Wed, September 16, 2026

طاقت اور مقبولیت کا قہر

طاقت اور مقبولیت کا قہر

خطا اولادِ آدم کا وصف ہے مگر جب کسی خطاکار کو طاقت و مقبولیت حاصل ہوتی ہے تو نسلِ انسانی پرہی قہربن کر ٹوٹتااور تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتا ہے زمانہ شاہد ہے مقبولیت حاصل ہوتے ہی گمراہ ہوکر حضرت انسان وہ تباہی و بربادی کرتا ہے کہ داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں انسان ہی انسان کا دشمن بن جاتا ہے مقبولیت کا مطلب تو محبت ہے مگر انسان کو یہ خدشہ لاحق ہوجاتا ہے کہ کوئی دوسرا آکر مقبولیت چھین کر خود مقبول نہ ہو جائے انسان کو طاقت مل جائے تو خود کو محفوظ بناتے ہوئے لوگوں کو کچلنے لگتا ہے اِس طاقت و مقبولیت نے دنیا میں وہ قہر ڈھائے ہیں جس کی کوکھ نے جنگوں کو جنم دیا جن کے دوران لاکھوں کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے خامیوں و کوتاہیوں سے سیکھناہی دانشمندی ہے مگر دنیاکی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو انسان کادشمن انسان ہی نظر آتا ہے مملکتوں کی آبادی ورقبے میں اضافے سے طاقت و مقبولیت کی قہر ناکی کووسعت ملی مگر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے فتح کے ہزاروں دعویدارجبکہ شکست لاوارث ہوتی ہے یہ تاریخ کا سبق ہے۔
جدید فرانس کا بانی نپولین بونا پارٹ ایک مقبول اور بہادر آدمی تھا عوام کی محبت کو اُس نے دائمی سمجھ لیا اور کوشش کرنے لگا کہ صرف فرانس ہی کیوں وہ تو سارے یورپ کا شہنشاہ بن سکتا ہے یہ زعم بھی ہو گیا کہ فرانس کی طرح پورے یورپ میں مقبول ہے اسی خود پسندی نے بستیاں اور مملکتیں تاراج کرادیںیورپ کی سربراہی حاصل کرنے کے چکر میں لاکھوں مرد وزن قتل کرا دیئے اور پھر جب انگلینڈ کو مطیع باجگزاربنانے کے سفرکا آغاز کیاتوبڑھتے قدم رُک گئے اِس سفر سے عروج کو زوال نے آ گھیرا۔  بلجیم کے علاقے واٹر لوکے مقام پر شکست ہوئی اور گرفتار ہو کر عمر کے آخری ایام ملک سے دور ایک قیدی کی حیثیت سے بسر کیے اِس طرح لوگوں کو قیدی بنانے کے چکر میں خود ہی قیدی بن گیا فرانس نے اُس کی باقیات لاکر پیرس کے مضافات میں ایک مقبرے میں دفن کررکھی ہیںجہاں راقم نے ہو کا منظر دیکھا عام لوگ تو کُجا سیاحوں کی آمد بھی محدود  ہے ایک مقبول اور بہترین جنگجو نپولین بوناپارٹ تاریخ کاایساکردار ہے جس کی خوبیوں پر خامیاں حاوی ہیں کاش انسان طاقت و مقبولیت کو قہر بنانے سے گریز کرے۔
جان ایف کینڈی کی طاقت و مقبولیت کازمانہ شاہدہے اُسے بھی یقین ہوگیا کہ دنیا کے لیے ناگزیر ہے اور پھر ایک وقت وہ آیا کہ روس کو براہ راست جوہری جنگ کی دھمکی دے دی یہ ایسی دھمکی تھی جس سے دنیا کی تباہی یقینی تھی لیکن کب طاقت و مقبولیت کا پہیہ آگے کی بجائے پیچھے کی طرف گھومنے لگے؟ یہ انسان نہیں جان پاتا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جان ایف کینڈی کو ایسے حالات میں گولی لگی کہ اُس کا سر ایک ناتواں بچے کی مانند اپنی بیوی کی گود میںتھا اور اسی حالت میںدم توڑ دیااورمٹی کی چادر اوڑھ لی توکوئی ہے ایسا دانشمند جوعبرت حاصل کرے ؟مگر تاریخ کا سبق ہے کہ کوئی حکمران تاریخ سے سیکھنے کی کوشش نہیں کرتا تاآنکہ طاقت و مقبولیت چھن جائے ۔
بینجمن نیتن یاہو اسرائیلی وزیرِ اعظم ہے اِسے اپنی مقبولیت بڑھانے کا جنون ہے اُس نے طاقت کے بے جا اظہارکواپنا ہتھیار بنا لیا ہے یہ سفاک شخص انسانوں کے قتل پر فخر کرتا ہے اور جو قتل ہونے سے بچ جائیں اُنھیں بھوک سے مارنے کی کوشش میںہے یہ بے رحم و سفاک شخص اپنے مقاصد کے لیے انسانی خون بہانے پر ذرا شرمسار نہیں، لہو لہو غزہ اِس کے جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ رحم جیسے جذبے سے کوسوں دور ہے یہ مرنے والوں کی تعداد پوچھتا ہے اور پھر ایک خون آشام دیو کی طرح مسلم نسل کشی میں دوبارہ مصروف ہوجاتا ہے لیکن کیا اُس کا اقتدار ہمیشہ رہے گا اور تاریخ اُسے اچھے نام سے یادکرے گی؟ناممکن ۔کچھ بھی تو دائمی نہیں جو دنیا میں آیا ہے ایک روز اُسے جانا ہے تو کیا بہتر نہیں کہ اچھی یادیں چھوڑی جائیں مگر اسے مسلمانوں کاخون بہانا اور مارنا مرغوب ہے، اِس سے طاقت و اختیار کا ہتھیار کب چھنتا ہے نگاہ منتظرہے۔
شیخ حسینہ واجد مسلم ملک بنگلہ دیش کی تین بار وزیرِ اعظم ر ہیں یہ خود بھی مسلمان تھیں اور ملک کی مقبول ترین خاتون کا اعزازبھی رکھتی تھیں یہ اپنی مقبولیت کے حوالے سے بہت حساس ہیں ایک وقت آیا کہ اُسے اپوزیشن جماعتیں خطرہ محسوس ہونے لگیں جس کاتوڑ گرفتار یاںاورپھانسیاں دینا سمجھ لیاگیا مگرجب اپوزیشن جماعتوں پر پابندیاں لگا کر انتخابی عمل سے ہی باہر کیاجانے لگا تو مخالفانہ تحریک زورپکڑنے لگی اِسے پھر بھی عقل نہ آئی ہزاروں افراد کو قتل کرادیا آج عبرت کا نمونہ بنی اِس حال میں بھارتی شہر اگرتلہ میں مقیم ہیں کہ صرف جنونی مودی ہی اُسے دوست تصور کرتا ہے بنگلہ دیش میں نفرت کا یہ عالم ہے کہ اُس کے باپ سے منسوب یادگاریںمٹانے کے ساتھ کرنسی نوٹوں سے تصویر تک ہٹادی گئی ہے اِس لیے ملک میں واپسی کابظاہر اب کوئی راستہ نہیں رہا کیونکہ مخالفانہ تحریک کے دوران ہزاروں بے گناہوں کاقتل ثابت ہو چکا ہے لہٰذا شاید جلاوطنی میں ہی آسودہ خاک ہو ناقسمت ہواگر مقبولیت و طاقت کومثبت مقاصد کے یے استعمال کرتیں تو آج کم از کم انجام کچھ تو بہتر ہوتا۔
بھارت کے نریندرامودی کوکون نہیں جانتا گجرات کے قصاب کے لقب سے معروف اِس شخص کی سیاست مسلم دشمنی ہے یہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لیے ملک سے مسلمانوں ، عیسائیوں، سکھوں، بدھ مت اور نچلی ذاتوں کو ختم کرنا چاہتا ہے یہ انتخاب جیتنے کے لیے مداری کی طرح ہر بار کوئی نیا دائو آزماتا ہے جس کے نتیجے میں اُس کی خامیاں بُھلا کر ہندواکثریت اُسے ووٹ دے دیتی ہے لیکن اِس بار ریاستی انتخابات سے قبل عوام کو کچھ نیا اور منفرد بتانے کی کوشش کی جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میںاپنے اِداروں سے سیاحوں پر حملہ کرایا مزید اشتعال انگیزی یہ کہ پاکستان کی فضائی حدودپا مال کرنا شروع کردیں اِس حرکت کے دو مقاصد تھے اول ہندوئوں کوباور کرانا کہ وہ مسلمانوں پرحملہ آورہے دوم خطے سے بھارتی بالادستی تسلیم کرانا لیکن دونوں مقاصد حاصل نہیں ہوسکے فضائی جھڑپ میں واضح شکست سے اب نہ صرف مودی کا مزید اقتدارمیں رہنا دشوار ہے بلکہ ملک ٹوٹنے کابھی خدشہ ہے اگر یہ جنونی شخص بھلائی کے کام کرتا نفرت پھیلانے کی بجائے ملک میں افہام وتفہیم کی فضا بناتاتو ملک میں ایسے حالات ہرگز نہ ہوتے ایک شکست سے اُس کی مخفی خامیاں بھی اُجاگر ہوئی ہیں اور اب یہ جنونی شخص تاریخ کے اوراق کا ایک بدنما داغ بننے کے قریب ہے۔
 مگر خطااولادِ آدم کاوصف ہے اور جب کسی خطاکار کو طاقت اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے توکسی اور پر نہیں نسل انسانی پر ہی قہر بن کر ٹوٹتااور تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتا ہے۔

ٹیگز: