مشرق وسطیٰ ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، جنگوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار رہا ہے۔ ان تمام تنازعات میں اسرائیل کا انتہائی متنازع اور سفاکانہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ ”سکیورٹی“ اور ”دفاع“ کے نام پر نہ صرف اپنے ہمسایوں پر ان گنت حملے کیے ہیں بلکہ اپنی حدود سے باہر جا کر بھی جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ آج جب ایران کے جوہری پروگرام کو بہانہ بنا کر اسرائیل ممکنہ طور پر ایک اور حملے کی تیاری کر رہا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اور کیا اسرائیل کے ان اقدامات کا مقصد محض دفاع ہے یا گریٹر اسرائیل کی دیرینہ خواب کی تعبیر یا کوشش؟۔
اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد سے لے کر آج تک صیہونی انتہا پسند ریاست نے کبھی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات قائم رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ مصر، شام، لبنان، اردن اور فلسطین کوئی بھی ایسا ہمسایہ ملک نہیں بچا جس سے اسرائیل نے جنگ نہ کی ہو۔ فلسطین پر قبضے کے بعد لبنان میں بار بار کی جانے والی مداخلتیں، شام کے اندر فضائی حملے اور غزہ پر مسلسل بمباری سب امریکی حمایت یافتہ علاقائی بدمعاش اسرائیل کی جارحیت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
آج تک دنیا نے دیکھا ہے کہ ان تمام کارروائیوں میں ایک بات مشترک رہی ہے اور وہ ہے اس علاقائی بدمعاش کو امریکہ کی غیر مشروط حمایت۔ امریکہ نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے اور مسلسل اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ، خفیہ معلومات اور مالی امداد فراہم کی ہے۔ بلا شبہ یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ اسرائیلی جارحیت کو اگر کوئی چیز طاقت فراہم کرتی رہی ہے تو وہ امریکی شہہ ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند نظریہ دان گریٹر اسرائیل کے تصور پہ بھی یقین رکھتے ہیں، جس میں اسرائیل کی حدود دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک بڑھائی گئی ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت دنیا کو دکھانے کی خاطر سرکاری طور پر اس تصور کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتی، لیکن عملاً اس کی پالیسیاں پچھلے ستر سال سے اسی نظریے کو عملی شکل دینے کی کوششیں ہیں۔ مقبوضہ فلسطین میں بستیوں کی مسلسل تعمیر، شامی و لبنانی علاقوں پر قبضہ اور عراق و ایران کے خلاف مسلسل دھمکیاں یہ سب اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔
ایران ایک خودمختار ریاست ہے جو دنیا کے ہر باعزت ملک کی طرح اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط
بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بیرونی حملے سے اپنے عوام اور ریاست کی حفاظت کر سکے۔ اسرائیل کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ اس کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ حالانکہ ایران بارہا بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے اپنے جوہری مراکز کے دروازے کھول چکا ہے اور دنیا کو بتا چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کھلی جارحیت اور طاقت کے نشے میں چور ایک بدمعاش کی بدمعاشی کے زمرے میں آتی ہے۔
یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو ایران کا ردعمل صرف محدود پیمانے پر نہیں ہو گا۔ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کا پوری قوت اور سخت جواب دے گا، اور ممکنہ طور پر اسرائیل کی تمام ظاہری و خفیہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ دعویٰ کے برعکس یہ دونوں فریقین کی محدود فوجی کارروائی بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہو جائے، جس میں نا چاہتے ہوئے بھی پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
دنیا کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسرائیل دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جوہری عدم پھیلاو¿ کے معاہدے (NPT) پر دستخط نہیں کیے اور ایٹمی ہتھیار لیے بیٹھا ہے۔ لیکن اس پہ عالمی برادری کی طرف سے کوئی دباو¿ نہیں ڈالا جاتا۔ اسرائیل کے پاس ایک محدود اندازے کے مطابق قریب 90 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ پھر بھی ایران یا دیگر مسلم ممالک کی ایٹمی صلاحیت کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ بین الاقوامی اصولوں اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے بھی بالکل خلاف ہے۔ حقیقت میں جتنا دفاعی حق امریکہ یا اسرائیل کو ہے اتنا ہی دوسرے ممالک کا بھی ہے۔ اگر دنیا اور بالخصوص امریکہ و مغربی طاقتیں واقعی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کی مخالفت کرتی ہے، تو انہیں سب سے پہلے اسرائیل جیسے ممالک سے ان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تنسیخ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ورنہ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ صرف طاقتور ممالک اور ان کے لے پالک بدمعاشوں کی اجارہ داری کو قائم رکھنے کا ایک آلہ ہے۔
دوسری طرف عالمی طاقت امریکہ، جس نے خود کو ہمیشہ دنیا میں امن کا داعی بنا کر پیش کیا، اس نے ہمیشہ اسرائیل کے مظالم پر آنکھیں بند کیں۔ صدر ٹرمپ کے پچھلے دور میں تو اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینا اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات کو سہارا دینا، سب اس حکومت کی پالیسی کا حصہ تھے۔ اب اگر دوسری بار منتخب ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ واقعی دنیا میں امن کے خواہاں ہیں، تو انہیں چاہیے کہ اسرائیل کو سختی سے لگام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی ریاست کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کو پامال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اسرائیل کی یہ روش نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ یہ بات خود عالمی عدالت انصاف سے بھاگا ہوا ملزم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل تباہ ہوتا ہے تو دنیا کے کئی خطے اس کے ساتھ تباہ ہوں گے۔ کیا یہ دنیا کی تباہی کی نوید ہے؟ امریکہ اور اسرائیل کے مغربی حواریوں کو سوچنا ہو گا کہ کیسے ایک بدمعاش اور ناجائز ریاست کا سربراہ اپنے ساتھ دنیا کو تباہ کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے؟ کیونکہ اس کا مطلب ان ممالک کی اپنی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔
اس وقت عالمی منظرنامہ بہت نازک ہے۔ روس یوکرین جنگ، چین، تائیوان اور پاک بھارت کشیدگی اور اب ممکنہ ایران اسرائیل تنازع، سب مل کر ایک ایسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں ایک معمولی غلطی بھی تیسری عالمی جنگ کی شروعات کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، اور ایران نے جوابی کارروائی کی، تو خطے کے دیگر ممالک بھی اس جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں، خصوصاً لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک جہاں ایران کے اتحادی سرگرم ہیں۔ اسرائیل کے غزہ میں پچھلے دو سال سے جاری ناقابل بیان مظالم نے اسے مسلم ممالک میں نا صرف مزید ناپسندیدہ بنا دیا ہے بلکہ خطے اور دنیا کے تمام مسلمان اس ظلم و ستم پہ پہلے ہی سیخ پا ہیں۔ لہٰذا ایک چنگاری یا اسرائیلی شرارت، اسرائیل کے خلاف بڑا محاذ کھول سکتی ہے۔
کسی بھی بڑی تباہی سے بچنے کے لیے دنیا کو اس وقت ایک واضح اور منصفانہ مو¿قف اپنانے اور اپنے پالتو علاقائی بدمعاش اسرائیل کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس کی طرف سے کسی بھی ملک کے خلاف مزید جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایران کا دفاعی مو¿قف بالکل جائز ہے کہ جس طرح اسرائیل کو اپنی ایٹمی تنصیبات کی سکیورٹی عزیز ہے اسی طرح اسے بھی اپنے جوہری مراکز کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔