Wed, September 16, 2026

کہاں ہیں وہ سب لوگ

کہاں ہیں وہ سب لوگ

کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہمیں ایٹم بم کی ضرورت نہیں اور کہاں ہیں اعلیٰ دانش کے وہ شاہکار کہ جنھوں نے کہا تھا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان کو ایٹم بم کی ضرورت نہیں ہے ۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ’’ نہ نیتی نہ قضا کیتی ‘‘ یعنی جس نے زندگی میں کبھی نماز کی نیت ہی نہیں کی تو اس نے قضا کیا پڑھی ہو گی ۔ اسی طرح جنھیں بنا بنایا پاکستان مل گیا انھیں کیا پتا کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا ۔ لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں دیں تو پھر کہیں جا کر قیام پاکستان کے خواب نے حقیقت کا روپ دھارا ۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایٹم بم کی ضرورت نہیں ، انھیں کیا معلوم کہ نیوکلیئر پروگرام کا حصول اور اس کے بعد کن کٹھن مراحل سے گذر کا منزل تک پہنچنا ممکن ہوا ۔ کیا کسی کو یاد نہیں کہ بھٹو صاحب کو اس وقت کے امریکن وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کیا دھمکی دی تھی اور پھر عبرت کی مثال بنانے کی بات کو عملی جامہ بھی پہنایا تھا ۔ اس کے بعد جو بھی حکمران آیا اس نے اور خاص طور افواج پاکستان نے کس طرح اس کی نہ صرف یہ کہ حفاظت کی بلکہ وقت کے ساتھ اس میں جدت کے تمام تقاضوں کو بھی پورا کیا جاتا رہا ۔ اس کے بعد پھر1998میں کس طرح امریکہ جیسی سپر پاور کی دھمکیوں اور ڈالروں کی آفر کو ٹھکرا کر میاں نواز شریف نے ہندوستان کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات دھماکے کئے ۔ جن لوگوں نے نیو کلیئر پروگرام کے لئے قربانیاں دیں اور پوری دنیا کے دبائو کو برداشت کیا انھیں اس کی قیمت کا اندازہ ہو گا لیکن جن کی’’ ہنگ لگی نہ پھٹکری ‘‘ اور ان کی سیاست شہرت اور اقتدار میں رنگ بھی آیا چوکھا تو انھیں قدرت کے اس انمول اور عظیم تحفہ کی کیا قدر ۔ آج عرب ممالک کی بے بسی دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور ساتھ میں میزائل ٹیکنالوجی پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل تسخیر سیفٹی والو ہے اور اس پر ستم یہ کہ افواج پاکستان کی مہارت اور فیلڈ مارشل صاحب کی قیادت نے جس طرح مئی2025میں ہندوستان کو دھول چٹوائی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ کام اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو تیل کی دولت سے مالا مال عرب ریاستیں اس صلاحیت کو ضرور حاصل کر لیتیں ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے تو اس میں کبھی دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی تو ہم بحث سے بچنے کے لئے آپ کی بات مان لیتے ہیں لیکن کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ صدام حسین کے دور میں81میں اسرائیل نے عراق کے نیو کلیئر پروگرام کو تباہ کر دیا تھا ۔ اس کے علاوہ کرنل قذافی کو تو بین الاقوامی اور خاص طور پر امریکن دبائو پر نیوکلیئر پروگرام کا پورا ساز و سامان اور آلات بحری جہاز پر لوڈ کروا کر دینے پڑے لیکن اس کے باوجود بھی جاں بخشی نہیں ہوئی ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر یہ اتنا ہی آسان کام ہوتا تو اس وقت پوری دنیا میں صرف 7اعلانیہ نیوکلیئر پاور نہ ہوتیں بلکہ دنیا کا ہر دوسرا ملک نیوکلیئر پاور ضرور ہوتا ۔ 
بات صرف نیوکلیئر پروگرام کی نہیں بلکہ پاکستان میں کچھ عناصر ہیں کہ جو لوگ مختلف نان ایشوز کو زبردستی ایشو بنا کر پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ اب یہی دیکھ لیں کہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں ایران جب مختلف عرب ممالک پر میزائل داغ رہا ہے تو وہ لوگ جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا تمسخر اڑاتے نہیں تھکتے تھے انھیں آج وہ دفاعی معاہدہ یاد آ گیا اور اس حوالے سے آج تک سعودی عرب کی جانب سے تو کوئی ایک بیان منظر عام پر نہیں آیالیکن یہ باولے ہوئے پھر رہے ہیں اور ہر ایک کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس حوالے سے بڑا واضح بیان دیا تھا کہ ہم نے دونوں اسلامی برادر ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرائی ہے اور پھر فیلڈ مارشل صاحب کے سعودی عرب کے دورے کے دوران ایرانی صدر نے ان تمام پڑوسی ممالک پر حملہ نہ کرنے کا بیان دیا کہ جہاں سے ایران پر حملے نہیں ہوں گے ۔ اس کے بعد جس طرح پاکستانی انٹیلی جنس نے سعودی آئل ریفائنری پر میزائل حملے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو بے نقاب کیا ہے تو پاکستان اور اس کی سیاسی و عسکری قیادت تو اپنا فرض پورا کر رہی ہے لیکن کچھ لوگوں کی نیتوں میں جو فتور ہے اس کا کوئی علاج نہیں ۔ 
اسی حوالے سے ایک اور بات بڑی اہم ہے کہ سعودی عرب کی محبت میں تو انھوں نے مگر مچھ کے آنسو بہا لئے لیکن اس سے پہلے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ جنگ شروع ہو چکی تھی تو ان میں سے کسی کی طرف سے کوئی ایک بیان نہیں آیا کہ پاکستان کی افغانستان سے جنگ شروع ہو چکی ہے تو سعودی عرب اس حوالے سے پاکستان کی کیا مدد کر رہا ہے ۔ چلیں مان لیا کہ خدائے بزرگ و برتر کے بے پناہ فضل و کرم کی بدولت ہمیں ان کی مدد کی ضرورت نہیں تھی لیکن اخلاقی مدد کے لئے تو بیان دے دیتے ۔ میرے خدا نے چاہا تو گلف کی جنگ میں بھی قدرت کی پاک ذات ایران اور مسلمانوں کو فتح یاب کرے گی اور سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جو انتہائی گہرے برادرانہ تعلقات ہیں وہ بھی مزید مضبوط ہوں گے اور جو مسائل ہیں وہ بھی حل ہوں گے اور بد خواہ منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ 

ٹیگز: