Wed, September 16, 2026

 خون آشام دہشت گردی اور پاکستان کا غیر متزلزل عزم

 خون آشام دہشت گردی اور پاکستان کا غیر متزلزل عزم


پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس بھیانک لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کے پیچھے وہی خوارج ہیں جو اسلام کے نام پر خونریزی، خوف اور انتشار کی سیاست کرتے ہیں۔ بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والا خودکش حملہ جس میں 15 بہادر پولیس اہلکار شہید ہوئے، نہ صرف ایک سفاکانہ دہشت گردی تھی بلکہ یہ پاکستان کے امن، ریاستی رٹ اور معاشرتی استحکام پر حملہ بھی تھا۔ دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، جس میں ایک خارجی دہشت گرد مارا گیا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ریاستِ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ سرگرم ہے۔ خوارج کی سب سے بڑی منافقت یہ ہے کہ وہ اسلام کا نام لیتے ہیں مگر ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بنوں میں جن پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، وہ اسی مٹی کے بیٹے تھے، وہی پشتون نوجوان تھے جو اپنے عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔
خوارج کے یہ حملے اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ان کا مقصد کسی قوم، علاقے یا مذہب کا دفاع نہیں بلکہ صرف خونریزی، خوف اور انتشار پھیلانا ہے۔ یہ عناصر پشتونوں کے خیرخواہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت میں سب سے زیادہ پشتون عوام ہی ان کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسلام امن، رحمت، عدل اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ خودکش حملے اسلام میں قطعی حرام ہیں۔ قرآن و سنت میں بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے مگر خوارج نے دین کی تعلیمات کو مسخ کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ عناصر مذہبی اصطلاحات کا سہارا لے کر دراصل اپنے سیاسی اور تخریبی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کا اسلام سے وہی تعلق ہے جو اندھیرے کا روشنی سے ہوتا ہے۔ وہ نہ انسانیت کے قائل ہیں، نہ اخلاقیات کے، اور نہ ہی اسلامی اصولوں کے پابند ہیں۔
بنوں حملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خوارج پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پولیس، جو معاشرے میں امن و امان کی پہلی دیوار سمجھی جاتی ہے، آج خوارج کے نشانے پر ہے کیونکہ دہشت گرد جانتے ہیں کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کمزور پڑ جائیں تو معاشرے میں خوف، افراتفری اور بداعتمادی پھیلانا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر وہ یہ بھول چکے ہیں کہ پاکستان کی پولیس، فوج اور سکیورٹی ادارے قربانیوں کی وہ تاریخ رکھتے ہیں جسے دہشت گردی کی کوئی لہر شکست نہیں دے سکتی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والا کامیاب آپریشن اس حقیقت کی علامت ہے کہ ریاستی ادارے خوارج کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے۔ سکیورٹی فورسز مسلسل ان کے ٹھکانوں، سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد عناصر اب فرار ہو کر سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔ یہ مسلسل دبا¶ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کی حکمتِ عملی م¶ثر اور نتیجہ خیز ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خوارج صرف بندوق اور بارود سے نہیں لڑتے بلکہ وہ نفسیاتی جنگ بھی لڑتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا، اداروں پر اعتماد ختم کرنا اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانا ہے۔
سوشل میڈیا، جھوٹے بیانیے اور مذہبی جذبات کے غلط استعمال کے ذریعے وہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم بلا تفریق دہشت گردی کے خلاف متحد ہو۔ علمائ، دانشوروں، اساتذہ، میڈیا اور سماجی رہنما¶ں کو چاہیے کہ وہ خوارج کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کریں اور نوجوان نسل کو یہ شعور دیں کہ اسلام کا دہشت گردی، خودکش حملوں اور قتل و غارت سے کوئی تعلق نہیں۔ جو عناصر معصوم شہریوں، مساجد، مدارس، بازاروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں وہ کسی صورت مسلمان یا مجاہد نہیں کہلا سکتے بلکہ وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے اپنی جانیں اس وطن کے امن کے لیے قربان کیں۔ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ بنوں کے شہداءکا خون اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ پاکستان میں خوارج اور دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ریاستی ادارے، سکیورٹی فورسز اور پوری قوم مل کر اس ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
یہ جنگ صرف ریاست کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی جنگ ہے۔ اگر قوم متحد رہی، اداروں پر اعتماد قائم رکھا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو مسترد کیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان مکمل امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ خوارج کی بزدلانہ کارروائیاں وقتی خوف تو پیدا کر سکتی ہیں مگر وہ قوموں کے حوصلے کبھی نہیں توڑ سکتیں۔ پاکستان آج بھی قائم ہے، کل بھی قائم رہے گا اور دہشت گردی کے اندھیروں پر امن اور استحکام کی روشنی ضرور غالب آئے گی۔

ٹیگز: