Wed, September 16, 2026

چینی کی قلت

چینی کی قلت

خبر یہ ہے کہ 5لاکھ ٹن چینی Importکی جا رہی ہے اور جس زر مبادلہ کے ایک ایک ڈالر کے لئے ہم کبھی آئی ایم ایف اور کبھی دوست ممالک کی منتیں کرتے ہیں اسی قیمتی زر مبادلہ سے اس چینی کو Importکیا جا رہا ہے ۔ یہ کیا معاملہ ہے اس پر بات کریں گے لیکن یہ نوبت آئی کیسے اس لئے کہ ہم تو چینی کی پیداوار میں خود کفیل ہیں پہلے اس پر بات کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے چینی کی Exportکی اجازت دی گئی اور یہ کہہ کر دی گئی کہ چینی ملکی ضروریات سے زیادہ ہے اور جتنی زیادہ ہے اتنی حکومت Export کی اجازت دے گی ۔ بڑی اچھی بات تھی کہ اگر Exportہو گی تو ڈالر آئیں گے لیکن اگر چینی ملکی ضروریات سے زیادہ تھی تو تب یہ کام ہونا چاہئے تھا اور اس وقت بہت سے لوگوں نے شور بھی مچایا کہ دیکھ لیں بعد میں کہیں چینی کم نہ پڑ جائے تو اس وقت بار بار عوام کو یقین دہانی کرائی گی کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ایسا ہو گا ۔ چلیں جی چینی Exportہو گئی جنھوں نے کی انھوں نے ظاہر ہے کہ اب لاکھوں کروڑوں کی تو بات ہی نہیں رہی بلکہ اربوں کمائے ہوں گے تو اس وقت جنھوں نے کہا تھا کہ ملکی ضروریات سے زائد چینی باہر بھیجی جا رہی ہے تو اگر یہ بات درست تھی تو اب قلت کیسے ہو گئی ۔ اس قلت کی وجہ سے چینی 185سے200روپے کلو میں بیچی جا رہی ہے ۔ یہ اربوں سے بھی زیادہ کھربوں کی گیم ہے ۔ اندازہ کریں کہ ایک ٹن میں ایک ہزار کلو ہوتے ہیں تو 5لاکھ ٹن میں کتنے کلو ہوں گے اور ہر کلو کو جتنے روپے کلو چینی مہنگی ہوئی ہے اس سے ضرب دیں تو غریب کے پاس جو کیلکولیٹر ہیںان میں تو اتنے Digitہی نہیں ہوتے کہ جواب دے سکیں ۔ یہ گھن چکر ہے اور یہ ہر دور میں ہوتا ہے کہ پہلے چینی Exportکر کے اربوں کمائے جاتے ہیں پھر چینی کی قلت میں چینی کو مہنگا کر کے اربوں کمائے جاتے ہیں اور پھر اسی چینی کوImportکر کے اربوں روپے کمائے جاتے ہیں ۔ آپ کو یاد ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی چینی سکینڈل آیا تھا لیکن آج تک کسی کے خلاف کچھ نہیں ہوا۔ یہ سلسلہ ایسے ہی چلتے رہنا ہے اس وقت تک کہ جب تک اس شوگر مافیا کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور پائین اے کم نئیں جے ہونا۔
اب ہوتا کیا ہے اور یہ شاید معاشیات کا اٹل اصول ہے کہ ایک بار جس چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے وہ مشکل سے ہی کم ہوتی ہے ۔ اس قلت سے پہلے چینی کی قیمت 160روپے فی کلو تھی لیکن یہ بھی معاشیات کا ہی اصول ہے کہ جب رسدکے مقابلے طلب زیادہ ہو گی تو پھر مارکیٹ میں جس کسی بھی چیز کی قلت ہو گی تو اس کے دام لازمی بڑھیں گے اور یہی ہوا ہے کہ اب چینی 180سے200روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے ۔ ہر دور میں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ پہلے ضرورت سے زائد چینی کے نعرے لگا کر اسے Exportکیا جاتا ہے اور پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو اسے دوبارہ Importکیا جاتا ہے چلیں یہ بھی ہو گیا لیکن اب حکومت اتنا تو کر سکتی ہے تو چینی کی قیمت کو ہی کنٹرول کر لے اور بڑھنے نہ دے لیکن یہ بھی نہیں ہو رہا تو اس سے یقینا عوام الناس کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوں گے کہ کہیں یہ سب ملی بھگت تو نہیں اور اگر ایسا نہیں تو نا اہلی تو ہے ۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ چینی دنیا بھر میں غذائی اجناس کا ایک انتہائی اہم اور لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے لہٰذا ہر حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسے شوگر مافیا کے شکنجہ سے آزاد کرا کر عوام تک اس کی رسائی کم نرخوں میں ممکن بنائے اس لئے کہ پاکستان کے 24کروڑ عوام کوئی شوگر کے مریض نہیں ہیں کہ انھیں حکیم نے میٹھے سے منع کیا ہوا ہے ۔ اس کا استعمال ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ کرتے ہیں ۔
 یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں میٹھے پکوان جب بنتے ہیں تو ان میں ظاہر ہے کہ چینی ہی استعمال ہوتی ہے ۔ پاکستان میں چائے سے لے کر کھیر ، زردہ اور انواع و اقسام کی مٹھائیوں تک میں یہی چینی استعمال ہوتی ہے لیکن اب لگتا ہے کہ پاکستان میں لوگ چینی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے شوگر جیسے خاموش قاتل مرض میں مبتلا نہیں ہوں گے بلکہ چینی اور اس سے بنے پکوانوں کی طلب میں جو ٹینشن ہو گی اس سے شوگر کے مریض ہو جائیں گے ۔ بجلی مہنگی ہوئی تولوگوں نے بجلی کے استعمال میںحد درجہ احتیاط کرنا شروع کر دی بلکہ اب تو غریب اور مڈل کلاس دونوں اپنے میٹر کو دیکھتے ہوئے بجلی استعمال کرتے ہیں اور یہ کوئی ازراہ تفنن ذکر نہیں ہو رہا بلکہ لوگ مہنگے ٹیرف سے بچنے کے لئے میٹر پر ریڈنگ کو دیکھ دیکھ کر بجلی کا استعمال کرتے ہیں ۔ حکومت نے پیٹرول مہنگا کیا تو لوگوں نے سفر کرنا کم کر دیا اور اگر لانگ روٹ پر جانا بھی ہوتا ہے تو وہ ذاتی گاڑی کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اب پتا نہیں سچ ہے یا میڈیا سنسنی پھیلا رہا ہے کہ جو چینی Importہو گی اس کی قیمت ڈھائی سو روپے کلو تک پہنچ جائے گی تو اس قیمت پر غریب آدمی زردہ پکا کر کھانے کی عیاشی تو بالکل بھی نہیں کر سکتا بلکہ اب گڑ والے چاول سے ہی دل پشوری کر سکتا ہے تو بجلی ، پیٹرول اور چینی بھی پہنچ سے باہر۔ کر لو جو کرنا ہے ۔

ٹیگز: