واشنگٹن: افغانستان میں طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال نے ملک کو عالمی تنہائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کو غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں برقرار رکھتے ہوئے اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سفری انتباہ جاری کر دیا ہے۔
’سٹیٹ سپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن‘: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو باضابطہ طور پر غیر قانونی حراستوں کا سرپرست ملک قرار دے دیا ہے، جو طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔اسسٹنٹ سیکرٹری مورا نامدار کے مطابق افغانستان میں امریکی شہریوں کو اغوا اور سنگین جانی خطرات لاحق ہیں۔ امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت افغانستان کا سفر نہ کریں۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ طالبان حکومت بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث عالمی برادری ان سے دوری اختیار کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرزمین اب ایک بار پھر عالمی امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بھارتی سرپرستی میں افغانستان سے پنپنے والی دہشت گردی خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ عالمی امن کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔