پی ایچ ڈی کے کورس ورک کی تکمیل کے بعد تھیسیس پر کام کر رہا تھا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہوا الٹرا ساؤنڈ کرایا تو پتہ چلا کہ دونوں گردوں میں دوبارہ پتھریاں بن گئی میں اسی یورولوجسٹ کے پاس گیا جنہوں نے بارہ سال قبل جناح ہسپتال میں میرا آپریشن کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پتھریوں کے سائز بڑے ہیں لہٰذا آپریشن ہوگا۔ اب آ پ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے کٹ والا آپریشن نہ کرائیں۔ کیمرے والا کرائیں اور اس کے لئے پی کے ایل آ ئی میں ڈاکٹر ندیم بن نصرت کے پاس چلے جائیں۔ یہ مارچ 2023ء کی بات ہے۔ میں پی کے ایل آ ئی چلا گیا۔ ڈاکٹر ندیم بن نصرت نے میرا الٹرا ساؤنڈ دیکھ کر کہا کہ ایک گردے کا پی سی ایل این اور دوسرے کا یو آ ر ایس یوگا دونوں پروسیجر اکھٹے ہوں گے جس کے ایک دن بعد آ پ ہسپتال سے فارغ ہو جائیں گے اور تین دن ریسٹ کرنے کے بعد آ پ اپنے ڈیوٹی پر جاسکتے ہیں۔ جب لاکھوں روپے دے پروسیجر کرایا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کچھ پتھریاں رہ گئی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے مزید آپریشن ہونگے۔ اکتوبر تک میرے تین آپریشن اور لتھوٹرپسی کے دو آپریشن ہوئے اس کے بعد جب الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کرایے تو پتھریاں ابھی باقی تھیں جس پر ڈاکٹر ندیم نے کہا کہ دونوں گردوں کے پھر آپریشن ہوں گے۔ جس پر میں نے کہا کہ میں مالی اور جسمانی طور پر تھک چکا ہوں مجھے بحالی کے لیے کچھ وقت دیں۔ یہ کہہ کر میں پی کے ایل آ ئی سے گھر آ گیا اور پی ایچ ڈی کے تھیسیس پر دوبارہ کام شروع کردیا الحمدللہ دسمبر 2024ء میں میرا ڈیفنس ہو گیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایم فل دو سال میں لوگ کرلیتے ہیں مجھے گردوں کے آپریشن کی وجہ سے تین سال لگے اسی طرح پی ایچ ڈی لوگ تقریباً پانچ سال میں کرلیتے ہیں مجھے ایک بار پھر گردوں کے آپریشن اور بیماری کی وجہ سے سات سال لگے۔ میں نے اپنے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کی تکمیل میں تاخیر کا جو عذر پیش کیا ہے اس سے مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے جو 1983ء میں ایم اے او کالج میں پیش آیا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے :
میں ان دنوں گورنمنٹ ایم اے او کالج میں بی اے کر رہا تھا ایک روز کسی کام کے سلسلے میں استاد محترم جناب عطا ء الحق قاسمی کے کمرے میں گیا تو وہاں پر امجد اسلام امجد بھی تشریف فرما تھے۔ عطاء الحق قاسمی کچھ لکھنے میں مصروف تھے مجھے کہنے لگے کہ تھوڑی دیر ادھر ہی بیٹھ جائیں میں فارغ ہو کر آ پ کی بات سنتا ہوں۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا امجد صاحب نے دور سے ہی دیہاتی گیٹ اپ میں ایک شخص کو پہچان لیا اور قاسمی صاحب سے مخاطب ہوکر بولے کہ اس آ دمی کے بیٹے کے میٹرک کے نمبر بہت کم ہیں اور میرے پیچھے پڑا ہے کہ اس کالج میں اس کا داخلہ کرائیں۔ اکثر والدین کا مؤقف یہ ہوتا ہے ان کا بچہ بہت لائق ہے بس امتحان کے دوران بیمار ہو گیا تھا اس لیے نمبر کم آ ئے ہیں اب دیکھنا یہ شخص بھی یہی کہے گا۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ دیہاتی شخص اپنے بیٹے کے ساتھ کمرے میں آ گیا امجد صاحب نے اس دیہاتی شخص سے کہا کہ آ پ کا بیٹا تو بڑا ذہین لگتا ہے اس کے نمبر کیوں کم آ ئے ہیں یہ امتحان کے دوران بیمار تو نہیں ہو گیا تھا امجد صاحب کا یہ جملہ سن کر وہ دیہاتی شخص چونکا اور بڑے پرجوش انداز میں کہنے لگا جی جی بالکل ایسے ہی ہوا میرا بچہ بہت لائق ہے امتحان میں یہ بیمار ہو گیا جس کی وجہ سے نمبر کم آ ئے ہیں۔ ’’ اس دیہاتی شخص کے بیٹے کی طرح میں بھی لائق تو ہوں بس امتحان کے دوران بیمار ہو گیا اس لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ جب میں پانچویں کلاس میں تھا تو اردو کے نصاب میں ملک کی کچھ اہم شخصیات کے بارے میں مضامین بھی شامل تھے ان مضامین میں یہ جملہ ضرور ہوتا تھا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں یا شہر سے حاصل کی پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔ جب یہ جملہ یاد کرتا تو میرا دل میں خیال آ تا کہ کاش مجھے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور جانے کا موقع ملے۔ اللہ پاک نے میری یہ خواہش پوری کردی میں نے بھی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔ میٹرک علی پور چٹھہ سے کیا اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آ گیا۔ لاہور آ کر گورنمنٹ ایم اے او کالج میں تھرڈ ایئر میں داخل ہو گیا اور ساتھ نوائے وقت میں ملازمت مل گئی۔ گویا جب میں نے نوائے وقت میں ملازمت اختیار کی تو اس وقت میری تعلیم صرف ایف اے تھی اور 2024 ء میں اللہ پاک کے فضل وکرم سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کرلی۔ یہ ساری تعلیم میں نے نوائے وقت میں ملازمت کے دوران حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو یہ اعزاز بخشا ہے اس کا کریڈٹ میرے ایڈیٹر محترم جناب مجید نظامی ، ان کی صاحب زادی محترمہ رمیزہ نظامی اور ادارہ نوائے وقت کو جاتا ہے۔ اللہ پاک میرے محسن جناب مجید نظامی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور محترمہ رمیزہ نظامی کو صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین۔ تعلیم کے حصول میں نوائے وقت کی جن دوسری شخصیات نے تعاون کیا ان میں اقبال زبیری، اسداللہ غالب ، جواد نظیر،وحید قیصر ، حمید اصغر نجید، حاجی صالح محمد صدیق ، قاضی مصطفیٰ کامل، شریف کیانی ، طارق اسماعیل ساگر ، سعید آ سی، فضل حسین اعوان ،خالد بہزاد ہاشمی ، خواجہ فرخ سعید ، کرنل احمد ندیم قادری ،شفیق سلطان اور بلال محمود شامل ہیں۔ میں اپنے والدین کا ممنون احسان ہوں جنہوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود مجھے اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور بھیجا، والد صاحب کو اللّہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور والدہ صاحبہ کو صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے۔۔میں یہاں پر اپنے محسن اور استاد محترم جناب عطاء الحق قاسمی کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے قدم قدم پر میری مدد اور رہنمائی فرمائی۔میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور معروف اداکار و اینکر پرسن سہیل احمد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ میں اپنے اساتذہ چئیرمن سپیرئیر یونیورسٹی ڈاکٹر چودھری عبد الرحمٰن ، ڈاکٹر نادیہ ناصر ، ڈاکٹر احمد رضا بلال ،ڈاکٹر الیاس ،ڈاکٹر حارث مسرور ، ڈاکٹر سیف الرحمن ، محمد مکرم، لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین کے ہیڈ آ ف اکنامکس ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد افضل ، ڈاکٹر روؤف بٹ، ڈاکٹر کفیل سرور ، ڈاکٹر اے بی باسط کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے پی ایچ ڈی کرنے میں انمول راہنمائی فرمائی۔