Wed, September 16, 2026

سعودی عرب اور لبنان تعلقات میں بہتری، پابندی ختم کرنے کا اعلان

سعودی عرب اور لبنان تعلقات میں بہتری، پابندی ختم کرنے کا اعلان

ریاض : سعودی عرب نے تقریباً پانچ سال بعد لبنان سے درآمدات پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جبکہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی اس کی باضابطہ منظوری دی۔

اجلاس میں لبنان کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران ریاستی اداروں کی بحالی، اندرونی استحکام اور سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق لبنان کی طرف سے دی گئی متعدد یقین دہانیوں کے بعد یہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے اس فیصلے سے آگاہ کیا اور دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر گفتگو کی۔

بات چیت کے دوران سعودی عرب نے لبنان کے استحکام، خودمختاری اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

سعودی حکومت نے واضح کیا کہ لبنان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی ایسے گروہ یا سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہو جو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے۔

بیان میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ لبنانی حکومت اصلاحاتی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گی اور ریاستی اداروں کو مزید مضبوط بنائے گی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے سعودی قیادت سے درآمدی پابندی ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔

لبنانی صدر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات اور سعودی عرب کی مسلسل معاونت کا ثبوت قرار دیا۔

ان کے مطابق اس اقدام سے لبنان کی معیشت کو فروغ ملے گا، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی صنعتوں کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ 2021 میں ایک متنازع بیان کے بعد سعودی عرب اور لبنان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں سعودی حکومت نے لبنانی درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی۔
 

ٹیگز: