لکی مروت:خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردی کی ایک سنگین واردات میں 'فتنہ الخوارج' نے معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار اور 5 عام شہری شہید ہو گئے، جبکہ 22 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور اس عفریت کا مکمل خاتمہ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی ہے اور زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
عوامی حلقوں نے معصوم شہریوں کی شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے۔