اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اکٹھا کیا جانے والا ریوینیو سرکاری ملکیتی اداروں پر بے جا خرچ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت نے 24 ریاستی اداروں کو نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹر کا کلیدی کردار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 24 سرکاری ملکیتی اداروں میں سے 8 اداروں کی نجکاری مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ وقت میں سرکاری ادارے 5.89 ٹریلین روپے کے خسارے میں ہیں۔
محمد اورنگزیب نے مزید وضاحت کی کہ گزشتہ سال جو ریوینیو جمع کیا گیا تھا، وہ ان خساروں کی بھرپائی میں استعمال ہو گیا ہے۔ اس لیے حکومت اس وقت ان اداروں میں اصلاحات لا رہی ہے تاکہ ان کی مالی حالت بہتر ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر منافع بخش اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے، تو اس سے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس طرح یہ ادارے مزید موثر طریقے سے کام کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے سندھ حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شعبے میں ایک بہترین ماڈل ترتیب دیا ہے، جس سے نجی و سرکاری شراکت داری کو فروغ ملے گا۔