Wed, September 16, 2026

9 خفیہ ملاقاتیں، پیٹرن ان چیف، 4 حماقتیں

9 خفیہ ملاقاتیں، پیٹرن ان چیف، 4 حماقتیں

عیدالاضحی گزر گئی خان کہاں ہیں، بنی گالہ نہیں پہنچے۔ کتنا شور مچایا گیا۔ 5 جون کو رہا ہو کر عید بنی گالہ میں گزاریں گے۔ عشاق نے فقید المثال استقبال کی تیاریاں کر رکھی تھیں، دھری کی دھری رہ گئیں۔ 5 جون کو سزا معطلی کی درخواست کی سماعت 11 جون تک ملتوی اب ’’دن گنے جاتے ہیں اس دن کے لیے‘‘ معروف تجزیہ کاروں کے تبصرے غلط، ویلاگرز کی خواہشات سینوں میں دم توڑ گئیں۔ خان عید کے روز صبح تک سوئے رہے، جیل حکام نے نماز کے لیے دو بار جگایا۔ خان نے اٹھنے سے انکار کردیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ’’رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا‘‘ میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کی جنگ ختم بیانیوں کی لڑائی شروع ہوگئی۔ عوام نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو بھارت سے جنگ جیتنے پر سب سے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا، وہ فیلڈ مارشل بنا دیئے گئے۔ خان کو ہضم نہیں ہوا۔ جن کو آرمی چیف بننے سے روکنے کے لیے ہزار جتن کیے تھے اللہ نے انہیں عزت و تکریم سے نوازا، بے شک اللہ سب سے بڑا ہے۔ جسے چاہے عزت دے۔ خان نے جیل میں بیٹھے بیٹھے خود کو پارٹی کا پیٹرن انچیف بنا لیا۔ سیانوں نے کہا سیاسی اور دیگر تنظیموں میں غیر فعال بزرگ کو صرف عزت دینے اور ماضی کے فعال کردار کے پیش نظر پیٹرن انچیف بنا دیا جاتا ہے۔ بزرگ کی رائے قابل احترام لیکن عمل نہیں ہوتا، خان نے ظاہر کیا کہ ہم کسی سے کم نہیں، ’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ جو سامنے آئے وہ اندازوں سے بڑھ کر ’’طاقتور‘‘ ثابت ہوئے وہ دائو پیچ دکھائے کہ چت کردیا۔ طاقتوروں سے لڑنا اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالنے کے مترادف، لیکن خان کو کون سمجھائے۔ ’’سمجھ سمجھ کر بھی جو نہ سمجھے میری سمجھ میں وہ نا سمجھ ہے‘‘ خان کو قریبی دوستوں اور بہی خواہوں نے سمجھایا کہ ’’کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ، اس ملک کے بدلے ہوئے حالات ذرا دیکھ‘‘ مگر ان سے اقتدار کیا چھنا ہوش و حواس عقل و خرد سب چھن گئے۔ جیل میں بیٹھے خان نے ایک بار پھر مفاہمت کی بجائے مزاحمت کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کرلیا اور قوم یوتھ کو سڑکیں گرم کرنے اور حق سچ کی خاطر قربانی دینے کا حکم دے دیا۔ عوام عید پر قربانی کرچکے قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے40 فیصد خریداری کم ہوئی۔ اب کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟ خان سڑکوں پر آنے کی 18 کالیں دے چکے، مقبولیت کے باوجود عوام نے شرف قبولیت نہ بخشا، قیامت کی گرمی، سورج سوا نیزے پر عوام کیسے نکلیں گے۔ خان کے حکم میں کہا گیا عوام اپنے اپنے شہروں میں احتجاج کریں میں جیل سے تحریک کی قیادت کروں گا۔ خان سے ہلکی پھلکی کوتاہی ہوگئی۔ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ عوام اپنے گھروں میں رہ کر احتجاج کریں مثلاً گھروں کے برتن توڑ دیں، فرنیچر گلیوں بازاروں میں پھینک دیں، یوتھیوں کی اکثریت کے گھروں میں اے سی لگے ہیں وہ باہر اٹھا پھینکیں۔ بہترین احتجاج شاندار تحریک۔ اصل پرابلم کیا ہے؟ بیانیوں کے ماہر، یو ٹرن کے استاد، پیارے آنکھوں کے تارے لاکھوں یوتھیوں کے دل کے سہارے خان پائوں پر کلہاڑی نہیں کلہاڑی پر پائوں مارنے اور بم کو لات مارنے کے عادی ہیں۔ مفاہمت، سفارت کاری، سیاست، اصلاحات اور معیشت سے نابلد مگر قوم یوتھ کے محبوب ترین سیاستدان، حلف اٹھاتے ہوئے تین بار خاتم النبیین کہنا نہ آیا لیکن نعوذ باللہ انبیاء کی طرح تربیت کے دعوے، روحانیت کو رعونت کہنے کے باوجود روحانیت کی منازل طے کرنے کے دعوے، روحانیت کی منازل کون طے کراتا ہے؟ پتا نہیں، کرپشن پر سزائیں تب بھی صادق اور امین، انصاف کے نام پر تحریک انصاف بنائی مگر اس انصاف کے قائل جو ان کے حق میں ہو، رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو ’’کارنامے‘‘ انجام دیئے وہ ما شاء اللہ زبان زد عام مگر مفتیان دین مبین خاموش، نقاد مہر بلب۔ مقدمات ٹیکنیکل بنیادوں پر خارج مگر تاریخ میں سب محفوظ، دائیں بائیں موجود فرشتوں کے رجسٹر کھلے ہیں۔ 67 کروڑ وصول کرنے والوں سے بھی پوچھا جائے گا۔ 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات پر درج مقدمات 14 اگست تک نمٹانے کا حکم، خان آنے والے انہی حالات سے خوفزدہ ہیں۔ 9 مئی میں اپنے کارکنوں کی شمولیت کا اعتراف مگر اپنی ہدایات سے انکاری اسی لیے چوتھی بار پولی گرافک ٹیسٹ دینے سے انکار کردیا۔ مشینیں جھوٹ پر کیسے خاموش رہیں گی۔ ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں کی آوازیں شروع ہوگئیں تو گویا جھوٹ پکڑا گیا۔ سزا مقدر، تحریکوں کی کالیں دینے سے جیل سے باہر آنے کے رستے نہیں کھلتے بلکہ وہ غریب اور نا سمجھ کارکن بھی جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بند ہوجاتے ہیں جنہیں پارٹی کا کوئی لیڈر پوچھنے تک نہیں آتا۔ ’’قصیدہ‘‘ طویل ہوگیا یوتھئے ناراض ہیں اور ناراض ہوں گے خان کو خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے۔ چار روزہ جنگ کے بعد ایک معروف صحافی اور ویلاگر کے پوچھنے پر ایک اعلیٰ شخصیت نے کہہ دیا ’’خان از ڈن‘‘ بڑا شور مچا کیوں کیسے کی تکرار چلی مگر یہی فیصلہ ہے کہ جانے والے کبھی نہیں آتے۔ امریکا سے آنے والے ڈاکٹر ملے بغیر واپس چلے گئے ان میں سے ایک پاکستان نژاد تنویر احمد نے چینلز انٹرویوز میں بتایا کہ میں ذاتی طور پر خان سے 9 بار خفیہ ملاقاتیں کرچکا ہوں۔ ہر بار انہیں سمجھانے 
کی کوشش کی مگر وہ کانوں کے کچے اور اپنی انا اور ضد کے پکے ہیں ملاقاتیں کرنے والے ان کے کان بھرتے ہیں اور وہ پارٹی میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں وہ اپنی خو بدلنے کو تیار نہیں۔ ان ہی عادت کی وجہ سے خان کی مقبولیت 35 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد پر رہ گئی ہے۔ تنویر احمد مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ کچھ لو کچھ دو کا فارمولا بھی ناکام، خان اندر سے ہدایات دیں گے۔ ملاقاتوں پر پابندی لگ گئی تو ہدایت پائپ لائن سے باہر کیسے آئے گی۔ ویسے اب ٹرک کی پچھلی لائٹس آف اور چوہے بلی کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ کامران شاہد نے خان کے 30 سال پرانے دوست حسن نثار سے پوچھا ’’آپ کے دوست کا کیا حال ہے‘‘ حسن نثار تو جیسے بھرے بیٹھے تھے بولے۔ ’’خان کسی کا دوست تھا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ خود ہی بت ہے خود ہی پجاری۔ میں نے اسے منشور کے بنیادی نکات دیئے تھے حکم اللہ کا، قانون قرآن کا، رستہ رسولﷺ کا، پاکستان تمام پاکستانیوں کا، لیکن خان نے ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا۔ خان کی چار عادتیں لے ڈوبیں۔ وہ ہوم ورک نہیں کرتا، مردم شناس نہیں، احتساب کے خوف میں مبتلا ہے، اپنے سوا کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔‘‘ بقول حسن نثار یہی ’’چار حماقتیں‘‘ خان کو لے ڈوبیں گی۔ ابھی تک آنکھیں نہیں کھلیں، حالات بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے سارے راستے بند، علیمہ باجی نے گیم خراب کردی، سفارشی پریشان، معافی کا آپشن ختم، سسٹم کے تیور خطرناک ہیں۔

ٹیگز: