ہے کیونکہ ایسا کچھ بھی کابینہ یا صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں کے منٹس میں تحریر نہیں ہے ۔ عمران نیازی تو خوا ب میں دہشتگردوں کی مخالفت کا نہیں سوچ سکتا تو پھر اس کی سیاسی جماعت ایسا کیسے کر سکتی ہے؟البتہ جھوٹ تحریک انصاف کی گھٹی میں ہے اور وہ جھوٹ کو سچ بنانے کی ہر کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ سچ اور جھوٹ دونوں اپنے نتائج کے حوالے سے دیکھے جاتے ہیں ۔ہر وہ فعل جس کے نتیجہ میں انارکی ٗ دہشتگردی ٗ افلاس ٗ بھوک ٗ بیروز گاری ٗ قتل وغارت گری پھیلے وہ جھوٹ ہے او ر ہر وہ فعل جو خوشحالی ٗ محبت ٗ امن ٗ پیار ٗرنگ ٗ احترام لے کرآئے سچ ہے ۔جرم کی اعلیٰ ترین خوبی یہ ہے کہ یہ مجرم کا ساتھ نہیں دیتا جبکہ مجرم کی زندگی اس لئے بھی قابل نفرت ہوتی ہے کہ وہ ہر آس اپنے جرم کے بہتر نتائج سے رکھتا ہے ۔ ڈی جی ٗ آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سنی تو خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہم برسوں سے جو رونا رو رہے تھے پاکستان کے دفاعی اداروں نے بھی وہی نتیجہ نکال لیا ۔ پاکستان میں کسی دہشتگرد یا دہشتگردوں کے سہولت کار کو حکومت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا خمیازہ ہم پہلے بھی بھگت رہے ہیں ۔پاکستان سے افغانیوں کا انخلاء تو انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ دہشتگردوں کے حمایتوں ٗ سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی سبق سکھانا ہو گا کہ پاکستان پر کسی مصلحت یا مصالحت کا شکار نہیں ہوا جا سکتا ۔ دہشتگردوں سے ہرجنگ لڑیں گے کہ یہ ہمارے بہترین مستقبل کی جنگ ہے۔

ٹیگز: