Wed, September 16, 2026

گریٹا تھنبرگ کی اسرائیل پر شدید تنقید، نسل کشی کا الزام لگا دیا

گریٹا تھنبرگ کی اسرائیل پر شدید تنقید، نسل کشی کا الزام لگا دیا

ایتھنز : سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے کہا ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل ایک پوری قوم کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گریٹا اور دوسرے درجنوں کارکن جو گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے اسرائیل کی حراست سے رہا ہو کر یونان پہنچے، وہاں فلسطین کے حامیوں نے ان کا جوشیلہ استقبال کیا۔

گریٹا نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی جاری ہے اور بین الاقوامی ادارے فلسطینیوں کے حق میں کچھ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا نے وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہماری حکومتیں نہیں کر سکیں۔

سوئٹزرلینڈ پہنچنے والے نو کارکنوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکام نے انہیں نیند سے محروم رکھا، کھانے پینے کی چیزیں نہ دیں، مارا پیٹا اور قید میں رکھا۔ ہسپانوی کارکنوں نے بھی بدسلوکی کے الزامات عائد کیے، جنہیں ان کے وکیل نے تفصیل سے بیان کیا۔

سویڈش کارکنوں نے بتایا کہ گریٹا کو زبردستی اسرائیلی پرچم تھامنے پر مجبور کیا گیا، اور انہیں اور دوسروں کو پانی، کھانا اور دوائیں نہیں دی گئیں، ان کا ذاتی سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔

گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کو پہنچنے نہیں دے رہا، جس کی وجہ سے لوگ بھوک اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔

ٹیگز: