Wed, September 16, 2026

ایران۔امریکا مذاکرات،توقعات اور خدشات

ایران۔امریکا مذاکرات،توقعات اور خدشات


 اس وقت سب کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکی وفود کے مابین مذاکرات پر ہیں اور پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو جنگ بندی کراکے ان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا ہے۔ ایران سے جامع جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اعلیٰ سطح کے وفد بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنرکے ہمراہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچے ہیں۔ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ممکن ہے؟ اس کیلئے تو انتظار کرنا ہوگا لیکن دونوں جانب اختلافات موجود ہیں ۔ مذاکرات کے مثبت نتائج کے بارے میں تو ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہی ایک کامیابی ہے اور یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔ ایران اور امریکا دونوں اس سوچ کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہو ئے ہیں کہ وہ جیت چکے ہیں اور دوسرا فریق کسی بھی قیمت پر جنگ بندی چاہتا ہے تو شائدیہ درست نہیں۔ اصل میں بات کس چیز پر ہو رہی ہے، اس پر ابہام موجود ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا منصوبہ مذاکرات کے لیے ایک بنیاد کے طور پر قابل عمل ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ نے ان دس نکات کو قبول کر لیا ہے، بلکہ صرف یہ کہ وہ ان پر بات کرنے کو تیار ہے۔ جبکہ ایران اسے مکمل قبولیت سمجھ رہا ہے۔اسی ابہام کی وجہ سے ایران فوری طور پر لبنان میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ لیکن اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی طے شدہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ ایرانیوں کے پاس امریکیوں پر عدم اعتماد کی وجوہات ہیں تو امریکیوں کے پاس بھی ایرانیوں پر عدم اعتماد کی وجوہات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ٹرمپ واقعی اس تنازع سے نکلنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں ایک واضح اور غیر متنازع کامیابی بھی درکار ہے۔یہ کامیابی ممکنہ طور پر جوہری مسئلے پر حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اصل فیصلہ کن معاملہ” اسٹارٹ آف ہرمز“ہوگا، جہاں دونوں فریقوں کے درمیان ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آتی۔ جوہری معاملے پر تقریباً ایک معاہدہ ہو چکا تھا۔ دونوں ممالک اصولی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہئیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔جنگ سے پہلے عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب تھے، جس کے تحت ایران کو محدود افزودگی کی اجازت ہوتی، مگر کچھ عرصے کے لیے ایرانی سرزمین پر افزودگی نہ ہوتی اور سخت نگرانی کی جاتی۔لہٰذا حل کی گنجائش موجود ہے، مگر یہ ٹرمپ کے لیے مکمل کامیابی قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ اسرائیل اصولی طور پر اس معاہدے سے خوش نہیں ہے۔ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے، یا کم از کم ایک کمزور ایران جو اندرونی مسائل میں الجھا ہو۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ امریکہ یا خلیجی ممالک بھی ایسا ہی چاہیں۔بظاہر اختلافات بہت گہرے ہیں اور انہیں ختم کرنا مشکل ہوگا۔ مثبت بات یہ ہے کہ جے ڈی وینس اسلام آباد آئے ہیں، جس سے لگتا ہے کہ کسی حد تک کامیابی کی توقع ہوگی، لیکن عوامی بیانات اس امید کی تائید نہیں کرتے۔ یہاں سعودی عرب کا بھی تذکرہ ضروری ہے کہ سعودی عرب پہلے ہی اس عمل کا حصہ رہا ہے اور خلیجی ممالک مذاکرات میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات ان کی معیشتوں پر پڑیں گے۔جہاں تک چائنا اور روس کا تعلق ہے، ان کا کردار محدود ہوگا۔ چین نے کوئی مضبوط ضمانت دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ روس اس وقت یوکرائن میں مصروف ہے۔لہٰذا اگر وہ شامل بھی ہوئے تو ان کے کردار کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ایران کا اعلی سطح مذاکراتی وفد امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ تو گیا مگر تہران نے ان اقدامات پر اصرار کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان میں ہونے والی ان طے شدہ ملاقاتوں پر آخری لمحات میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین روز قبل چھ ہفتوں سے جاری جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے محض چند گھنٹے پہلے سامنے آیا جس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔جنگ بندی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے تو روک دیے لیکن اس سے آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی ختم نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں اب تک کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ واشنگٹن پہلے ہی ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرچکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا تب تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ وائٹ ہا¶س کی جانب سے ایرانی مطالبات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ ایک معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھاکہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو قلیل مدتی بلیک میل کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ (کارڈز) نہیں ہے اور آج ان کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بھی کہناتھا کہ اگر ایران ہمیں دھوکہ دینے یا الجھانے کی کوشش کر ے گا تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اتنی نرم خو نہیں ہے۔بینکنگ اور توانائی شعبوں پر امریکی پابندیوں کے باعث ایران غیر ملکی بینکوں میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے حاصل کرنے سے قاصر رہا ہے، جو بنیادی طور پر تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل شدہ رقم ہے۔ مستقل جنگ بندی اگلا مشکل مرحلہ ہے، جس میں پیچیدہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ 

ٹیگز: