Wed, September 16, 2026

1984 کی نسل کشی، سکھ انصاف کیلئے منتظر

1984 کی نسل کشی، سکھ انصاف کیلئے منتظر

تاریخ کے بعض زخم وقت گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہوتے۔ وہ نسلوں کے حافظے میں زندہ رہتے ہیں، سوال بن کر، دکھ بن کر اور انصاف کی ایک مسلسل پکار بن کر۔ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پہ قبضہ ہو یا جون 1984 انڈیا کی بر بریت نا بیگانوں پہ رکی اور نا ہی بھارتی جبر ان کے اپنے لوگوں کیلئے تھم سکا۔ یہاں ہم ایسے ایک باب کا ذکر کرنے جا ر ہے ہیں جسے سکھ برادری آج تک فراموش نہیں کر سکی۔ گولڈن ٹیمپل کی دیواروں پر پڑنے والے گولیوں کے نشانات شاید وقت کے ساتھ مدھم ہو گئے ہوں، مگر ان واقعات کی بازگشت آج بھی دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں سکھوں کے دلوں میں سنائی دیتی ہے۔
یکم جون سے 10 جون 1984 کے درمیان بھارتی حکومت نے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل (ہرمندر صاحب) پر فوجی کارروائی کی۔ گولڈن ٹیمپل سکھ مذہب کا مقدس ترین مقام ہے اور سکھوں کے نزدیک اس کی اہمیت وہی ہے جو مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کی ہے۔ ا±س وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی حکومت نے سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور ان کے ساتھیوں کو نکالنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کیا، جسے "آپریشن بلیو اسٹار" کا نام دیا گیا۔
اس آپریشن کی قیادت میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار نے کی، جو خود سکھ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ محض ایک فوجی حکمت عملی نہیں تھا بلکہ اس نے سکھ برادری کے اندر موجود تقسیم اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر دیا۔ آج بھی اس آپریشن کے بارے میں آراءمنقسم ہیں، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے لاکھوں سکھوں کے جذبات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اس کارروائی کا ایک اور متنازع پہلو یہ تھا کہ یہ ایسے وقت میں کی گئی جب گرو ارجن دیو جی کی شہادت کی یاد میں گولڈن ٹیمپل میں عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم موجود تھا۔ جون 2026 میں آپریشن بلیو اسٹار کی 42ویں برسی منائی جا رہی ہے، لیکن اس واقعے کی تلخی آج بھی سکھ تاریخ اور اجتماعی شعور کا حصہ ہے۔
آپریشن بلیو اسٹار کے بعد "آپریشن و±ڈ روز" شروع کیا گیا، جس کا مقصد سرکاری طور پر پنجاب کے دیہی علاقوں میں موجود عسکریت پسند عناصر کے خلاف کارروائی بتایا گیا۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں، متعدد مصنفین اور متاثرین کے بیانات کے مطابق اس دوران گرفتاریوں، چھاپوں اور سیکیورٹی اقدامات نے عام شہریوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی۔ وسن سنگھ ظفروال سمیت کئی افراد نے بعد میں ایسے تجربات بیان کیے جنہوں نے ریاستی اقدامات پر سوالات اٹھائے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق 1984 کے واقعات دراصل ایک گہرے سیاسی بحران کا نتیجہ تھے۔ حکومت نے انہیں سیکیورٹی کا مسئلہ قرار دیا، جبکہ ناقدین کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ چار دہائیوں بعد بھی آپریشن بلیو اسٹار صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک متنازع تاریخی اور سیاسی علامت کے طور پر زیرِ بحث ہے۔
31 اکتوبر 1984 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں سکھ مخالف تشدد پھوٹ پڑا جس میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ بہت سے مبصرین ان واقعات کو بڑھتی ہوئی کشیدگی، عدم اعتماد اور سیاسی ناکامیوں کے ایک المناک سلسلے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ٹوٹ جائے تو اس کے نتائج صرف ایک نسل نہیں بلکہ کئی نسلیں بھگتتی ہیں۔
آج بھی مختلف سکھ تنظیمیں انصاف، جوابدہی اور اپنے سیاسی و مذہبی حقوق کے مطالبات اٹھا رہی ہیں۔ دنیا بھر میں موجود سکھ جون 1984 کے واقعات کو یاد کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس موضوع کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح سکھ کسانوں کی حالیہ تحریکوں نے بھی عالمی توجہ حاصل کی اور یہ ظاہر کیا کہ سکھ برادری کے بعض حلقوں میں شکایات اور تحفظات اب بھی موجود ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بھارت میں ماضی کے متنازع واقعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، متاثرین کی آواز سنی جائے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف صرف عدالتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اجتماعی یادداشت اور قومی ضمیر کی آزمائش بھی ہوتا ہے۔
42 برس گزرنے کے باوجود 1984 کا باب مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ گولڈن ٹیمپل آج بھی قائم ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی یادیں اور سوالات بھی زندہ ہیں۔ شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر زخموں کو نہیں بھر سکتی۔ زخم تب ہی مندمل ہوتے ہیں جب سچائی کا اعتراف ہو، انصاف کو جگہ ملے اور ماضی کے دکھوں کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ یہاں یہ کہنا انتہائی ضروری ہے کہ بھارت نے اب تک کشمیریوں کے ساتھ ظلم ڈھانے بند نہیں کیے۔

ٹیگز: