پاکستان میں، خصوصاً پنجاب میں، تعلیمی اداروں کا منظرنامہ خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں بدل چکا ہے۔ سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک، کلاس رومز میں لڑکیوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کئی شعبوں میں تو یہ تعداد لڑکوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میڈیکل کالجز، سوشل سائنسز، میڈیا اسٹڈیز اور اب تو سول سروس اور پولیس جیسے شعبے بھی اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں۔ لاہور میں خواتین ایس ایس پیز اور ڈی ایس پیز کی تعیناتی محض علامتی خبر نہیں بلکہ ایک سماجی تبدیلی کا اعلان ہے جو چند دہائیاں پہلے ناقابلِ تصور سمجھی جاتی تھی۔یہ پیش رفت خوش آئند ہے اور اس پر کسی وضاحت یا معذرت کی ضرورت نہیں۔ تعلیم تک خواتین کی بڑھتی ہوئی رسائی، ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے ترقی کی علامت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں دہائیوں تک لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی گئی، وہاں آج یہ منظر خود ایک سماجی بیانیہ بن چکا ہے۔ مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ سوال یہ نہیں کہ خواتین آگے کیوں آ رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس پیش رفت کی قیمت کون ادا کر رہا ہے اور کیا ہم اس قیمت پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں؟۔
اعداد و شمار تصویر کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں مجموعی شرحِ خواندگی اب تقریباً ساٹھ فیصد سے کچھ اوپر ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی خواتین کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے مگر یہ فرق نوجوان نسل میں بتدریج کم ہو رہا ہے۔ پنجاب میں شرح خواندگی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے اور شہری علاقوں میں خواتین کی تعلیمی شمولیت خاص طور پر نمایاں ہے۔ یونیورسٹی سطح پر داخلوں میں کئی شعبوں میں لڑکیاں اکثریت میں ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں مگر یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ تعداد اور اختیار ایک جیسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ کسی ادارے میں خواتین کی موجودگی اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ادارہ خواتین کے لیے محفوظ، منصفانہ یا سہل ہو گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی تعلیم میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر ادارہ جاتی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے جو پہلے تھا یعنی مردانہ، سخت، غیر لچکدار، جذباتی، جسمانی اور نفسیاتی ضروریات سے بے پرواہ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پیش رفت خواتین کے لیے ایک نئے دباو¿ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھائے، خود کو ثابت کرے، کسی رعایت کا مطالبہ نہ کرے اور ساتھ ہی ساتھ سماجی کرداروں کو بھی بغیر سوال پورا کرے۔ کام کی جگہ پر وہ پروفیشنل ہو، گھر میں مثالی اور دونوں کے بیچ کہیں بھی کمزور دکھائی نہ دے۔ یہ دباو¿ مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ، خاص طور پر ورکنگ خواتین کے حصے میں آتا ہے اور یہی دباو¿ خاموشی سے خواتین کو ذہنی تھکن، اضطراب اور Burnout کی طرف دھکیل رہا ہے۔پولیس، ایڈمنسٹریشن اور دیگر سخت شعبوں میں خواتین کی تعیناتی بلاشبہ ایک بڑی تبدیلی ہے مگر ان شعبوں کا اندرونی ماحول آج بھی خواتین کے لیے سازگار نہیں۔ غیر متوقع اوقات، سیکیورٹی خدشات، تبادلوں کا غیر شفاف نظام اور ہراسمنٹ جیسے مسائل محض افواہیں نہیں بلکہ تسلیم شدہ حقائق ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ان مسائل کو "قیمت" کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جیسے کامیابی کے ساتھ یہ سب جھیلنا لازم ہو۔
ایک اور پہلو جس پر کم بات کی جاتی ہے، وہ مردوں کی تعلیمی پسماندگی ہے۔ لڑکوں کی بڑی تعداد سکول اور کالج کی سطح پر تعلیم چھوڑ رہی ہے۔ اس کی وجوہات میں معاشی دباو¿، جلد روزگار کی تلاش اور تعلیمی نظام سے بیگانگی شامل ہیں۔ مگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اسے اکثر خواتین کی کامیابی کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے، جیسے یہ ایک صفر جمع صفر کا کھیل ہو۔ یہ رویہ نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ خطرناک بھی۔
یہ صنفی جنگ نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کا سوال ہے۔ اگر لڑکے تعلیم سے باہر ہو رہے ہیں تو یہ اس نظام کی ناکامی ہے جو انہیں تعلیم سے جوڑ کر نہیں رکھ سکا۔ اگر لڑکیاں تعلیم میں آگے بڑھ رہی ہیں مگر تحفظ، سہولت اور ذہنی سکون سے محروم ہیں تو یہ بھی اسی نظام کی کمزوری ہے۔ مسئلہ کسی ایک صنف کا نہیں، مسئلہ اس ڈھانچے کا ہے جو عام شہریوں کو ترجیح دیتا ہے۔یہاں مذہب یا ثقافت کا سہارا لے کر بحث کو الجھانا غیر ضروری ہے۔ عورت کا تعلیم حاصل کرنا، کام کرنا یا بااختیار ہونا مسئلہ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا معاشرہ اور ریاست اس عورت کو تحفظ، احترام اور سہولت دینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کامیابی کا یہ سفر یک طرفہ ہے، متوازن نہیں۔
یہ دو متوازی پاکستان ہیں۔ ایک وہ جو تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں خواتین ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور پروفیسر بن کر معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ دوسرا وہ پاکستان ہے جو ابھی تک بنیادی ضرورتوں کے لیے ترس رہا ہے، جہاں ایک عام لڑکی کی تعلیمی منزل محض پانچویں جماعت تک محدود ہے۔ اگر ہمیں واقعی ترقی کرنی ہے تو ہمیں اس خلیج کو پاٹنے پر توجہ دینی ہوگی۔ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں کی تعمیر، خواتین اساتذہ کی تربیت و بھرتی اور پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، یہ وہ بنیادی اقدامات ہیں جن سے ہم صرف اعداد نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اپنی نصف آبادی کو بااختیار بنا سکتے ہیں۔
تعلیم محض کاغذ پر اچھے نمبروں کا نام نہیں، یہ سوچنے، سمجھنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ صلاحیت ہر لڑکی کا پیدائشی حق ہے، خواہ وہ کسی شہر کے پرتعیش محلے میں پیدا ہو یا کسی دور دراز گاو¿ں کے کچے مکان میں۔
پاکستان اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستان بطور ریاست اور بطور سماج ابھی زیرِ تعمیر ہے۔ اسی لیے یہ بار بار نئے تجربات سے گزرتا ہے۔ اس زیرِ تعمیر ملک اور معاشرے میں خواتین تعلیم میں آگے بڑھ رہی ہیں مگر نظام ابھی پیچھے کھڑا ہے۔ اگر اس خلا کو نہ پ±ر کیا گیا تو یہ پیش رفت مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کرے گی۔ تعلیم یافتہ مگر تھکی ہوئی، باصلاحیت مگر غیر محفوظ اور نمائندگی رکھنے والی مگر اختیار سے محروم خواتین یہ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتیں۔اصل سوال اب یہ نہیں کہ خواتین کہاں تک پہنچ گئی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے اداروں، پالیسیوں اور سماجی رویّوں کو اس تبدیلی کے قابل بنایا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ کامیابی محض اعداد و شمار تک محدود رہے گی حقداروں تک نہیں پہنچ پائے گی۔