اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی سفارتکاری کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے دہائیوں پرانے اور پیچیدہ ترین تنازع میں فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کر دی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ کی قیادت میں کی جانے والی ان انتھک کوششوں کو عالمی سطح پر پاکستان کی ایک "شاندار سفارتی اننگز" قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسلام آباد کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں محض رسمی نہیں تھیں، بلکہ 31 گھنٹے تک جاری رہنے والی مسلسل نشستوں پر مشتمل تھیں۔ نائب وزیرِ اعظم نے خود ان مذاکرات کی نگرانی کی اور فریقین کے درمیان موجود بداعتمادی کی گہری خلیج کو پاٹنے کے لیے مخلصانہ اور پیشہ ورانہ کردار ادا کیا۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد فوری طور پر جنگ بندی کو ممکن بنانا اور فریقین کو ایک ایسی میز پر بٹھانا تھا جہاں وہ دہائیوں بعد ایک دوسرے کے موقف کو براہِ راست سن سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سفارتی مشن کی اہمیت کا اندازہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس حالیہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے ثالثی کے دوران دی گئی تجاویز اور پیشکش کا ذکر کیا۔ امریکی قیادت کی جانب سے اس پیش رفت کو امید کی ایک بڑی کرن قرار دیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ اور ثالثی کی صلاحیتیں عالمی سطح پر مسلمہ ہیں۔
مذاکرات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ کافی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم یہ تنازع اپنی نوعیت میں انتہائی پیچیدہ ہے جس میں کئی بیرونی عناصر اور رکاوٹیں شامل ہیں۔ فریقین کو اپنے ملکوں کے اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کا کردار صرف ایک 'غیر جانبدار ثالث' تک محدود تھا، اور جو کچھ حاصل ہوا یا نہ ہو سکا، وہ فریقین کے باہمی معاملات اور ان کے داخلی حالات کا نتیجہ ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی اس اننگز کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے قیام میں ایک اہم اور ذمہ دار کھلاڑی ہے۔ جنگ بندی کا ممکن ہونا اور کٹر مخالفین کا مذاکرات پر راضی ہونا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی جیت تصور کی جا رہی ہے۔