آذربائیجان روانگی سے قبل میرا رابطہ آذر بائیجان میں پاکستان کے سفیر محترم قاسم محی الدین صاحب سے ہوا۔ آپ ایک ماہر سفارت کار ہیں۔ آذربائیجان کے ساتھ ساتھ جارجیا میں بھی پاکستان کے سفیر ہیں۔ ماضی میں آپ واشنگٹن ڈی۔سی، کویت اور تہران میں بھی سفارتی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ ہم کسی اجنبی ملک میں جائیں تو راستوں سے متعلق آگاہی حاصل کرنا اور اپنی مطلوبہ جگہوں تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کوئی راہنمائی میسر آجائے تو یہ بڑی سہولت ہے۔ سفیر صاحب کی مہربانی سے مجھے یہ سہولت دستیاب رہی۔ سفارت خانے کے دو شائستہ مزاج افسران عمر فاروق صاحب اور حسنین ارشد صاحب میری راہنمائی کیلئے مجھ سے رابطے میں رہے۔ جس دن مجھے پاکستان سے روانہ ہونا تھا اس دن پیغام موصول ہوا کہ رات کا کھانا پاکستان ہاؤس میں سفیر صاحب کیساتھ ہے۔ لاہور سے آپ محض چار،ساڑھے چار گھنٹے میں باکو پہنچ جاتے ہیں۔ باکو میں اپنے ہوٹل پہنچنے کے بعد میں نے کچھ دیر آرام کیا۔ شام میں وقت مقررہ پر سفارت خانے کی گاڑی مجھے لینے کے لئے آ گئی۔ حسنین ارشد صاحب گاڑی آنے سے پہلے ہوٹل کی لابی میں موجود تھے۔ پتہ چلا کہ ان کا فلیٹ سڑک کے دوسری طرف واقع ہے۔ میں نے ان سے آذر بائیجان میں پاکستانی کمیونٹی کے بارے میں کچھ معلومات لیں۔ تعلیمی مواقع سے متعلق پوچھا۔ کمیونٹی کو درپیش مسائل دریافت کئے۔ عرض کیا کہ ہم جس ملک میں جائیں وہاں پاکستان کے سفارت خانے کے متعلق پاکستانی کمیونٹی کا تاثر اچھا نہیں ہوتا۔ شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ سفارت خانے کا عملہ پاکستانیوں سے رابطہ نہیں رکھتا۔ ان کے چھوٹے بڑے کاموں اور مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں لیتا۔ حسنین صاحب کہنے لگے کہ آپ یہاں لوگوں سے ملیں اور ان سے پوچھیں کہ ہم کس طرح out of the way جا کر پاکستانیوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ البتہ جو معاملات ہمارے بس میں نہیں ہوتے، ان کو حل کرنے سے ہم قاصر ہیں۔
چند منٹ سفر کے بعد گاڑی ایک خوبصورت کالونی میں داخل ہوگئی۔ یہاں پاکستان ہاؤس واقع ہے۔ مطلب وہ گھر جہاں پاکستان کا سفیر رہائش پذیر ہوتا ہے۔ اس کالونی میں دوسرے ممالک کے سفراء کے گھر بھی ہیں۔ گاڑی ایک خوبصورت سفید گھر کے باہر جا رکی۔ گھر میں داخل ہوئی تو سفیر صاحب اور ان کی بیگم نے خوش آمدید کہا۔ پاکستان کے ایک اہم تفتیشی اور تحقیقاتی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر بھی کھانے پر مدعو تھے۔ وہ ایک سرکاری دورے پر باکو آئے تھے۔ قاسم محی الدین بالکل ایسے تھے جیسے پاکستان کے سفیر کو ہونا چاہیے۔ وہ پاکستان اور آذربائیجان کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کے متعلق بات کرتے رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارت کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی تھی۔اس تنازعے میں آذربائیجان نے اپنا سفارتی وزن پاکستان کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔ میں نے کہا کہ آذربائیجان کی حمایت کے حصول میں پاکستان کا سفارت خانہ مبارک باد کا مستحق ہے۔ سفیر صاحب نے اس سفارتی حمایت کا کریڈٹ لینے سے گریز کیا۔ کہنے لگے کہ پاکستان اور آذربائیجان نے ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے ۔ ماضی میں نگورنو کاراباخ کے تنازعے پر پاکستان نے آرمینیا کے مقابلے میں ہمیشہ آذر بائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ اس حمایت کے لئے یہ لوگ پاکستان کے احسان مند ہیں اور پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں آپ کو آذربائیجان کے جھنڈے کے علاوہ ترکی اور پاکستان کے جھنڈے دیکھنے کو ملیں گے۔ میں نے کہا کہ سنا ہے کہ اس حمایت کی وجہ سے بھارت نے آذربائیجان کا سیاحتی بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ایک ماہر سفارت کار کی طرح انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیںتو بس آذربائیجان کی پاکستان کیلئے حمایت کا ذکر کرنا چاہیے۔ بھارت کیا کرتا ہے ، کیا نہیں، اس سے ہمارا کیا تعلق۔
سفیر صاحب نے بتایا کہ جنگ کے دنوں میں آذربائیجانی میڈیا پر بھارت کا موقف تو پیش ہوتا رہا ، تاہم پاکستان کا نقطہ نظر غائب تھا۔ کہنے لگے کہ میں نے اس پر اپنے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کیا۔ پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں اور خارجہ امور کے ماہرین کا نام لے کر کہنے لگے کہ ان کا رابطہ یہاں کے ٹیلی ویژن چینلوں سے کرایا۔ اس طرح پاکستان کا موقف بھی یہاں کے میڈیا نے نشر ہوا۔
یہاں اس بات کا ذکر نہایت ضروری ہے کہ پاکستان سے باکو کیلئے پی۔آئی۔ اے کی براہ راست پرواز کا آغا ز ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ سفیر محترم قاسم محی الدین نے اس ضمن میں کافی محنت اور کوششیں کیں۔ میں ذاتی طور پر جانتی ہوں کہ انہیں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خود پی۔ آئی۔ اے انتظامیہ نے بھی کچھ خاص گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اندازہ کیجئے کہ آخری وقت میں لینڈنگ رائٹس کا مسئلہ بھی درپیش رہا۔ جسے نہایت محنت سے حل کیا گیا۔جب ہماری گفتگو میں پی۔ آئی۔ اے کی فلائٹ کے آغاز کا ذکر ہوا تو سفیر صاحب کہنے لگے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور تحرک سے اس فلائٹ کا آغا ز ہوا ، بصورت دیگر یہ کام ناممکن تھا۔ میں نے انہیں پی۔ آئی۔ اے کی ناقص سروس اور دگرگوں صورتحال سے آگاہ کیا اور گزارش کی کہ اس جانب بھی توجہ مبذول ہونی چاہیے۔
دوران ملاقات میں نے مشاہدہ کیا کہ سفیر صاحب مختلف کاموں اور کامیابیوں کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے کسی نہ کسی سے منسوب کرتے رہے۔ آخر میں نے ان سے یہ بات کہہ ڈالی۔ وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے بڑوںسے سیکھا ہے کہ لو پروفائل میں اور پیچھے رہ کر کام کرنا اچھا ہوتا ہے۔یہ بات سن کر میں نے سوچا کہ چلیں low profileمیں رہ کر کام کرنا تو مجھے بھی ذاتی طور پر پسند ہے ، تاہم اپنا کریڈٹ کسی دوسرے کی جھولی میں ڈال دینا بہرحال ایک نہایت مشکل کام ہے۔
سفیر صاحب کی بیگم ایک سادہ گھریلو خاتون دکھائی دیں۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کہ یہ سفارت خانے کی کوئی اہلکار ہیں۔میرے پوچھنے پر بیگم صاحبہ نے شاپنگ کی کچھ جگہوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے نہایت پر تکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔میز پر کئی طرح کے پکوان موجود تھے۔ بیگم صاحبہ کہنے لگیں کہ یہاں کی لسی بہت اچھی ہے ،وہ ضرور لیجئے۔ یہ نمکین لسی واقعتا نہایت مزیدار تھی۔ دودھ دہی کی بنی گاڑھی لسی جس میں باریک پودینہ کٹا ہوا تھا۔ اس کے بعد جتنے دن میں باکو میں رہی، ہر کھانے کے ساتھ لسی جسے وہاں آئران کہتے ہیں، پیتی رہی۔
کھانے کی میز پر پاکستان کے میڈیا ، سیاست ، معیشت وغیرہ پر بات ہوتی رہی۔ کھانے کے بعد میٹھے اور چائے کا دور چلا۔میرے پوچھنے پر سفیر صاحب نے بتایا کہ خواتین کیلئے یہ نہایت محفوظ ملک ہے۔ آپ یہاں گھومیں پھریں۔سیرو تفریح کریں۔ کھانے کھائیں۔ شاپنگ کریں۔ کہنے لگے کہ اولڈ سٹی ضرور جائیں۔تاہم سونا خریدتے وقت احتیاط کریں۔ یہاں بسا اوقات فراڈ کے واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔انہوں نے مجھے خاص طور پر نصیحت کی کہ یہاں سیاست پر بات کرنے سے گریز کریں۔سیاسی گفتگو میں ان کے صدر اور لیڈر کی تعریف تک محدود رہیں۔ تاہم میں نے سفیر صاحب کی اس بات پر کان نہیں دھرے۔ اپنی دلچسپی کے پیش نظر میں پروفیسروں اور نوجوان طالب علموں سے اس موضوع پر بات کرتی رہی۔ سفیر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ یہاں کا مذہب اسلام ہے تاہم یہ ایک ڈیکلیئرڈ سیکولر ریاست ہے۔
یہ ملاقات نہایت اچھی رہی۔ دو اڑھائی گھنٹے کے بعد میں یہاں سے رخصت ہو گئی۔ اگلے دن سفیر صاحب اور ان کے عملے کو کاراباخ روانہ ہونا تھا ۔لاچین شہر میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر تشریف لا رہے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو آذربائیجان کے صدر الہام علییوف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کیساتھ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ دو دن بعد موبائل پر سفیر صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے ہماری دوبارہ ملاقات نہیں ہو سکے گی ، تاہم کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے۔میں ان کی مہمان نوازی پر نہایت شکر گزار تھی۔ چند دن بعد مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس اجلاس میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ تینوں ملکوں نے دفاع اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔ یقینا اس کامیابی کا کریڈٹ آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر اور سفارت خانے کو بھی جاتا ہے۔