Wed, September 16, 2026

فوج میں حکم مقدم، مذہب نہیں: دہلی ہائی کورٹ نے عیسائی افسر کی برطرفی درست قرار دے دی

فوج میں حکم مقدم، مذہب نہیں: دہلی ہائی کورٹ نے عیسائی افسر کی برطرفی درست قرار دے دی

نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے ایک عیسائی فوجی افسر کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی نظم و ضبط میں مذہب کی نہیں بلکہ قانونی حکم کی پیروی ضروری ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوج کو جو چیز متحد رکھتی ہے وہ وردی ہے، نہ کہ مذہبی شناخت۔
عیسائی فوجی افسر نے ہفتہ وار فوجی مذہبی پریڈز میں شرکت سے انکار کیا تھا، جس پر 3 مارچ 2021 کو اسے بغیر پنشن اور گریجویٹی کے برطرف کر دیا گیا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرنے پر عدالت نے کہا کہ افسر نے بارہا سمجھانے کے باوجود مذہب کو قانون پر ترجیح دی، جو کہ فوجی اقدار سے متصادم ہے۔
عدالت کے مطابق، فوج میں مختلف مذاہب اور علاقوں کے افراد موجود ہیں اور مذہبی رسومات صرف حوصلہ افزائی اور یکجہتی کا ذریعہ ہیں، کسی پر عقائد مسلط نہیں کیے جاتے۔حکام نے بتایا کہ افسر کو مقامی چرچ کے پادری سے بھی مشورہ دلوایا گیا، جنہوں نے واضح کیا کہ "سرو دھرم ستھل" میں شرکت مسیحی عقیدے کے خلاف نہیں، مگر افسر نے پھر بھی انکار جاری رکھا۔

عدالت نے قرار دیا   جب ایک افسر، جو محاذ جنگ پر قیادت کرتا ہے، حکم ماننے سے انکار کرے تو یہ صرف نافرمانی نہیں بلکہ ادارے کے نظم و ضبط پر ضرب ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوج میں سخت فیصلے، جو عام شہریوں کو سخت لگ سکتے ہیں، دراصل ادارے کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ چنانچہ عدالت نے افسر کی برطرفی کو مکمل طور پر جائز قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔

ٹیگز: