Wed, September 16, 2026

کھلی کچہری، پُرامن معاشرہ

کھلی کچہری، پُرامن معاشرہ

ایک پُرامن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے سب سے زیادہ ذمہ داری محکمہ پولیس پر عائد ہوتی ہے اور مشاہداتی طور پر دیکھنے میں بھی یہی آیا ہے کہ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے محکمہ پولیس چوبیس گھنٹے مصروفِ عمل رہتا ہے۔ مگر ایک سوال میرے دماغ میں گھومتا ہے کہ جس محکمے کے ملازمین ہر تہوار پر تھانوں اور سڑکوں پر اپنی ڈیوٹیاں کرتے نظر آتے ہیں، وہاں احتساب کا معیار مختلف کیوں ہے؟ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران آج کے دور میں ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک باخبر اور متحرک پولیس افسر بن کر ابھرے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کا انصاف بھی سر چڑھ کر بولتا ہے، مگر یہاں میں فیصل کامران سے تھوڑا سا اختلاف کروں گا۔ اگر کسی شریف شہری پر جھوٹا مقدمہ درج ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرانے میں گھر کے برتن تک بیچ دیتا ہے، مگر اگر کوئی پولیس ملازم گناہ گار ثابت ہو جائے تو اسے معافی مل جاتی ہے۔ کئی ملازمین کو 9 بار اور کسی کو 12 بار تک معافی دی جا چکی ہے۔ ایسی کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں۔ ایک لفظ یاد آیا: شوکاز نوٹس۔ یہ الفاظ افسرانِ بالا سب سے پہلے کہتے نظر آتے ہیں کہ اسے شوکاز نوٹس دو۔ مگر یہ شوکاز نوٹس اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ اکثر ملازمین کو یہ کہتے دیکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ شوکاز نوٹس مل جائے گا، ہمارے محکمے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ انصاف کے ساتھ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سے پہلے بھی بہت سے دبنگ پولیس افسران نے لاہور میں اپنی تعیناتی کے دوران سروس کے مزے لیے، مگر منشیات پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ منشیات جیسی لعنت اور ناسور کو ختم کرنا ایک ایماندار اور باکردار پولیس افسر کا کام تھا، مگر ماضی میں منشیات اور تھانوں میں منتھلی عام ہوا کرتی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی کے بینک اکاو¿نٹ میں کروڑوں روپے جمع ہونے کے علاوہ کنال کنال کے دو گھر بھی موجود تھے، مگر وقت کے بدلنے کے ساتھ اب یہ کام 30 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ میری نظر میں اللہ پاک کے بعد انصاف دینا عدالت اور پولیس محکمے کا کام ہے، اور انصاف دینا بھی ایک عبادت ہے، مگر ہمارے ان پڑھ اور جاہل طبقے نے اس عبادت کو بدنام کر رکھا ہے۔ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے اپنی بیوی اور بیٹے کو قتل کیا، ایس ایچ او امداد فہیم نے ناقص انکوائری کی، پھر معطل ہونے کے بعد دوبارہ چوہنگ تھانے میں لگا دیا گیا۔ تھانہ فیکٹری ایریا کے خضر حیات تشدد کے باعث معطل ہوئے، مگر بعد میں ایس ایچ او گرین ٹاو¿ن تعینات کر دئیے گئے۔ اسی طرح ایس ایچ او ندیم کمبوہ، سول لائنز، نے رنگ روڈ پر جج کی گاڑی روک کر بدتمیزی کی، معطل ہوئے مگر بعد میں دوبارہ اسی تھانے میں تعینات کر دئیے گئے۔ اس وقت لاہور میں 84 تھانے ہیں۔ آپ اربوں روپے پولیس پر لگانے کے بجائے کھربوں روپے بھی لگا لیں، جب تک اچھے گھروں کے لوگ تھانوں میں تعینات نہیں کیے جائیں گے، تب تک نہ یہ معاشرہ بہتر ہو گا اور نہ ہی کرائم کنٹرول ہو سکے گا۔ کسی کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی، کسی شہری کو پوچھا نہیں جا رہا۔ یہ سب نقصان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک کو ہو رہا ہے، اور نوجوان نسل سب کچھ دیکھ رہی ہے۔کھلی کچہری لگانے کا مقصد ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ تھانوں میں انصاف نہیں مل رہا۔ ڈی آئی جی فیصل کامران صاحب! یہ دوہرا معیار کب تک چلے گا؟ پولیس ملازمین بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہونے چاہئیں۔ کالی بھیڑوں کو فوراً محکمے سے نکال دینا چاہیے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اچھی حکمت عملی اپناتے ہوئے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، اور غریب کی بیٹی پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ جبکہ ڈی آئی جی فیصل کامران کی قیادت میں لاہور نسبتاً محفوظ بن چکا ہے۔ ایک اور بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر کوئی پولیس افسر ایمانداری سے اپنا کام کرنے کی کوشش کرے تو بعض سیاسی شخصیات پولیس کارروائی میں دخل اندازی کرتی نظر آتی ہیں۔ عوام اور پولیس کے وقار کو مجروح کرنے میں سیاستدانوں کا بھی اس معاشرے میں بہت بڑا کردار موجود ہے۔

ٹیگز: