یہ سال 2013 ءکی بات ہے۔ میں ان دنوں نوائے وقت کے آ فس میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا کہ ایک روز مجھے معروف شاعرہ ، ڈرامہ نگار اور ماہر تعلیم ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے ٹیلی فون کیا کہ میں نے پی ایچ ڈی کرلی ہے میری خبر شائع کرا دیں۔ صحافت کا پروفیشن ایسا ہے کہ اس میں صحافی ہر وقت انفارمیشن اکٹھی کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے لہٰذا اسے ہر قسم کی انفرمیشن اکھٹی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے میں نے بھی اسی عادت سے مجبور ہو کر ان سے پوچھ لیاکہ آ پ نے کس طرح پی ایچ ڈی کی ہے اور کیا میں پی ایچ ڈی کرسکتا ہوں میں نے آ ج سے 26 سال پہلے ایم اے کیا تھا اور اس وقت میری عمر 53 سال ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آ پ نے کس سبجیکٹ میں ایم اے کیا ہوا ہے میں نے جواب دیا کہ اکنامکس میں۔ انہوں نے کہا کہ میں پنجاب یونیورسٹی کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ہوتی ہوں میرے ایک دوست ڈاکٹر افضل اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے ہیں میں کل صبح دس بجے انہیں اپنے آ فس میں بلا لوں گی آ پ بھی آ جائیں وہ آ پ کی بہتر راہنمائی کرسکتے ہیں۔ میں اگلے روز صبح دس بجے ڈاکٹر فوزیہ تبسم کے ڈیپارٹمنٹ میں پہنچ گیا چند منٹ کے بعد ڈاکٹر افضل بھی آ گئے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے ڈاکٹر افضل سے میرا تعارف کرایا جس کے بعد میں نے اپنا مدعا بیان کیا۔ ڈاکٹر افضل نے میری بات سننے کے بعد کہاکہ چند سال پہلے ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی ہو جاتی تھی لیکن اب رولز چینچ ہو گئے ہیں لہٰذا آ پ کو پہلے ایم فل کرنا ہوگا اور اس کے بعد آ پ پی ایچ ڈی کرسکیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیڈز یونیورسٹی میں ایم فل اکنامکس کا ویک اینڈ پروگرام چل رہا ہے وہاں داخلہ لے لیں دو سال میں آ پ کا ایم فل ہو جائے گا اور پھر تین سال میں پی ایچ ڈی۔ اگر آپ محنت کریں گے تو ان شاءاللہ پانچ چھ سال میں آ پ کی پی ایچ ڈی ہو جائے گی۔ میں ڈاکٹر افضل سے راہنمائی لینے کے بعد ڈاکٹر فوزیہ کے آ فس سے باہر نکلا تو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کاکوریڈور طلبہ وطالبات سے بھرا ہوا تھا شاید ان کی کلاس آ ف ہوئی تھی یہ طلبہ مختلف ٹولیوں میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور قہقہے لگا رہے تھے۔ کچھ طلبہ نوٹس ایکسچینج کر رہے تھے۔ کچھ طلبہ چپس وغیرہ کھا رہے تھے مجھے یہ ماحول بہت اچھا اور پرکشش لگ رہا تھا چونکہ ڈاکٹر افضل نے مجھے پی ایچ ڈی کے لئے گرین سگنل دے دیا تھا اس لیے میں خیالوں ہی خیالوں میں 53 سال کا بوڑھا ہو نے کے باوجود ان جیسا سٹوڈنٹ سمجھ رہا تھا نیوکیمپس کے تروتارہ ماحول نے میرے پی ایچ ڈی کرنے کے شوق میں بہت زیادہ اضافہ کردیا میں سوچنے لگا کہ پی ایچ ڈی کی اہمیت اپنی جگہ ،سٹوڈنٹ لائف کا بھی اپنا ایک چارم ہے اور مجھے یہ چارم ایک بار پھر انجوائے کرنا چاہیے چنانچہ میں نے فیصلہ کرلیا کہ ہر صورت میں پی ایچ ڈی کروں گا میں نیو کیمپس سے مفید معلومات اور دوبارہ سٹوڈنٹ بننے کے لیے ایک نیا جذبہ لے کر دفتر نوائے وقت ڈیوٹی پر پہنچ گیا کچھ ضروری کام نمٹانے کے بعد لیڈز یونیورسٹی ایڈمشن آ فس ٹیلی فون کیا وہاں سے پتہ چلا کہ کل ایم فل اکنامکس میں داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے۔ ان دنوں لیڈز یونیورسٹی کلمہ چوک میں تھی جہاں سے تھوڑے فاصلے پر پلاک ہے میں اس وقت کی ڈی جی ڈاکٹر صغریٰ صدف کو ٹیلی فون کیا کہ لیڈز یونیورسٹی آ پ کے آ فس کے قریب ہی واقع ہے وہاں سے ایم فل کا پراسپیکٹس منگوالیں میں ڈیوٹی سے فارغ ہو کر آ پ سے لے لوں گا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بیٹے کو داخل کرانے لگے ہیں میں نے کہا نہیں ، میں خود داخلہ لے رہا ہوں انہوں نے پھر پوچھا کہ کیا جرنلزم میں ایم فل کرنے لگے ہو میں نے کہا اکنامکس میں۔ انہوں نے میرا جواب سن کر حیرانگی سے کہا کہ اکنامکس تو بہت مشکل سبجیکٹ ہے آ پ کی عمر بھی زیادہ ہے یہ آ پ سے نہیں ہوگا پھر مزید کہا کہ اگر ہو گیا تو ضرور بتانا میں آ پ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کروں گی۔انہوں نے لیڈز یونیورسٹی سے پراسپیکٹس منگوا کر اپنے ڈرائیور کے ہاتھ میرے آ فس بھجوا دیا۔ میرا لیڈز یونیورسٹی میں ایم فل اکنامکس میں داخلہ ہوگیا اور میں 26 سال کے بعد ایک بار پھر سٹوڈنٹ بن گیا وہاں پر مجھے ڈاکٹر روو¿ف بٹ، ڈاکٹر اے بی باسط اور ڈاکٹر کفیل سرور جیسے انتہائی قابل اساتذہ ملے۔ کلاسیں شروع ہو گئیں ایک سال گذر گیا اور امتحان کی ڈیٹ شیٹ آ گئی میں امتحان کی تیاری میں مصروف تھا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہوا الٹرا ساونڈ کرایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ دونوں گردوں میں بڑے سائز کی پتھریاں ہیں فوری طور پر آپریشن کرائیں۔ مجھے خیال آیا کہ کہیں ڈاکٹر صغریٰ صدف کی بات ٹھیک نہ ہو جائے میں نے آپریشن کرایا۔ الحمدللہ آپریشن کامیاب ہوگیا۔ امتحان تو گزر گیا تھا تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے میرے لئے الگ امتحان کا بندوست کردیا۔ الحمدللہ اس امتحان میں میں کامیاب ہو گیا پھر دوسرے سال کا امتحان اور تھیسیس۔ الحمدللہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ میں نے ایم فل کے بعد سپیریئر یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔ ایک دن میں آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ مجھے ڈاکٹر صغرا صدف کا جملہ یا د آ یا کہ آ پ سے ایم فل اکنامکس نہیں ہوگا اور اگر ہوگیا تو مجھے ضرور بتانا۔ میں نے انہیں ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ الحمدللہ میں نے ایم فل اکنامکس کرلیا ہے وہ بہت خوش ہوئیں اور بولیں مجھے اپنا وعدہ یاد ہے کس دن پارٹی لینی ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اب پی ایچ ڈی اکنامکس میں داخلہ لے لیا ہے پارٹی پی ایچ ڈی کے بعد کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی کی الگ کریں گے۔ اس بات کو ہفتہ دس دن گزرے ہوں گے کہ ایک روز مجھے ڈاکٹر صغرا صدف کی سیکرٹری کا ٹیلی فون آ یا کہ ڈاکٹر صاحبہ آ پ سے کسی کام کے سلسلے میں میٹنگ کرنا چاہتی ہیں کیا آ پ صبح گیارہ بجے آ سکتے ہیں۔ میں نے کہا ان شاءاللہ حاضر ہو جاﺅں گا۔ اگلے روز ٹھیک صبح گیارہ بجے میں ڈاکٹر صغرا صدف کے آ فس پہنچ گیا ابھی میں ان کے آ فس میں بیٹھا ہی تھا کہ انہوں نے کہا کہ اوپر ہال میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں ان کے ساتھ ملنا ہے اس کے بعد آ پ سے میٹنگ ہوگی آ پ بھی میرے ساتھ آ جائیں۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا جب ہال کے باہر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں پر بریانی ، چکن قورمہ اور زردے کی دیگیں پک رہی تھیں۔ میں دیگوں کی خوشبو اور ڈاکٹر صغرا صدف کے ساتھ ہال میں داخل ہو گیا وہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ میں بھی ہال میں بیٹھ گیا۔ سٹیج خالی تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ سٹیج پر دو کرسیاں رکھ دیں۔ مجھے مائیک دے دیں اور ریکارڈنگ کے لئے کیمرہ لگا لیں۔ ایک کرسی پر ڈاکٹر صاحبہ خود بیٹھ گئیں اور دوسری کرسی پر مجھے بٹھا کر میرا انٹرویو لینا شروع کر دیا میرے لیے یہ ایک خوبصورت سرپرائز تھا گویا مجھے بتائے بغیر ڈاکٹر صاحبہ نے ایم فل اکنامکس کرنے پر تقریب کے انعقاد کا وعدہ پورا کر دیا۔ انٹرویو کے بعد حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ پھر ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے گلدستہ اور کیش انعام بھی دیا۔ اس کے بعد حاضرین کے ساتھ مل کر پرتکلف کھانا کھایا۔ یہی وہ سرپرائز میٹنگ تھی جس کے لیے مجھے گیارہ بجے بلایا گیا۔میں گلدستہ اور کیش انعام لے کر آ فس چلا گیا دفتر والے میری اس عزت افزائی پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس تقریب کی خبر اور تصویر بھی شائع کی۔ میں ڈاکٹر صغرا صدف کی طرف سے عزت افزائی کے بعد اپنی پی ایچ ڈی پر زیادہ زور شور سے محنت کرنے لگا کیونکہ انہوں نے پی ایچ ڈی کے بعد بھی ایک تقریب کے انعقاد کا وعدہ کیا تھا۔ (جاری ہے )