Wed, September 16, 2026

بڑی جنگ

بڑی جنگ

تیزی سے تبدیل ہوتے حالات کا بروقت ادراک کرنےکی صلاحیت قوموں کو خطرات سے گھری اس دنیا میں اپنی درست سمت متعین کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ ریاستیں یہی طریقہ اختیار کر کے اپنے مستقبل کو محفوظ بناتی ہیں۔ بعض اوقات غلط اندازے غلط نتائج کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسے میں فیصلے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے جائیں تو ملک و قوم کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تاہم اگر فیصلے ذاتی مفاد اور ترجیحات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو شخصیات بچتی ہیں اور نہ ہی ریاستیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیں کہ جب کبھی کسی ریاست کے باشندوں نے لالچ و طمع کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کیا جس سے صرف ملک و قوم کو نقصان نہیں پہنچا تو پھر بعد ازاں ان کا بھی مستقبل تاریک ہی رہا نہیں۔ ایسی قومیں اور ایسی ریاستیں غلامی کے ایک ایسے دور سے گزریں جو پھر بہت طویل ، صبر آزما اور تکلیف دہ رہا۔
تیزی سے بدلتا ہوا دنیا کا منظر نامہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے غیر معمولی واقعات آنے والے دنوں میں دنیا میں کئی بڑے حادثات کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے ابھرنے والے تنازعات مزید گمبھیر ہو سکتے ہیں۔ بڑی طاقتوں میں ہونے والی کشمکش امریکہ ، یورپ اور ایشیا میں ایک نئے اور پریشان کن دور کا اغاز کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں امریکہ کے بدلتے ہوئے تیور نے پوری دنیا معاشی باہمی تعلقات کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اٹھائے گئے متعدد اقدامات نے تبدیلی کے ایک ایسے عمل کو تیزی سے شروع کیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے کچھ ہی عرصے میں دنیا کچھ اس طرح سے نہیں رہے گی جس طرح اس وقت موجود ہے۔ امریکہ اس وقت اپنے ہی ماضی کے حلیفوں اور دوستوں کے ساتھ باہم دست گریبان نظر آتا ہے۔ ایک جانب اس کی معاشی جنگ کینیڈا کے ساتھ شروع ہو چکی ہے تو دوسری جانب وہ اپنے ایک اور ہمسائے میکسیکو کے ساتھ بھی لڑتا نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کے معاملے کے اوپر امریکہ نے جب سے یہ موقف دیا ہے کہ اسے امریکہ کا حصہ بن جانا چاہیے ڈنمارک کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو چکے ہیں واضح رہے کہ ڈنمارک اس وقت گرین لینڈ کو انتظامی طور پر سنبھالتا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اس وقت ڈنمارک کا ہی حصہ ہے۔ امریکہ نے یورپ کے اپنے حلیفوں کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پے در پے بیانات کے باعث گویا تگنی کا ناچ نچا کے رکھ دیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولاد میرز یلنسکی کے ساتھ امریکہ میں ہونے والے غیر سفارت سفارتکانہ سلوک کے بعد یورپ کا یوکرین کا ساتھ دینے کا عزم امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں ایک بڑی خلیج کا پیش خیمہ ہے۔غذا کے معاملے کے اوپر ڈونلڈ ٹرمپ کے پے در پے بیانات کہ وہ غزہ پر قبضہ کر لے گا اور اس کی از سر نو تعمیل کرے گا اور یہ کہ مصر اور اردن کو غزہ کے پناہ گزینوں کو اپنے ہاں شفٹ کر لینا چاہیے عرب ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
عربوں نے بھی اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ایک نئے پلان کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر و ترقی خود کریں گے اور کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو مصر یا اردن کی زمین پر نہیں بسایا جائے گا۔ انہوں نے اس ضمن میں خطیر رقم بھی فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی طرف سے کئی ممالک پر سفری پابندیاں لگانے کے اعلان کے بعد ان ممالک سے بھی امریکہ کے تعلقات خراب ہوتے نظر آتے ہیں۔ کینیڈا میکسیکو اور ڈنمارک کی طرح یہ ممالک بھی رد عمل میں امریکی شہریوں پر پابندی لگانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یہ عمل بھی قابل غور ہے کہ چند دن پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگرس کے اپنے پہلے خطاب میں جہاں پاکستان کی جانب سے داعش کے ایک مطلوب دہشت گرد کی حوالگی اسلام آباد کی بھرپور تعریف اور شکریہ ادا کیا گیا تو چند دن کے بعد ایک اور اطلاع آئی کہ جن ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اس میں ممکنہ طور پر پاکستان بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس خبر کی تصدیق کچھ اس طرح بھی ہوتی نظر آئی جب یہ پتہ چلا امریکہ نے پاکستان کے ایک سفارت کار کو بھی امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے بتایا ہے کہ متعلقہ افسر نجی دورے پر امریکا گئے تھے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی سفارتکار کی امریکا سے واپسی کا معاملہ وزارت خارجہ دیکھ رہی ہے، معاملے کی مکمل جانچ پڑتال ہو رہی ہے لہٰذا قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
امریکہ نے چین پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جس کے بعد چین نے بھی اس پر سخت رد عمل دیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امریکہ معاشی ، اقتصادی تجارتی یا پھر دفاعی محاذ پر جہاں بھی چاہے چین اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ایسے میں یورپ بھی اس امر کا عندیہ دے رہا ہے کہ وہ امریکہ پر اپنا دفاعی انحصار کم کرتے ہوئے اسلحے کی نئی دوڑ میں شامل ہوگا تاکہ وہ روس سے اپنا دفاع کر سکے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہ بات بھی قرین قیاس نظر آتی ہے کہ اس سارے تنازع میں دوسری جنگ عظیم کی طرح اس بار بھی یہودی قوم کا ہی ہاتھ ہے جس کو اس وقت اسرائیل لیڈ کر رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے دنیا میں طاقت کا ایک بڑا مرکز امریکہ سکڑنے جا رہا ہے اور بڑی پلاننگ کے ساتھ اسرائیل کے کردار اور طاقت کو خطے میں بڑھا کر دنیا کی ایک بڑی اور نئی عالمی طاقت بنانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اس اقدام میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر خاص ایلون مسک جن کے خلاف اس وقت پورے امریکہ میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں سر فہرست ہے۔ ایسے میں پاکستان کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک باریک رسی پہ چل رہے ہیں پہلے افغانستان سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حملے ہو رہے تھے اب اس میں داعش بھی شامل ہو چکی ہے اس بات پر سخت نظر رکھنا ہوگی پاکستان دشمن قوتیں افغانستان کا میدان جنگ کہیں پاکستان میں شفٹ نہ کر دیں۔

ٹیگز: