قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جو رہتی دنیا تک امر ہو جاتے ہیں۔ اگر مئی کی بات کی جائے تو 9 مئی 2023 پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخ ساز دن ہے، جس کے اثرات اب تک جاری ہیں۔ 9 مئی 2023 کو آئینی طور پر نااہل سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کی ایما اور پلاننگ کے تحت ملک بھر میں احتجاج، جلاو¿ گھیرا اور فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ ایک منظم سازش جو پہلے سے ہی تیار کی گئی تھی اس کے تحت تحریک انصاف کے بلوائیوں نے خاص طور پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا شہدا کی یادگاریں مسمار کیں۔ ان کی لیڈرشپ نے ان دہشت گردوں کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ مکمل سپورٹ کے ساتھ بذات خود موجود رہے۔ نا اہل وزیراعظم عمران خان نے تو اعلانیہ کہہ دیا تھا کہ اگر مجھے گرفتار کرو گے تو اس سے بھی بھیانک نتائج نکلیں گے۔ دراصل عمرانی ٹولے کو بہت پکی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تمہارے احتجاج اور جلاو¿ گھیراو¿ کے بعد ایک طرف سے بھارت دوسری طرف سے طالبان پاکستان پر حملہ آور ہوں گے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ اندرونی معاملات میں بھی فیض حمید کا جال بچھا تھا اور بظاہر انہی کی گرفت تھی۔ عمران خان، فیض حمید، اسرائیل، بھارت اور طالبان بالخصوص تحریک طالبان پاکستان جن کی پشت پناہی پی ٹی آئی اعلانیہ کرتی رہی ہے ان کو یقین تھا کہ یہ فوج میں بغاوت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یوں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے جائیں گے۔ 9 مئی 2023 کو عمرانی ٹولے اس گھناو¿نی سازش کو کامیاب ہوتے دیکھ رہے تھے اور اس گھمنڈ میں انہوں نے ہر حد پار کر دی۔ یہ لوگ اتنے پُر اعتماد تھے کہ اپنی ہر کارروائی کو لائیو ٹرانسمیشن یا لائیو سٹریمنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ ڈیٹ کر رہے تھے۔ اپنے بیرونی آقاو¿ں اسرائیل اور بھارت کو دکھا رہے تھے کہ ہم نے آپ کے احکامات کے عین مطابق عمل کر دیا ہے بس بھارت اپنے وعدے کے مطابق پاکستان پر حملہ آور ہو۔ فیض حمید کے نیٹ ورک نے اس وقت کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل شمشاد کو پریشر میں لانے کی کوشش کی تاہم جنرل شمشاد نے بیرونی دورے پر موجود اپنے چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کو حالات و واقعات بارے آگاہ کر دیا۔ یوں فوج کو توڑنے کی سازش میں دم خم ختم ہونے لگا تاہم پی ٹی آئی اور بھارت اپنی منظم اور مربوط سازش پر عمل پیرا رہی۔ پاک فوج، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے کمال مہارت، بردباری، برداشت اور تحمل کے ساتھ اندرونی و بیرونی دشمن کی پاکستان کے خلاف کی گئی سازش کو ناکام بنا دیا۔ تحریک انصاف کے ان واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کیا گیا، جس میں ہزاروں دہشت گرد بلوائیوں اور ان کے رہنماو¿ں کو گرفتار کیا گیا۔ 100 سے زائد افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آج ان واقعات کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور یہ موضوع آج بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جس دن ایک بار پھر شیخ مجیب الرحمن کے پیروکار عمران نیازی نے پاکستان توڑنے کی سازش کی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا نااہل آر ٹی ایس وزیر اعظم عمران خان اپنی کے تحت جیل میں سزائیں کاٹ رہا ہے اور اس کا ساتھی فیض حمید فوجی قوانین کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال، طاقت کے نشے میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرنے کی وجہ سے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ساتھ 14 سال سزا بھگت رہا ہے۔ واضح رہے کہ فیض حمید اور عمران خان کے خلاف ابھی 9 مئی سازش کے کیس باقی ہیں جو یقینی طور پر آنے والے دنوں میں مکمل چالان کے ساتھ پیش ہونے جا رہے ہیں۔ کیس فوجی عدالت میں چلیں گے اور ان دو غداران وطن کو نشان عبرت بنایا جائے یہی ایک سچے پاکستانی کی دل کی آواز ہے۔ عام انتخابات 2024 کے بعد اللہ تعالیٰ نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شکل میں پاکستان کو دو ایسے مسیحا عطا کیے جنہوں نے پاکستان کو اوج کمال پر پہنچا دیا ہے۔ تاریخ نے خود کو دہرایا اور 9 مئی 2025 کو بھارت نے تحریکِ انصاف کے دہشت گردوں کی فرمائش پر پھر پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی جس کے شواہد علیمہ خان، عمر ایوب اور دیگر بھگوڑے پی ٹی آئی والوں کی اس وقت کی میڈیا ٹاک اور سوشل میڈیا پوسٹیں موجود ہیں کہ کس طرح وہ بھارت کو خوش آمدید کہہ رہے تھے اور کس طرح ان لوگوں نے بھارت سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ بھارت نے اس غلط فہمی میں کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے پی ٹی آئی بھارت کے ساتھ ہے اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کا یہ سب سے سنہری موقع ہے حملہ کیا گیا اور الحمدللہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرک، بہادر اور نڈر لیڈر شپ نے اپنے سے 11 گنا بڑے دشمن کو محض چند منٹوں میں دھول چٹا دی، اس کے گھمنڈ رافیل کو فیل کر دیا، ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 کو پلک جھپکتے مٹی کا ڈھیر بنا دیا اور سگنل کور نے بھارت کے سارے نظام کو مفلوج کر دیا۔ اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والا مودی امریکہ کے سامنے بھیک مانگنے لگا کہ پاکستان سے ہماری جان چھڑائیں۔ اللہ پاک نے آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کو وہ تاریخی فتح نصیب کی کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخ ساز کامیابی کے بعد پاکستان کی تقدیر ایسی بدلی کہ آج ایک سال گزر جانے کے بعد پاکستان دنیا میں امن کا ضامن، عالمی تنازعات کو حل کرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے افق پر ایک عظیم، بہادر اور دلیر قوم کی صورت ایک نئے تشخص کے ساتھ ابھرا ہے۔ جس وزیراعظم کو 27 کلو میٹر کا وزیراعظم کہا جاتا تھا آج وہ وزیر اعظم دنیا کے 195 ممالک میں اپنی منفرد شناخت کے ساتھ قابلِ رشک ہے۔ جس عاصم منیر کے چیف آف آرمی سٹاف بنانے کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تھے وہ آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہے۔ جس کی تعریف دوست ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ، برطانیہ، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور بالخصوص پینٹاگون اور اوول ہاو¿س میں صدر ٹرمپ کرتا نہیں تھکتا۔ دنیا کے نامور میگزینز کے سر ورق پر عاصم منیر کی تصویر چھپتی ہے۔ دنیا کے نامور جریدے شہباز شریف اور عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں سے متاثر ہو کر خصوصی مضامین شائع کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا میں امن کا سفیر اور ایک اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی غیر معمولی سفارت کاری نے پاکستان کو دنیا کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات ہوں یا خلیجی ممالک میں بگڑتا طاقت کا توازن سب کی نظریں پاکستان وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر ہیں۔ سرمایہ داری نظام میں یقینا طاقت بہت بڑی دلیل ہے اور پاکستان نے دنیا میں اپنی عسکری برتری سے اپنا منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص یقینی طور پر پاکستانی قوم کیلئے قابل رشک اور تاریخ ساز کامیابی کا دن ہے۔ زندہ قومیں اپنے ادوار کو قابل فخر انداز میں مناتی ہیں۔ ساری قوم اس وقت عید کی طرح معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کا جشن منا رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں عوام اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لا رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں لاہور میں پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ نے معرکہ حق کی مناسبت سے تصویری نمائش کا انعقاد کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے روح رواں سینئر صحافی اور اینکر پرسن فرخ شہباز وڑائچ ہیں۔ فرخ شہباز وڑائچ 2012 سے لکھاریوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال نوجوانوں کو اس پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہے ہیں وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید خطوط پر استوار کریں اور ان کی صلاحیتوں سے پاکستان مستفید ہو۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پلاک PILAC) میں منعقدہ تصویری نمائش کے مہمان خصوصی سپیکر پنجاب اسمبلی تھے جبکہ دیگر شرکا میں وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان، چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رو¿ف، سی سی او ارار گروپ آف کمپنیز ہمایوں سرور، شمائلہ رانا، اداکار راشد محمود، پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری جنرل سید حسن مرتضیٰ، سینئر صحافی سلمان غنی، صفدر علی خان، ایثار رانا، جواد احمد سمیت ریٹائرڈ فوجی افسران، سول سوسائٹی اور طلبا و طالبات سمیت عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ طلبا و طالبات کے معرکہ حق کی مناسبت سے بنائے گئے فن پارے توجہ کا مرکز تھے۔ اس موقع پر سب کا پیغام ایک ہی تھا کہ ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“ یوتھ جنرل اسمبلی کے مرکزی صدر اور فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام فہد شہباز وڑائچ اس تقریب میں مرکز نگاہ تھے۔ فہد شہباز بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں انہوں نے معرکہ حق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان نسل کی ترجمانی کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا نوجوان پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ فہد شہباز نے خاص طور پر وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کے نوجوان کو پہلے صرف امید دلائی گئی تھی وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو عملی طور پر مضبوط کر کے روشن مثال قائم کی ہے۔ تعلیمی میدان میں سکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان کے نوجوانوں کو بلا تفریق مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ لیپ ٹاپ سکیم کے علاہ نوجوانوں کو قرضہ حسنہ بھی دیا جا رہا ہے۔ فہد شہباز کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے کہ تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر یہ نوجوان پاکستان کی خدمت کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مسلح افواج، وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کی سرحدوں اور سفاری میدان کے محافظ ہیں تو فہد شہباز وڑائچ جیسے نوجوان پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی موجودگی میں بھارت کیا دنیا کی کوئی طاقت بھی پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔