Wed, September 16, 2026

گمراہ کن مواد پر کچھ وضاحتیں!

گمراہ کن مواد پر کچھ وضاحتیں!

قومی امور پر بہت سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ایک بحث جاری ہے اور یہ طول پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔۔ اسی طرح ایک حالیہ اخباری مضمون میں بلاشبہ ایک اہم قومی موضوع پر کچھ گمراہ کن مواد لکھا گیا ہے۔۔ تاہم اس میں کئی نکات ایسے ہیں جن پر گہرائی سے وضاحت درکار ہے۔ کسی بھی ریاست میں جب دفاعی ڈھانچے میں اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کو طاقت کی منتقلی کے زاویے سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کمانڈ کے توازن کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پاکستان میں ‘‘چیف آف ڈیفنس فورسز’’ کے قیام کو اگر آئینی فریم ورک کے اندر سمجھا جائے تو یہ کسی بھی طور پر جمہوریت یا سویلین بالادستی کے خاتمے کا عندیہ نہیں بلکہ ریاستی مشینری کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
یہ دعویٰ کہ ایک چیف کے پاس تمام اختیارات آنے سے سویلین سپریمیسی ختم ہو جائے گی، درست نہیں۔ اس لیے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرر بھی سویلین قیادت یعنی وزیرِاعظم کی سفارش پر ہوگا، صدرِمملکت اس کی توثیق کریں گے، اور آئینی اختیار وہی رہیں گے جو آج موجود ہیں۔ برطانیہ میں بھی چیف آف ڈیفنس سٹاف پورے دفاعی نظام کی نمائندگی کرتا ہے لیکن اس کی سمت کا تعین ہمیشہ وزیرِدفاع اور وزیرِاعظم کرتے ہیں۔ اگر وہاں جمہوریت کی روح قائم رہ سکتی ہے تو پھر پاکستان میں یہی انتظام سویلین نظام کے لیے خطرہ کیسے بن گیا؟ اسی طرح فرانس میں بھی ‘‘چیف ڈی تاٹ میجر دی آرمیز’’ ایک ایسا ہی عہدہ ہے جو تینوں فورسز کو مربوط کرتا ہے مگر فیصلہ کن اختیار بدستور سویلین قیادت کے پاس ہوتا ہے۔
یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ جب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (CJCSC) کام کر رہا ہے تو نئے چیف آف ڈیفنس فورسز کی ضرورت کیوں ہے۔ اس سوال کا جواب عملی نوعیت کا ہے۔ اگر کوئی کمیٹی صرف مشاورتی حیثیت رکھتی ہو اور اس کے پاس آپریشنل اختیارات نہ ہوں تو وہ فورسز کے درمیان توازن قائم نہیں کر سکتی۔ بھارت کی مثال سامنے ہے، جہاں 2020 میں ایک غیر مؤثر ‘‘ڈیفنس کمیٹی’’ کو ختم کرکے چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ قائم کیا گیا تاکہ تینوں سروسز کی آپریشنل ہم آہنگی ممکن بن سکے۔ اسی طرح امریکہ نے 1947 میں ‘‘نیشنل سکیورٹی ایکٹ’’ اور 1986 میں ‘‘گولڈ واٹر نکول ریفارمز’’ کے ذریعے اپنی افواج کو ایک متحد کمانڈ میں منظم کیا۔ اس کا مقصد سویلین بالادستی ختم کرنا نہیں بلکہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ سویلین اور ملٹری کنٹرول کو خلط ملط کر دے گا۔ اس کے برعکس، جب یہ واضح طور پر تحریر میں موجود ہے کہ اس کی تقرری وزیرِاعظم کی تجویز پر ہوگی، تو اس نظام میں جمہوری عمل مزید مضبوط ہوتا ہے۔ صدرِمملکت بدستور سپریم کمانڈر رہیں گے اور دفاعی پالیسی کی تشکیل میں کابینہ کا کردار بھی اپنی جگہ برقرار رہے گا۔
اسی طرح یہ دعویٰ کہ کمانڈ کو ایک فرد کے ہاتھ میں دینے سے ادارہ جاتی توازن بگڑ جائے گا، عالمی حقائق کے برعکس ہے۔ چین، روس، فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں دفاعی ڈھانچے کا مطالعہ کیا جائے تو ہر جگہ ایک متحدہ کمانڈ موجود ہے جو مختلف فورسز کو مربوط کرتی ہے۔ چین میں ‘‘سینٹرل ملٹری کمیشن’’ تمام فورسز کی سربراہی کرتا ہے جس کی قیادت ایک شخص کے پاس ہوتی ہے۔ روس میں ’’جنرل سٹاف آف آرمڈ فورسز‘‘ کے تحت تمام کمانڈز چلتی ہیں۔ امریکہ میں ‘‘انڈو پیسیفک کمانڈ’’ کے ماتحت بری، بحری اور فضائی فورسز اکٹھے کام کرتی ہیں۔ یہ سب ممالک جدید جنگی تقاضوں کے مطابق خود کو متحد کر چکے ہیں کیونکہ آج کے زمانے میں دفاع صرف ایک فورس کا نہیں بلکہ ایک انٹیگریٹڈ سسٹم کا تقاضا کرتا ہے۔
بعض ناقدین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ آئین میں اس نوعیت کی شقیں شامل کرنے سے فوجی حاکمیت بڑھ جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ فوجی حاکمیت آئینی بالادستی سے قائم ہوتی ہے یا آئین توڑنے سے؟ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ریاستی ادارہ مارشل لا کے بجائے آئینی راستہ اختیار کر کے اپنے ڈھانچے میں اصلاح کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ فوج اب آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینا چاہتی ہے۔ یہ جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے، کمزوری کی نہیں۔ اگر فوجی اصلاحات آئین کے مطابق ہوں تو یہ عمل دراصل آئین کی برتری کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی خلاف ورزی۔
یہ بھی کہا گیا کہ ایک کمانڈ کے قیام سے فورسز میں تقسیم پیدا ہوگی۔ مگر تاریخ اس کے برعکس کہتی ہے۔ بھارت کو 2019 میں جب جنگی حالات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو بری اور فضائی فورسز کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث انہوں نے اپنا ہی ہیلی کاپٹر تباہ کر دیا۔ اس واقعے نے بھارت کو مجبور کیا کہ وہ اپنی فورسز کو متحد کرے۔ امریکہ نے ویتنام جنگ میں ناقص کوآرڈینیشن کے باعث بھاری نقصان اٹھایا اور اسی تجربے سے اس نے متحدہ ملٹری ڈاکٹرائن تشکیل دی۔ ترکیہ، چین، روس، فرانس… سب نے اپنی اپنی مسلح افواج میں یونائیفائیڈ کمانڈ سسٹم نافذ کیا تاکہ فیصلہ سازی، رابطے اور آپریشنز میں ربط قائم کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کے تمام بڑے ممالک اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کر سکتے ہیں تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ کیا وہ سب ممالک غلط ہیں اور صرف ہم درست؟ اصلاح کا مطلب ہمیشہ تبدیلی نہیں بلکہ بہتری ہوتا ہے، اور یہی وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان بھی اپنے دفاعی نظام کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت جدید بنائے۔ اس تنقید کے بجائے کہ ’’پاکستان نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ کیوں بنایا‘‘، زیادہ تعمیری سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’’پاکستان اس ماڈل کو دیگر ممالک سے بہتر کیسے بنا سکتا ہے‘‘۔
کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی پالیسی ہم آہنگی میں ہوتی ہے۔ اگر تینوں فورسز اپنے اپنے دائرے میں مضبوط ہوں مگر آپریشنل طور پر منقسم ہوں تو اس کا نقصان ریاست کو ہوتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا ماڈل اسی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش ہے۔ یہ عہدہ نہ صرف فورسز کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے بلکہ قومی سلامتی کے حوالے سے واضح اور متفقہ پالیسی تشکیل دینے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس سے سویلین کنٹرول کم نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں شفافیت اور جوابدہی کا عنصر بڑھتا ہے کیونکہ اب ایک مربوط کمانڈ کے تحت تمام ادارے وزیرِاعظم کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا اب روایتی جنگی نظاموں سے آگے جا چکی ہے۔ جدید جنگیں ملٹی ڈومین ہوتی ہیں، جن میں سائبر، خلائی، بحری، بری اور فضائی عناصر ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ایک متحد قیادت ناگزیر ہے جو تمام پہلوؤں کو یکجا کر کے فیصلہ لے سکے۔ اگر پاکستان اسی سمت قدم بڑھا رہا ہے تو یہ نہ صرف اس کی دفاعی حکمتِ عملی کی پختگی کی علامت ہے بلکہ ایک بالغ جمہوریت کی پہچان بھی ہے جو اپنے اداروں کو آئینی حدود میں رکھ کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔
تنقید اپنی جگہ درست ہے کہ اصلاحات ہمیشہ محتاط منصوبہ بندی کے ساتھ ہونی چاہئیں، مگر ان کا مقصد محض مخالفت نہیں بلکہ بہتری ہونا چاہیے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا قیام دراصل اسی سمت ایک قدم ہے جہاں ادارے اپنی صلاحیتوں کو یکجا کر کے قومی مفاد میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اگر اس تبدیلی کو درست تناظر میں دیکھا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ریاستی ہم آہنگی اور آئینی بالادستی کے استحکام کی علامت ہے۔

ٹیگز: