عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ بعض جغرافیائی مقامات محض نقشے کے حصے نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا کی معاشی اور سیاسی حرکیات کو متعین کرنے والے مراکز کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی انہی چند سٹریٹیجک راستوں میں شامل ہے جو عالمی توانائی کے نظام کی شہ رگ تصور کیے جاتے ہیں۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری گزرگاہ صدیوں سے تجارت کا اہم دروازہ رہی ہے، مگر جدید دور میں اس کی اہمیت اس وقت کئی گنا بڑھ گئی جب خلیجی ممالک کے وسیع تیل و گیس کے ذخائر عالمی صنعتی نظام کے لیے بنیادی ایندھن بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس آبی راستے کے گرد سیاسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
مشرقِ وسطی میں حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر عالمی توانائی کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دنیا کے صنعتی اور ترقی پذیر ممالک کی ایک بڑی تعداد اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی تیل پر انحصار کرتی ہے اور اس تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر مقدار روزانہ اس راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پیدا ہو جائے تو فوری طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں، جس کا اثر صنعتی پیداوار، تجارتی سرگرمیوں اور عام صارفین کی زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ صورتحال ان ممالک کے لیے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں توانائی کا بڑا حصہ بیرونی منڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی متعدد ساختی مسائل سے دوچار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، زرمبادلہ کے محدود ذخائر، کرنٹ اکائونٹ خسارہ اور کمزور کرنسی جیسے عوامل معاشی استحکام کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ جائیں تو اس کا براہِ راست اثر قومی معیشت پر پڑتا ہے اور عوامی زندگی مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں توانائی کی قیمتیں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ صنعت، زراعت اور بجلی کی پیداوار کے لیے بھی اہم ایندھن ہیں۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ خوراک، اشیائے صرف اور دیگر خدمات کی قیمتیں بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر اضافہ عوامی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنتا ہے۔ عوامی حلقوں میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر ملک کے پاس چند ہفتوں کا تیل ذخیرہ موجود ہے تو پھر عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھتے ہی مقامی سطح پر قیمتیں فوری طور پر کیوں بڑھا دی جاتی ہیں۔
درحقیقت اس سوال کا تعلق توانائی کی پالیسی اور مالیاتی حکمت عملی سے ہے۔ پاکستان چونکہ تیل کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے مقامی قیمتوں کا تعین صرف موجودہ ذخائر کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئندہ درآمدی قیمتوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو حکومت اور متعلقہ ادارے اس امکان کو پیش نظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہیں تاکہ آئندہ مہنگی درآمدات کے باعث مالیاتی خسارہ پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ مقامی کرنسی کی قدر میں کمی بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ درآمدات ڈالر میں ادا کی جاتی ہیں۔
تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی توانائی پالیسی طویل عرصے سے بنیادی اصلاحات کی متقاضی رہی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بہت سے ممالک نے قابل تجدید توانائی، خصوصا شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ پاکستان میں بھی ان شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، مگر اس کی رفتار اب بھی عالمی رجحانات کے مقابلے میں سست نظر آتی ہے۔
آبنائے ہرمز کا موجودہ بحران دراصل پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر عالمی توانائی کے راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ اثر انہی ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں ایک جامع اور دور رس حکمت عملی اختیار کرے۔ مقامی وسائل کی تلاش، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور توانائی کے ضیاع کو کم کرنے جیسے اقدامات مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ معاملات پر پاکستان کا براہ راست کنٹرول نہیں۔ مشرق وسطی کے تنازعات، بڑی طاقتوں کی رقابتیں اور توانائی کی عالمی سیاست ایسے عوامل ہیں جنہیں کوئی ایک ملک تبدیل نہیں کر سکتا۔ تاہم ہر ریاست اپنی داخلی معاشی حکمت عملی کے ذریعے بیرونی جھٹکوں کے اثرات کو کم ضرور کر سکتی ہے۔ اگر پاکستان توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو عالمی بحرانوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال یہ باور کراتی ہے کہ توانائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سیاسی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جو ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کو متنوع ذرائع سے پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ عالمی بحرانوں کے دوران زیادہ مستحکم رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ مستقبل کی معاشی مضبوطی کا ضامن بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہر عالمی بحران، ہر علاقائی کشیدگی اور ہر توانائی بحران ہماری معیشت کو بار بار اسی طرح عدم استحکام کا شکار کرتا رہے گا۔