ہماری ساری جوانی زندہ باد مردہ باد کرتے ہی گذری ہے لیکن جس طرز کا احتجاج 9 مئی یا اب کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا جا رہا ہے اس طرز کا احتجاج نہ کبھی کیا اور نہ کبھی اس طرح کے احتجاج کے متعلق سوچا۔ پر امن احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے اور اس کی اجازت ہر شہری اور سیاسی جماعت کو ہوتی ہے لیکن پر تشدد احتجاج اور جس طرح کی آڈیو کال کالعدم ایکشن کمیٹی کے ارکان کی میڈیا پر سنی تو اس کے بعد اگر کوئی اس حوالے سے آزادی رائے یا آزادی اظہار پر بھاشن دیں تو اس کی رائے کا کوئی وزن نہیں ہو گا۔ ایکشن کمیٹی کے جتنے بھی مطالبات تھے ان میں سے بیشتر کو بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کم و بیش تمام مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور جن پر فوری عمل ہو سکتا تھا ان پر عمل بھی ہو چکا اور جن پر مختلف وجوہات کی بنا پر کچھ تاخیر ہو سکتی تھی تو ان پر بھی عمل شروع ہو چکا ہے ۔ جس بات پر سب سے زیادہ جھگڑا ہے اور جس پر میڈیا میں بڑی شہ سرخیاں لگ رہی ہیں وہ مہاجرین کی بارہ سیٹیں ہیں ۔ اب اگر نیت نیک ہو اور مقصد ہنگامہ آرائی اور انتشار نہ ہو بلکہ مسائل کا حل ہو تو اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ہے کہ ایک ایسا کام کہ جو آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں ہو سکتا اسے کسی انتظامی حکم سے کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے باوجود بھی کشمیر حکومت نے اس مسئلہ پر آئینی اور قانونی رائے کے لئے آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جنھوں نے حکومت آزاد کشمیر کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے یہی رائے دی کہ آئین میں ترمیم کے بغیر مہاجرین کی بارہ نشستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو چکی ہے اور کسی بھی طریقے سے اگر اس کا اجلاس بلا کر اس طرح کے انتہائی اہم مسئلہ پر اگر ترمیم کروا بھی لی جائے تو اسے کون تسلیم کرے گا اور پھر جب اس اسمبلی کی مدت ختم ہو چکی ہے تو اب یہ حق آنے والی اسمبلی کا ہے کہ عوام جنھیں منتخب کریں اور جن کو مینڈیٹ دیں وہ اگر ان نشستوں کو ختم کرنا چاہیں تو ختم کر دیں اور اگر برقرار رکھنا چاہیں تو تب بھی عوام کے منتخب نمائندوں کی مرضی کے مطابق اس مسئلہ کا حل نکل آئے گا ۔
جیسا کہ کالم کی ابتدا میں عرض کیا کہ پر امن احتجاج ہر سیاسی جماعت اور شہری کا آئینی حق ہے لیکن جس طرح آڈیو لیکس میں ایکشن کمیٹی کے دو ارکان لاشوں کی سیاست پر باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو اس کے بعد کیا انھیں احتجاج کا حق دیا جا سکتا ہے ۔ آج کل لیول پلیئنگ فیلڈ کا بڑا ذکر ہو رہا ہے خاص طور پر گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے بھی اور ہم جیسے لوگ کہ جن کی ساری عمر جمہوریت اور جمہوری اقدار اور آزادی اظہار کے لئے جہدوجہد کرتے گذری ہے اور اس جدو جہد کا مقصد ہی ہر کسی کے ساتھ مساوی سلوک اور برابری کے حقوق تھا لیکن لیول پلیئنگ فیلڈ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ آپ آئینی حقوق کی آڑ میں منفی اور ملک دشمن ہتھکنڈوں کے ذریعے انتشار اور انارکی پھیلانے کی کوشش کریں اور پھر لیول پلیئنگ فیلڈ کا واویلا کر کے کہیں کہ آپ کو کھلی چھوٹ بھی دے دی جائے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا ممکن نہیں ہے ۔ ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور دوسری جانب ملک کی ایک سیاسی جماعت کا رویہ بھی بڑا عجیب ہے ۔ گذشتہ سال مئی میں جب پاک بھارت جنگ ہوئی تو اس جماعت کا سوشل میڈیا ہندوستان کے ساتھ مل کر ہندوستان سے زیادہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا تھا ۔ حکومت پاکستان اگر بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور اگر خیبر پختون خوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن کرتی ہے تو یہ ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ عوام نے ان کی احتجاج کی ہر کال ناکام بنا دی تو اب یہ دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں ۔ یہ اگر وکیلوں کا مسئلہ ہوتا تو ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر لاہور کے ایک نجی کالج میں کسی طالبہ کے ساتھ کسی گارڈ کی زیادتی کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے تو یہ اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود یہ پھر بھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔
26نومبر 2024کو اسلام آباد پر اس جماعت نے جتھے کی شکل میں چڑھائی کی تھی اور حکومت نے اس کو منتشر کر دیا تھا تو اس جماعت نے پروپیگنڈا شروع کر دیا تھا کہ اس کے تین سو سے زیادہ کارکنوں کو مار دیا گیا تو ہم نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ مارنے والے لاشیں بھی اٹھا کر لے گئے لیکن ان کے گھر والے تو موجود ہوں گے تو آپ ان کے لواحقین کو میڈیا کے سامنے لائیں ۔ اب آزاد کشمیر میں احتجاج کے حوالے سے بھی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اسی طرح کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ وہاں اتنے بندے مار دیئے اور لاشیں بھی اٹھا کر لے گئے تو سوال پھر وہی ہے کہ ان کے گھر والے تو موجود ہیں ان کے گھر جا کر تعزیت کریں اور انھیں میڈیا کے سامنے لائیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا اس لئے کہ جھوٹ کے پاﺅں نہیں ہوتے ۔ خدا کا شکر ہے کہ کشمیر کا امن بحال ہو چکا ہے اور ملک دشمن ایجنڈا رکھنے والوں کی تمام سازشیں پہلے بھی ناکام ہوئی تھیں اور اب بھی ناکام ہوں گی ۔