Wed, September 16, 2026

پاکستان اوراسلام کا معاشی نظام

پاکستان اوراسلام کا معاشی نظام

گذشتہ رات لاہورکے علاقے گلبرگ میں واقع نہایت مہنگے ریستوران میں پاکستان کی بڑی کاروباری شخصیات اور محکمہ ٹیکس کے ایک بڑے افسر کے ساتھ کھانے پرملاقات ہوئی۔ موضوع گفتگو پاکستان کے معاشی حالات، ٹیکس چوری اور اخلاقی معیارات تھا۔ گفتگو کے دوران ایک بہت بڑے برانڈ کے مالک جو بنیادی طور نہایت خوش مزاج اور مثبت ذہن کے مالک ہیں پہلی بار انھیں مایوسی کے عالم میں دیکھا۔ بولے کہ 90 کی دہائی کے آغازمیں کینیڈا سے تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس آیا تو یہاں سیٹل ہونے کا فیصلہ کیا جس پروالد صاحب نے برامنایا لیکن آپشن پوچھے۔ بولے میرے پاس تین آپشن تھے، ایک سی ایس ایس کر کے افسر بن جاؤں جو کہ میرا مزاج نہیں، دوسرا کینیڈا جا کر سیٹل ہوجاؤں لیکن وہاں سردی بہت ہے، تیسرا لاہور میں اپنا کاروبار کروں۔ مجھے تیسرے آپشن میں دلچسپی تھی کہ یہاں رہ کر اپنے اور ملک کی خوشحالی کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا  گیا میری مثبت خیالی مایوسی میں تبدیل ہو گئی ہے کہ سوچتا ہوں اس معاشرے کا کچھ نہیں بننا۔ ہم بحیثیت قوم نہایت بد اخلاق ہو چکے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام،غیرمتوازن معاشی پالیسیاں اورخاص طور پر پچھلے 10 برسوں میں بزنسز پر ٹیکسیشن کاغیرمنطقی بوجھ اور کئی درجن صوبائی اور مرکزی اداروں کی نگرانی اورمداخلت کی وجہ سے کاروباری افراد کا زیادہ وقت سرکاری کمپلائنس میں گزرتا ہے۔ آئے دن نئی پالیسیاں اور سرکاری نوٹسز کی اکثریت صرف دباؤ اور انفرادی مالی مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ جس کا ملک کے معاشی استحکام اور کاروبار کے فروغ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محفل میں موجود سرکاری افسر جو کہ بذات خود ایک ایماندار اور محنتی شخص ہیں، نے بہت حد تک اس بات کی تائید کی لیکن انھوں نے کچھ مثالوں اور واقعات سے اس امرکی نشاندہی بھی کی کہ کس طرح مختلف سیکٹرز میں ٹیکس چوری ہوتی ہے یا عوام سے ٹیکس لے کر سرکار کوجمع ہی نہیں کرایا جاتا۔ کروڑوں کی سیل کو کیسے لاکھوں میں دکھایا جاتا ہے۔ لاہور میں خاص طور پر اکثریتی ریستوران گاہک سے کھانے کے بل پر ٹیکس وصول کرنے کے بعد ساری رقم اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں۔ خیر اس گفتگو میں دو پہلو بہت واضح تھے ایک ریاست کے معاشی نظام پر ہر طبقے کا عدم اعتماد اور دوسرا بدحال معاشی نظام نے ہمیں کس طرح بداخلاق روئیے اپنانے پرمجبور کر دیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی ہم معاشرتی خرابیوں پر گفتگو کرتے ہیں تو صرف انفرادی یا شخصی تناظر میں اس عمل کو دیکھتے ہیں جبکہ نظام کے ذریعے کس طرح یہ سماجی روگ پیدا ہو رہے ہیں اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ یا ساری گفتگو کرنے کے بعد یہ کہہ کر اٹھ جاتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا تعلق؟ نظام جانے نظام چلانے والے جانیں۔ حالانکہ ہمیں ہر قدم پر واسط تو انھی سے پڑنا ہے۔ زندگی کا کونسا ایسا شعبہ ہے جو پورے سیاسی و معاشی نظام کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ابتدا سے اب تک انسان کی کوشش رہی ہے کہ وہ ارد گرد ماحول کو اپنے رہن سہن اور ضروریات کے مطابق ڈھال لے، اسی غور و فکر کے نتیجے میں انسان غاروں کے دور سے ترقی کرتا ہوا ڈیجیٹل دور تک پہنچ گیاہے۔ اس انسانی ترقی کے مونس تمام انبیاء علیھم السلام تھے جنھوں اللہ کے حکم سے معاشرتی زندگی کے اصول و قواعد مرتب کئے۔ خاندانی،قصباتی، شہری، قومی اور بین الاقومی نظام زندگی کے دائرے مرتب کئے ہیں۔ اب اگرآپ ساری تاریخ کوکھنگال لیں۔ قوموں کے عروج زوال کی داستانیں پڑھ لیں۔ اس میں دو نظام کار فرم نظر آئیں گے۔ ایک نظام انسانی بقا، ارتقا، مادی و روحانی ترقی کے اصولوں و طریقہ کار پر مبنی فکرو فلسفہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس کی سرخیل و رہنما انبیاء اور ان کے تیار کردہ ساتھی، عادل حکمران اور آفاقی فلسفہ پر کام کرنے والی انسان دوست جماعتیں ہیں۔ دوسری جانب اس آفاقی فکر و فلسفہ کی ضد میں شیطانی اصولوں پر انسانیت دشمن استحصالی نظام  کے آلہ کار کردار ہیں جن کاتعارف فرعون، شداد، قارون، ہامان، ابو جہل اور ابولہب کے طور سامنے آتا ہے۔ یہ افراد اور کردار دراصل ایسے نظاموں کے نمائندہ ہیں جنھوں نے اپنے استحصالی سودی نظاموں کے ذریعے قوموں کو غلام بنایا اورانھیں مفادپرستی، ہوس، لالچ اور خود غرضی جیسی بداخلاقیوں کے حوالے کر دیا۔انسانیت اور خدا پرستی کے حقیقی نظریئے سے دور کرنے کے لئے وساوس اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا کرنے کا پورااہتمام کیا۔ لیکن اول الذکر نظام کے حامیان خدا نے ہر دورمیں ان طاقتوں کو کبھی دریا نیل برد کیا تو کبھی بدر میں درگور کیا۔ نظاموں کی یہ جنگ نہ رکنے والی ہے۔ آج بالکل ویسے ہی دنیا میں سرمایہ دار سامراجی طاقتوں کا راج ہے۔ دنیا آج ترقی کے جس مقام پر ہے یہ کل انسانیت کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ پچھلے کالم میں ڈیٹا کی بنیاد پر عرض کیا تھا کہ ان وسائل پر قابض ایک فیصد طبقہ تمام وسائل کو ظالمانہ کنٹرول کے ذریعے اپنی تجوریوں نچوڑ رہا ہے۔ آج سے 3سو برس پہلے برصغیرکے مفکراسلام امام شاہ ولی اللہ ؒ  نے اپن کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں زوال زدہ سماج کا بڑا عمدہ تجزیہ کیا ہے اور ان خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ شاہ ؒ فرماتے ہیں کہ ایسے معاشروں میں لوگ (حکمران) قومی خزانے کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں، دیگر لوگ غازی،مجاہد، عالم، صوفی، زاہد،شاعر(نان پروڈکٹو) بن کر معیشت سے حصہ مانگتے ہیں۔ جبکہ طاقتور گروہ ریاست سے سر کشی اور محاذ آرائی پر اتر آتے ہیں۔ ان طبقات کے نزدیک ملکی خزانے میں لوٹ مارہی اصل پیشہ ہوتا 
ہے۔ جو کہ معاشی عدم استحکام کاسبب بنتا ہے۔ لیکن اگرسارا ملک لوٹ مار پرلگ جائے تو ریاست کیسے چلے گی؟ حکمران طبقے کی پر تعیش زندگی کا خرچ کون اٹھائے گا؟ تو شاہ صاحب ؒ اس فاسد نظام کی دوسری نشانی یہ بتاتے ہیں کہ ملک کے پیداواری طبقات، کاشت کاروں، تاجروں اورہنر مندوں پر بھاری ٹیکسز عائد کر دیئے جاتے ہیں۔ قانون کی پاسداری کرنے والے افراد کے حقوق بنا شنوائی کے سلب کر لئے جاتے ہیں۔ بھاری ٹیکسز وصول کرنے کے لئے سخت سزاؤں کے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ اس عمل مسلسل سے ملکی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ قومیں تباہی و بربادی کے کنارے پنچ جاتی ہیں۔  آج اگر اس سارے تناظر میں پاکستان میں بروئے کار نظام کی حالت اور کارکردگی دیکھیں تو قطعاً مختلف نظر آتی۔  سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم مسلسل ذلت اور تنگی میں رہنے کے باوجود درست فکر و فلسفہ کو کیوں بروئے کار لانے پر تیار نہیں ہیں؟ کیوں نہایت کم تر ذاتی وگروہی مفاد سے اوپر اٹھ کر نہیں سوچتے؟ ان بنیادی سوالوں کے ساتھ اہم بات یہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام در اصل ہے کیا، یہ کیسے بروئے کار آسکتا ہے؟ پاکستان میں 98 فیصد مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کا معاشی و سیاسی نظام کیوں نہیں ہے؟ اس نظام کے خدو خال کیا ہیں؟ انشاء اللہ بقیہ تفصیل اگلے کالم میں۔ 

ٹیگز: